Saturday, 5 October 2019

کونسی چیز دوزخ لے گئی؟ "

" کونسی چیز دوزخ لے گئی؟ "
سورہ المدثر میں فرمایا کہ جب دوزخ میں جانے والوں سے بہشت والے پوچھیں گے  کہ تمہیں کونسی چیز دوزخ میں لے گئی تو وہ کہیں گے ۔
"نہ ہم نماز پڑھا کرتے تھے "
"نہ فقیر کو کھانا کھلاتے تھے ،"
"ہم بھی باتیں بنانے والوں کے ساتھ باتیں بنانے لگتے تھے "
"اور ہم لوگ قیامت کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے "
"یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی "
نماز کی اہمیت سے ہر مسلمان اگاہ ہے ۔ کہ ارکان اسلام میں اور عبادات میں نماز کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ وہ واحد رابطہ ہے جو دن میں پانچ بار براہ راست اللہ سے کرنے کی تاکید ہے ۔ جو شخص اللہ کے سامنے حاضر ہونے میں تامل یا تساہل کرتا ہے ،
وہ براہ راست اللہ کے حکم سے سرکشی کا مرتکب ہو جاتا ہے ۔ نماز سے فرار کے بعد , اسکی تمام اطاعت و ریاضت بے معنی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دوزخ میں جانے والے اس کا اقرار کریں گے کہ وہ نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ گویا وہ اللہ کے نافرمان اور سرکش تھے ۔ اللہ کے اس اہم حکم کی سرتابی کرتے تھے ۔
دوزخ میں جانے کی دوسری وجہ کسی بھوکے سوالی کو اہمیت نہ دینا ہے ۔ ہمارے معمولات زندگی میں اکثر مشاہدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مانگنے والا " روٹی " کیلئے سوال کرتا ہے تو ہم پہلے اسکا بخوبی جائزہ لیتے ہیں ، پھر اسے کئی القاب سے نوازتے ہیں ، پھر اسے " ہٹا کٹا " کہہ کر دھتکار دیتے ہیں ۔ از خود فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ مانگنے والا مستحق ہے یا نہیں ۔ مگر یہ معمولی سی لغزش دوزخ کا راستہ ہے ۔ دوسری دو وجوہ جن کا اقرار دوزخ والے کر رہے ہیں کہ وہ احکامات ربی ، ہدایت کیلئے مبعوث ہونے والے انبیاء ، صالحین اور اللہ کے دین کو پھیلانے والوں سے بحث و تمحیص میں الجھے رہنا ہے ۔ طرح طرح کے موضوع تلاش کرنا اور دین سے انحراف کی وجوہ ڈھونڈھنے والوں کے ساتھ مل جانا ۔ جزا اور سزا کے دن کو صرف بے وجہ کی کہانی سمجھنا  ۔ یہ وہ سب کچھ ہے جو آج ہمارے ارد گرد معمول بن چکا ہے ۔ دین کی بات کرنے والوں سے بلا وجہ کی بحث چھیڑ کر بیٹھ جانا ، قابلیت تصور ہونے لگی ہے ۔ پھر اسی زعم میں ہوش آنے سے پہلے موت آ جاتی ہے اور دنیا کے فلاسفر دوزخ کا سارا سامان باندھ کر رخصت ہو جاتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
۵ اکتوبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment