" اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٣ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی اور درست نماز پڑھنے والوں کے خصائل کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے ۔ تاکہ کوئی ابہام میں نہ رہے کہ اس نے نماز کا فرض ادا کر دیا ہے تو یہ کافی ہے ۔ حقیقی نمازیوں کی نشانیاں واضع کرتے ہوئے سورہ المعارج میں فرمایا۔
" اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ،سوائے اپنی بیویوں یا باندیوں کے کہ کوئی ملامت نہیں ۔
البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور کا طلب گار ہو تو وہی لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں "
اگر انسان پر شہوانی خواہشات کا غلبہ ہو جائے تو حیوانی جبلت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یہی شیطان چاہتا ہے کہ انسان پر شہوانیت کا غلبہ کرا دے ۔ پھر وہ جو بھی عبادت کرے گا ، اسکا حق ادا نہیں کر پائے گا ۔ اس آیت میں بظاہر تخاطب صرف مرد حضرات ہیں کیونکہ بیویوں اور باندیوں کی شرط شامل ہے ۔ مگر جب نماز یا کسی بھی عبادت کا ذکر ہو گا تو اس میں خواتین بھی مذکور ہوتی ہیں ۔ جب
" شرمگاہوں کی حفاظت " کی شرط شامل ہے تو یہ بعینہ عورتوں پر بھی ہے ۔ اب عورت کو چونکہ ایک وقت میں ایک مرد کے عقد تک محدود کیا گیا ہے ۔ جبکہ مرد کو اجازت مختلف ہے ۔ اسلئے آیت کے دوسرے حصے میں مردوں کو تخصیص سے اگاہ فرما دیا گیا ہے کہ انکی حدود کیا ہیں ۔
شرمگاہوں کی حفاظت سے مراد یہ بھی ہے کہ کوئی ایسا حصہ کھلا نہ رکھا جائے جو مخالف صنف کو گناہ کی دعوت دے ۔ عورتوں اور مردوں کے آزاد اختلاط اور لباس کا معقول خیال نہ رکھا جانا ، مخالف صنف کی بر انگیختی کا سبب ہو سکتی ہے ۔ خصوصی طور پر عورتوں کے اعضاء کا ظاہر ہونا بھی جائز تصور نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ بھی شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے کے ذمرے ہی میں آئے گا ۔ اسلئے صالح طریقے سے نماز کی ادائیگی ان تمام حدود کا خیال رکھنے سے مشروط کر دی گئی کہ جن سے کوئی بھی شہوانی رغبت کا باعث بن سکے ۔
زنا ایک کبیرہ گناہ ہے ، اور جو شخص کبیرہ گناہ سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اسکے لئے کسی ایک فرض کی ادائیگی قطعی بے معنی ہے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢ اکتوبر ٢٠١٩
Wednesday, 2 October 2019
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٣ )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment