" کونسی چیز دوزخ لے گئی؟ "
سورہ المدثر میں فرمایا کہ جب دوزخ میں جانے والوں سے بہشت والے پوچھیں گے کہ تمہیں کونسی چیز دوزخ میں لے گئی تو وہ کہیں گے ۔
"نہ ہم نماز پڑھا کرتے تھے "
"نہ فقیر کو کھانا کھلاتے تھے ،"
"ہم بھی باتیں بنانے والوں کے ساتھ باتیں بنانے لگتے تھے "
"اور ہم لوگ قیامت کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے "
"یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی "
نماز کی اہمیت سے ہر مسلمان اگاہ ہے ۔ کہ ارکان اسلام میں اور عبادات میں نماز کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ وہ واحد رابطہ ہے جو دن میں پانچ بار براہ راست اللہ سے کرنے کی تاکید ہے ۔ جو شخص اللہ کے سامنے حاضر ہونے میں تامل یا تساہل کرتا ہے ،
وہ براہ راست اللہ کے حکم سے سرکشی کا مرتکب ہو جاتا ہے ۔ نماز سے فرار کے بعد , اسکی تمام اطاعت و ریاضت بے معنی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دوزخ میں جانے والے اس کا اقرار کریں گے کہ وہ نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ گویا وہ اللہ کے نافرمان اور سرکش تھے ۔ اللہ کے اس اہم حکم کی سرتابی کرتے تھے ۔
دوزخ میں جانے کی دوسری وجہ کسی بھوکے سوالی کو اہمیت نہ دینا ہے ۔ ہمارے معمولات زندگی میں اکثر مشاہدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مانگنے والا " روٹی " کیلئے سوال کرتا ہے تو ہم پہلے اسکا بخوبی جائزہ لیتے ہیں ، پھر اسے کئی القاب سے نوازتے ہیں ، پھر اسے " ہٹا کٹا " کہہ کر دھتکار دیتے ہیں ۔ از خود فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ مانگنے والا مستحق ہے یا نہیں ۔ مگر یہ معمولی سی لغزش دوزخ کا راستہ ہے ۔ دوسری دو وجوہ جن کا اقرار دوزخ والے کر رہے ہیں کہ وہ احکامات ربی ، ہدایت کیلئے مبعوث ہونے والے انبیاء ، صالحین اور اللہ کے دین کو پھیلانے والوں سے بحث و تمحیص میں الجھے رہنا ہے ۔ طرح طرح کے موضوع تلاش کرنا اور دین سے انحراف کی وجوہ ڈھونڈھنے والوں کے ساتھ مل جانا ۔ جزا اور سزا کے دن کو صرف بے وجہ کی کہانی سمجھنا ۔ یہ وہ سب کچھ ہے جو آج ہمارے ارد گرد معمول بن چکا ہے ۔ دین کی بات کرنے والوں سے بلا وجہ کی بحث چھیڑ کر بیٹھ جانا ، قابلیت تصور ہونے لگی ہے ۔ پھر اسی زعم میں ہوش آنے سے پہلے موت آ جاتی ہے اور دنیا کے فلاسفر دوزخ کا سارا سامان باندھ کر رخصت ہو جاتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
۵ اکتوبر ٢٠١٩
Saturday, 5 October 2019
کونسی چیز دوزخ لے گئی؟ "
Friday, 4 October 2019
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٤ )
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٤ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے امت محمدیہؐ پر ایک احسان تو یہ فرمایا کہ اپنے سب سے پیارے محبوب کو ہدایت کیلئے رسول بنا کر بھیجا ، دوسرا احسان یہ فرمایا کہ نہایت عام فہم اور بلیغ ضابطہ حیات قرآن کی شکل میں عطا کیا کہ ہماری رہنمائی اسی راستے پر ہو جو اللہ چاہتا ہے اور تیسرا احسان یہ فرمایا کہ اس بلیغ ضابطہ حیات کی حفاظت اپنے ذمہ رکھی تاکہ پہلی کتابوں کیطرح تحریف و تخفیف نہ ہونے پائے ۔
ہم نے ان تمام احسانات کو اسطرح دیکھا ہی نہیں جو اسکا حق تھا ۔ چند عبادات کو پورا کر لینے کو ہی مکمل دین سمجھ لیا ۔ ایک عام فہم مسلمان ہی نہیں بلکہ عالم فاضل بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر نماز کی باقاعدہ ادائیگی ہوتی رہے ، حج کا فریضہ ادا کر لیں تو بس بخشش کے سارے تقاضے پورے ہو گئے ۔ سورہ المعارج میں نماز کی درست ادائیگی کرنے والوں کا تذکرہ اسی لئے فرمایا کہ مسلمان غافل نہ رہیں کہ اصل اور حقیقی نماز پڑھنے والوں کے اوصاف کیا ہوتے ہیں ۔
انہی اوصاف میں فرمایا
"اور وہ لوگ کہ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے وعدہ کا خیال رکھتے ہیں "
امانت کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ کسی نے آپ کے پاس مال و زر رکھا دیا اور آپ نے اسے من و عن واپس کیا ۔ تو امانتداری کا تقاضا پورا ہوگیا ۔ بلکہ ہر وہ ذمہ داری جو آپ پر لازم ہے اسکو بعینہ پورا کرنا امانت داری میں آتا ہے ۔ کسی کا حق تلف کرنا ، خیانت ہے خواہ وہ حق کسی بھی زمرے میں آتا ہو ۔ اگر کوئی شخص کہیں ملازم ہے اور وہ اپنے فرائض ملازمت احسن طریقے سے ادا نہیں کرتا تو وہ امانت دار نہیں بلکہ خائن ہے ۔ نماز میں چونکہ حاضری ہوتی ہے اللہ کے سامنے تو خیانت کیصورت میں اللہ کے سامنے جانے سے خوف آنا ، حقیقی نمازی کی صفت ہے ۔ ایک اور صفت بیان فرمائی گئی کہ جب ان سے کوئی گواہی طلب کی جاتی ہے تو
"اور جو ٹھیک ٹھیک گواہی دیتے ہیں "
کیونکہ گواہی میں جھول یا مصلحت کے تحت ردوبدل بھی خیانت ہی ہے ۔ مزید فرمایا
"نیز اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں "
پابندی سے مراد وقت پر ادائیگی بھی اور اس طرح نماز پڑھنا بھی شامل ہے ، جسطرح گذشتہ آیات میں فرمایا گیا ، جسطرح قرآن میں بیان ہوا اور جو اسوہ حسنہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ اکتوبر ٢٠١٩
Wednesday, 2 October 2019
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٣ )
" اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٣ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی اور درست نماز پڑھنے والوں کے خصائل کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے ۔ تاکہ کوئی ابہام میں نہ رہے کہ اس نے نماز کا فرض ادا کر دیا ہے تو یہ کافی ہے ۔ حقیقی نمازیوں کی نشانیاں واضع کرتے ہوئے سورہ المعارج میں فرمایا۔
" اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ،سوائے اپنی بیویوں یا باندیوں کے کہ کوئی ملامت نہیں ۔
البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور کا طلب گار ہو تو وہی لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں "
اگر انسان پر شہوانی خواہشات کا غلبہ ہو جائے تو حیوانی جبلت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یہی شیطان چاہتا ہے کہ انسان پر شہوانیت کا غلبہ کرا دے ۔ پھر وہ جو بھی عبادت کرے گا ، اسکا حق ادا نہیں کر پائے گا ۔ اس آیت میں بظاہر تخاطب صرف مرد حضرات ہیں کیونکہ بیویوں اور باندیوں کی شرط شامل ہے ۔ مگر جب نماز یا کسی بھی عبادت کا ذکر ہو گا تو اس میں خواتین بھی مذکور ہوتی ہیں ۔ جب
" شرمگاہوں کی حفاظت " کی شرط شامل ہے تو یہ بعینہ عورتوں پر بھی ہے ۔ اب عورت کو چونکہ ایک وقت میں ایک مرد کے عقد تک محدود کیا گیا ہے ۔ جبکہ مرد کو اجازت مختلف ہے ۔ اسلئے آیت کے دوسرے حصے میں مردوں کو تخصیص سے اگاہ فرما دیا گیا ہے کہ انکی حدود کیا ہیں ۔
شرمگاہوں کی حفاظت سے مراد یہ بھی ہے کہ کوئی ایسا حصہ کھلا نہ رکھا جائے جو مخالف صنف کو گناہ کی دعوت دے ۔ عورتوں اور مردوں کے آزاد اختلاط اور لباس کا معقول خیال نہ رکھا جانا ، مخالف صنف کی بر انگیختی کا سبب ہو سکتی ہے ۔ خصوصی طور پر عورتوں کے اعضاء کا ظاہر ہونا بھی جائز تصور نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ بھی شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے کے ذمرے ہی میں آئے گا ۔ اسلئے صالح طریقے سے نماز کی ادائیگی ان تمام حدود کا خیال رکھنے سے مشروط کر دی گئی کہ جن سے کوئی بھی شہوانی رغبت کا باعث بن سکے ۔
زنا ایک کبیرہ گناہ ہے ، اور جو شخص کبیرہ گناہ سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اسکے لئے کسی ایک فرض کی ادائیگی قطعی بے معنی ہے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢ اکتوبر ٢٠١٩
Monday, 30 September 2019
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٢ )
" اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٢ )
حقحقی نمازیوں کے جو اوصاف سورہ المعارج میں بیان ہوئے ہیں ، ان میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مزید بیان فرمائے ہیں ۔
"اور جو قیامت کے دن کا یقین رکھتے ہیں "
قیامت پہ یقین رکھنے سے صرف یہی مراد نہیں کہ قیامت کو ایک روز آنا ہے ۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے مگر یہاں یہ مراد ہے کہ قیامت کے بعد کیا ہوگا ؟ روز جزا پر " مالک یوم الدین " کے سامنے حاضری ہو گی ۔ ہر نفس کے اعمال کا حساب ہو گا ۔ جب یہ یقین ہو جائے تو نماز میں حاضری کے وقت طاری ہونے والی کیفیت قطعی مختلف ہوگی ۔ صرف رکوع و سجود کافی نہیں ہونگے بلکہ اپنا نامہ اعمال سامنے ہوگا ۔ اللہ کے جلال اور کبریائی کے سامنے سجدوں پر تفاخر نہیں ہوگا ۔ ایسے میں ایک ایک ایک لفظ جو ادا ہوگا ، وہ پورے ادراک سے ہو گا ۔ اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب حقیقی نمازی ، رکوع و سجود میں ہوتے ہیں تو انکی کیفیت عام نمازی سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ وہ ہر لفظ گڑگڑا کے ادا کرتا ہے ۔ دنیا بھول چکی ہوتی ہے ۔ روایت ہے کہ جب حضرت علیؑ نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو انکے بدن میں لرزہ طاری ہوتا ، رنگ زردی مائل ہو جایا کرتا اور ہونٹ کپکپانے لگتے تھے ۔ اللہ کے جلال کا خوف طاری ہوتا ۔ ایسی کی کیفیت کئی ایک صحابہؓ پر ہوا کرتی تھی ۔ اس کیفیت کو مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ۔
"نیز اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، یقیناً آپ کے پروردگار کا عذاب ایسا نہیں ہے جس سے بے خوف ہوجایا جائے "
اللہ قادر مطلق ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے ۔ در گذر بھی فرماتا ہے اور معاف بھی کرتا ہے ۔ اس زعم میں رہ کر عبادت کا حق ادا نہ کرنا ، کسی طور دانشمندی نہیں ۔ کون جانے کہ ہمارا کونسا عمل ، جسے ہم بخشش سمجھ کر ادا کرتے ہیں ۔ اسکے ہاں قبول بھی ہوا کہ نہیں ۔ کیا معلوم کہ اسکی رحمت سے زیادہ ہم اسکی پکڑ کے مورد بن جائیں ۔ روایت ہے کہ وصال سے کچھ عرصہ پہلے سرور کائنات حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے " استغفار " میں شدت اختیار کر رکھی تھی ۔ یہ تصور بھی گناہ کبیرہ اور کفر ہے کہ نبیؐ سے کوئی خطا تو بہت بڑی بات ہے کہ کوئی چوک بھی ہو جائے ۔ مگر اس کے باوجود اسقدر استغفار کا دہرانا ، ہماری رہنمائی ہے ۔ کہ عبادت و ریاضت کے کسی بھی درجے پہ کیوں نہ ہوں ۔ اللہ کا خوف دل میں قائم رہنا چاہئیے اور کسی بھی عبادت کو کافی نہیں سمجھ لینا چاہئے ۔ اسی کیفیت کو ان آیات میں بیان فرمایا گیا ہے کہ حقیقی نمازی ہر وقت اسی کیفیت میں رہتے ہیں اور رکوع سجود کے وقت یہ کیفیت مزید طاری ہو جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٣٠ ستمبر ٢٠١٩
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ " (١)
" اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ " (١)
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ المعارج میں حقیقی نمازیوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں ۔
پہلا وصف جو بیان فرمایا وہ یہ ہے
"کہ وہ ہمیشہ اپنی نماز پر متوجہ رہتے ہیں "
نماز ، اپنے رب کے ساتھ براہ راست رابطے کا عمل ہے ۔ دن میں پانچ بار فرضیت اور قرآن پاک میں بار بار تاکید اسی لئے ہوئی کہ بندہ اپنے خالق سے قریب تر ہو جائے ۔ نماز کی ادائیگی میں اس انہماک کا ہونا ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کے وقت دوسرے تمام معاملات ، خیالات ، وسوسے اور سوچیں دور رکھ دی جائیں اور جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے رکوع و سجود میں رہیں اپنی تمام تر توجہ نماز پر ہو ۔ ایسی نماز جو فرض سمجھ کر بغیر انہماک کے ادا کی جاتی ہے ، فرض کی ادائیگی تو ہو جاتی ہے مگر ان ثمرات سے خالی رہ جاتی ہے جو اللہ اپنے بندے کو دینا چاہتا ہے ۔ اپنے پسندیدہ نمازیوں کی اسی کیفیت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ انکی تمام تر توجہ نماز کی اہمیت کے مطابق ہوتی ہے ۔ صرف فرض کو نبھانا مقصود نہیں ہوتا ۔
دوسری کیفیت کو بیان فرمایا کہ
" اور جن کے مال میں سوال کرنے والے اور محتاجوں کا مقررہ حصہ ہوتا ہے "
نماز کی تاکید کے ساتھ زکوٰة کی تاکید بھی فرمائی گئی ہے ۔ وہ لوگ جن کو اللہ نے وسائل میں کشائش دے رکھی ہے ۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نماز کی فرضیت کو پورا کر لینے سے رب کی رضا کے کما حقہُ حقدار ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے تخصیص فرما دی کہ اسکی نظر میں اصل نمازی وہ ہے جو ہر سوال کرنے والے کی حاجت روائی بھی کرتے ہیں ۔ اور ایسے محتاجوں سے بھی بے خبر نہیں رہتے جو سوال نہیں کرتے ۔ با جماعت نمازوں کی تاکید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر نمازی اپنے قرب و جوار میں ہر ضرورت مند سے با خبر رہے ۔ اور نماز کی معراج یہی ہے کہ وہ اپنے وسائل میں باقاعدہ ضرورت مندوں کا حصہ رکھیں ۔
ہم نے نماز کو اس کے مقصد کے تناظر میں دیکھا ہی نہیں ۔ اگر وہ مقصد سمجھ آ جاتا تو جنت بھی ملتی ، اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ، شیطان کی ہر چال ناکام ہوتی ، حرص اور ہوس غالب نہ آتی اور معاشرتی برائیاں از خود دم توڑ دیتیں ۔ اللہ کے ہاں پسند کئے جانے والے نمازی کے اور بھی شرائط مذکور ہیں ۔۔
۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٩ ستمبر ٢٠١٩