Friday, 4 October 2019

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٤ )

اِلَّا  الْمُصَلِّیْنَ "( ٤ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے امت محمدیہؐ پر  ایک احسان تو یہ فرمایا کہ اپنے سب سے پیارے محبوب کو ہدایت کیلئے رسول بنا کر بھیجا  ، دوسرا احسان یہ فرمایا کہ نہایت عام فہم اور بلیغ ضابطہ حیات قرآن کی شکل میں عطا کیا کہ ہماری رہنمائی اسی راستے پر ہو جو اللہ چاہتا ہے اور تیسرا احسان یہ فرمایا کہ اس بلیغ ضابطہ حیات کی حفاظت اپنے ذمہ رکھی تاکہ پہلی کتابوں کیطرح تحریف و تخفیف نہ ہونے پائے ۔
ہم نے ان تمام احسانات کو اسطرح دیکھا ہی نہیں جو اسکا حق تھا ۔ چند عبادات کو پورا کر لینے کو ہی مکمل دین سمجھ لیا ۔ ایک عام فہم مسلمان ہی نہیں بلکہ عالم فاضل بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر نماز کی باقاعدہ ادائیگی ہوتی رہے ، حج کا فریضہ ادا کر لیں تو بس بخشش کے سارے تقاضے پورے ہو گئے ۔ سورہ المعارج میں نماز کی درست ادائیگی کرنے والوں کا تذکرہ اسی لئے فرمایا کہ مسلمان غافل نہ رہیں کہ اصل اور حقیقی نماز پڑھنے والوں کے اوصاف کیا ہوتے ہیں ۔
انہی اوصاف میں فرمایا
"اور وہ لوگ کہ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے وعدہ کا خیال رکھتے ہیں "
امانت کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ کسی نے آپ کے پاس مال و زر رکھا دیا اور آپ نے اسے من و عن واپس کیا ۔ تو امانتداری کا تقاضا پورا ہوگیا ۔ بلکہ ہر وہ ذمہ داری جو آپ پر لازم ہے اسکو بعینہ پورا کرنا امانت داری میں آتا ہے ۔ کسی کا حق تلف کرنا ، خیانت ہے خواہ وہ حق کسی بھی زمرے میں آتا ہو ۔ اگر کوئی شخص کہیں ملازم ہے اور وہ اپنے فرائض ملازمت احسن طریقے سے ادا نہیں کرتا تو وہ امانت دار نہیں بلکہ خائن ہے ۔ نماز میں چونکہ حاضری ہوتی ہے اللہ کے سامنے تو خیانت کیصورت میں اللہ کے سامنے جانے سے خوف آنا ، حقیقی نمازی کی صفت ہے ۔ ایک اور صفت بیان فرمائی گئی کہ جب ان سے کوئی گواہی طلب کی جاتی ہے تو
"اور جو ٹھیک ٹھیک گواہی دیتے ہیں "
کیونکہ گواہی میں جھول یا مصلحت کے تحت ردوبدل بھی خیانت ہی ہے ۔ مزید فرمایا
"نیز اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں "
پابندی سے مراد وقت پر ادائیگی بھی اور اس طرح نماز پڑھنا بھی شامل ہے ، جسطرح گذشتہ آیات میں فرمایا گیا ، جسطرح قرآن میں بیان ہوا اور جو اسوہ حسنہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ اکتوبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment