" ایک بھولا ہوا فرض "
ہم پورا سال , بہت سارے فرائض کا اہتمام بھی کرتے ہیں , شدت سے انتظار بھی اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر مناتے بھی ہیں . خصوصی طور پر وہ فرائض جو دوسروں کو نظر آئیں , زیادہ شد و مد سے منائے جاتے ہیں . حج اور عمرہ پر روانگی سے بہت پہلے دوستوں اور جاننے والوں کو اگاہی دینے لگتے ہیں . حج کے تمام ارکان کو کیمرے میں محفوظ کر لیتے ہیں اور اگلی نماز سے پہلے سوشل میڈیا پہ ڈال دیتے ہیں .
نماز کے خضوع و خشوع کو ماتھے کے محراب سے جوڑ دیتے ہیں ۔ ایک کلو گھی ، دس کلو آٹا اور چند روپے دیتے وقت فوٹو سیشن کا اہتمام کر لیتے ہیں ۔ کسی بیوہ کے سر پر سلائی کی مشین رکھ کر سمجھتے ہیں کہ اس بیچاری پر رزق کے دروازے کھول دئے ہیں ۔ ہم سب فرائض سے اگاہ ہیں ۔ ہمارے علماء بھی نماز کا ثواب ، قربانی کے جانور کا پل صراط سے گزارنے کا ذریعہ ، روزہ کا ثواب تو بتاتے ہیں ۔ شاید کوئی مسلمان ہو گا ، جو اللہ کے انعامات سے اگاہ نہ ہو ۔ اللہ کیطرف سے ہر حکم ، حکمت کا مظہر ہے ۔ اسے اپنانے سے فلاح کی یقینی راہیں کھلتی ہیں ۔ ہمارا ایمان اور یقین کامل ہے ۔
مگر ایک فرض ، جو معیشت کی اساس تھا ۔ جس پر ملت اسلامیہ کی معیشت کو لازمی عروج ملتا ۔ وہ نہ تو علماء نے ازبر کرایا ، نہ محققیں نے ، نہ دانشوروں کی توجہ ادھر گئی ۔ وہ فرض ہے زکوٰة ۔ اڑھائی فیصد زکوٰة ، جس سے نہ قیمتیں متاثر ہوتی ہیں ، نہ غریب کی گردن پر بوجھ اور تجارتی مقابلے میں کامیابی کی ضمانت ، کیونکہ کم ترین قیمت پر اشیاء صرف بازار میں لائی جا سکتی ہیں ۔ آج چھ سو ارب کے اثاثوں کا مالک ، کارو باری کساد بازاری کا بہانہ بنا کر چند ہزار روپے ادا کرتا ہے ۔ اگر زکوٰة دیتا تو ایک خطیر رقم معیشت کا سہارا بنتی ۔
ٹیکس در ٹیکس کا بوجھ غریب ادا کرتا ہے ، جبکہ سرمایہ دار اس سے مزید استفادہ کرتا ہے ۔
ایک عام مسلمان کو تو ان باریکیوں کا علم نہیں ہوتا ، تعجب یہ ہے کہ ہمارے معیشت دان ، مذہبی سکالر ، شیوخ الاسلام اور سیاسی پنڈت اس طرف سے غافل کیوں ہیں ۔ کیا یہ ایک ایسا فرض نہیں ، جسکا ذکر ، نماز کی تاکید کے ساتھ جڑا ہوا ملتا ۔ پھر نماز کے ثواب سے اس کے ثواب کو الگ کیوں کر دیا گیا ۔ یہ اتنا اہم فرض بھول کیسے گیا ۔
ازاد ھاشمی
Saturday, 30 December 2017
ایک بھولا ہوا فرض
تجسس
" تجسس "
اکثر تنہائی میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے اور مجھ سے بے شمار انسانوں کی تخلیق کس لئے کی . میری زندگی کا کیا مقصد تھا . اس دنیا میں ایک عمر گذار لینے کے بعد آخر میں نے کونسا ایسا کام کیا , جس سے انسانیت کو , اللہ کے دین کو اور دنیا کے کو کوئی فائدہ ہوا ہو . عبادت بھی اس خضوع و خشوع سے نہیں کر سکا , جو اللہ کی رضا کے عین مطابق ہوتی . اپنی زندگی کے آخری سفر کا زاد راہ دیکھتا ہوں تو تہی دامن ہوں . ایک امید , ایک یقین کہ رب کی ذات غفور ہے رحیم ہے . بس یہی ایک تشفی ہے جو ڈھارس بندھائے رکھتی ہے . بہت تمنائیں تھیں , اس بچے کیطرح جو پہلی کلاس تو پڑھ نہیں سکا اور ڈگری اعلی تعلیم کی مانگے . اللہ نے جو امتحان ڈالا , پتہ نہیں کہ کامیابی ہوئی بھی کہ نہیں .
عمر کا لمبا سفر , جہاں مہمان کیطرح آیا تھا , ہمیشہ کا سامان باندھنے میں لگا رہا , جہاں لمبا عرصہ قیام کرنا ہے وہاں کیلئے کچھ بھی پلے نہیں باندھا .
تجسس کی کشمکش کہ میری زندگی کا مقصد کیا تھا . اب حساب کرتا ہوں تو ساری ساری رات آنکھوں میں گذر جاتی ہے . حسرت ہوتی ہے ان پر , جن کو اللہ اپنے کسی بڑے مقصد کے ساتھ زندہ رکھتا ہے , جن کو کسی خدمت کیلئے چن لیتا ہے . ان کی قسمت پر رشک کرتا ہوں . تو چند ٹھنڈی سانسوں کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا . نہ جانے منوں مٹی اوڑھنے سے پہلے مجھے اپنی زندگی کا کوئی مقصد سمجھ بھی آئے گا کہ نہیں , نہ جانے مجھ سے کوئی خدمت لی جائے گی کہ نہیں . نہ جانے وہ کیسی دعا ہوتی ہے جو اللہ رد نہیں کرتا . یہ تجسس ایک بے چینی سی بنتا جا رہا ہے .
ازاد ھاشمی
Thursday, 28 December 2017
عبادت اور بناوٹ
" عبادت اور بناوٹ "
عبادت ، اللہ کی عبدیت کا عملی اظہار ہے ۔ اللہ نے جس عمل کے کرنے کا حکم دیا ، وہ کرنا عبادت ۔ جس کام سے روکا اس سے رکنا عبادت ۔
اللہ فرماتا ہے کہ تمہاری کسی عبادت میں دکھاوا نہیں ہونا چاہئے ۔ ہر عمل اللہ کی رضا کے حصول کیلئے ہو ، بندوں کی خوشنودی یا اپنے زہد و ریاضت کا پرچار نہیں ہو ۔
لازم ہے کہ ہم عبادت کی روح ، مقصد اور فلسفہ کو پیش نظر رکھیں ۔ ہم نے بہت سارے احکامات ربی کو ثانوی حیثیت دے رکھی ہے اور بہت سارے احکامات کے تکرار کو بھی فرائض بنا لیا ہے ۔ جبکہ وہ احکامات ایک بار کی تاکید کے زمرے میں آتے ہیں ۔ حج اور قربانی مشروط ہے ، صاحب استطاعت ہونے سے ۔ اور فرض ہے زندگی میں ایک بار ۔ مضائقہ نہیں کہ اسے بار بار کیا جائے اگر وسائل اجازت دیتے ہیں ۔ بار بار کرنا نوافل ہیں ، نوافل کی کوئی حد اور قید نہیں ۔
زکوٰة ایسا فرض ہے ، جو ہر سال ، ہر مال پر ہے ۔ جسے ہم پورے وسائل کے باوجود زندگی میں ایک بار بھی ادا نہیں کرتے ، اور کرتے ہیں تو کبھی پوری شرائط پر نہیں کرتے ۔
اسلام کی معیشت کا یہ رکن ، اگر اسطرح ادا کر دیا جائے ۔ طرح رب کا حکم ہے تو شاید قربانی کا گوشت لینے والوں کو تلاش کرنا پڑے ۔ حج سے ملنے والا ثواب ، قربانی سے ملنے والا ثواب مسلم ہے ۔ کوئی دوسری رائے نہیں ۔
میری ناقص معلومات کے مطابق اللہ کے حبیب نے زندگی میں صرف ایک بار حج کیا اور ایک ہی بار قربانی کا فریضہ انجام دیا ۔ یہی روایت صحابہ کے ساتھ جاری رہی ۔ مگر کوئی تاریخ ایسا ایک حوالہ نہیں دے سکتی کہ ان عظیم ہستیوں نے کبھی زکواة کا ایک درہم بھی روکا ہو ۔
علماء کرام اور مذہبی مفکرین ، اگر زکوٰة کے حکم کی اہمیت کو بھی اسی شدومد سے بیان کریں ، جس انہماک سے قربانی کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں اور ہر شخص کو ترغیب کا ہر ہنر استعمال کرتے ہیں ۔ تو مسلمان معیشت کی جس پستی میں گھر چکے ہیں ، اس میں کبھی نہ گرتے ۔
قربانی کریں ، ریا اور دکھاوا کئے بغیر ۔ اسکے ساتھ زکوٰة کا بھی اہتمام کیا جائے تو نہایت مناسب پیش رفت ہو گی ۔
ازاد ھاشمی
سیاست اور وراثت
" سیاست اور وراثت "
کچھ عادتیں فطرت کا حصہ ہوتی ہیں , کچھ معاشرہ دے دیتا ہے , کچھ وراثت میں ملتی ہیں . فطرت سے ملی ہوئی عادتیں انسان کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں . معاشرے سے ملنے والی روایات بن جاتی ہیں اور وراثت سے ملنے والی خون میں گردش کرتی ہیں . یہاں ایک بات واضع کرنا ضروری ہے , کچھ لوگ اس خیال پہ پختگی سے قائم ہیں کہ انبیاء سیاست کرتے رہے ہیں . یہ تخیل سراسر دماغ کا خلل ہے . انبیاء صرف اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں , اللہ کے احکامات کو من و عن پھیلاتے ہیں .اور اللہ کی ذات کو سیاست کی قطعی ضرورت نہیں . وہ قادر مطلق ہے , جو چاہتا ہے کرتا ہے . اسلئے سیاست کا تعلق اقتدار کی ہوس سے ہے . اور یہ ہوس انسانی فطرت کی بد ترین کمزوری ہے . یہ ہوس کبھی فرعون بنتی ہے , کبھی نمرود , کبھی یزید .
سیاست , اسی کمزوری کے داو پیچ ہیں . ہمارے ہاں یہ کمزوری موروثی ہو گئی ہے . جو ایک سیاستدان اپنی نسل کو دیتا ہے اور اپنی نسل ہی میں رکھنا چاہتا ہے . میرے وطن کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی سے اب تک یہ وراثت چند خاندانوں کی میراث بنی ہوئی ہے . تاریخ گواہ ہے کہ انگریز نے یہ زہر چند خاندانوں کے لہو میں شامل کر دیا تھا . اپنے خدمت گاروں کو جاگیریں دیں اور حکمرانی کا چسکا لگا دیا . یہی چسکا نسل در نسل رگوں میں شامل ہے . کارکن , کسان , مزدور , استاد اور ہنر مند افراد کی اکثریت اس نشے کی عادی نہیں ہوتی . جن کو رزق حلال کا چسکا رہتا ہے وہ سیاست کی بساط پہ بیٹھنے سے احتراز کرتے ہیں . جن کو دولت اور اقتدار کی ہوس کی بیماری لگ جاتی ہے , وہ اخلاقیات پرواہ کئے بغیر اس میدان میں کود پڑتے ہیں اور پھر انکی نسلیں اس مرض کا شکار ہو جاتی ہیں .
آج میرے وطن کے تمام سیاسی خاندان بطور وراثت سیاست کر رہے ہیں .
ازاد ھاشمی
پنڈ دے منڈے تے شہری بابو
" پنڈ دے منڈے تے شہری بابو "
تعلیم وہ حق ہے جو ہر کسی کا مساوی ہے . کوئی بھی حکومت جو ٹیکس لیتی ہے , اسکا پہلا استعمال عوام کے بنیادی حقوق کا یکساں اہتمام ہوتا ہے . جس میں صحت اول اور تعلیم دوم ہوتی ہے . مگر ہمارے وطن میں ٹیکس کا استعمال , حکمرانی کی عیاشیاں اول اور اقرباء نوازی دوم , انتخابات کی مہم کا پروپیگنڈہ سوم ہے . صحت کیلئے علاج معالجہ جیب کی استطاعت پہ منحصر ہے . حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں سمجھی جاتی . حکومتی اہلکاروں کو ٹیکس کی رقوم سے کسی بھی حد تک اپنے علاج معالجے کیلئے خرچ کرنے کی اجازت ہے . تعلیم بھی درجہ بندی کا شکار ہے . بڑے بڑے تعلیمی ادارے انہی سیاستدانوں کی ملکیت ہیں اور جی بھر کے لوٹ مار جاری ہے . غریب کا بچہ آج بھی کسی درخت کے سائے میں بچھے ٹاٹ پر بیٹھا , الف انار اور بے بکری ہی پڑھ رہا ہے . یہاں سے وہ آگے بڑھے گا تو پنڈ دا منڈا بن کے کسی کالج کی پچھلی سیٹ پہ جا بیٹھے گا . ھاتھ میں ڈگری لے بھی لی تو کلرک , سپاہی یا کسی دیہاتی اسکول کا ماسٹر بن جائیگا .
یہ چلن کل بھی جاری تھا , آج بھی جاری ہے . سوچنا یہ ہے کہ ملک کی اکثریت کے ساتھ یہ نا انصافی کیوں اور کب تک . . سیاسی لوگ , دانشور , عوام کی محبت سے سرشار سماج سیوا والے , بنیادی حقوق کا واویلا کرنے والے کب سوچیں گے . کہ پنڈ دے منڈے بھی شہری بابو کیوں نہیں مانے جاتے . پینڈو کو کب تک پینڈو رہنا ہو گا . وہ کب اعلی عہدوں پر بیٹھے گا . آج جو چند پینڈو اعلی عہدوں پر براجمان ہیں , وہ کوٹے کے نام پر انہی چوہدریوں , وڈیروں اور سیاسی پنڈتوں کی اولاد ہیں . پنڈ کی مائی برکتے تو آج بھی بیٹے کو کلرک دیکھ کر پھولی نہیں سماتی .
کیا یہ حق خود بخود ملے گا . کبھی نہیں . شعور دینا ہو گا . عوام کو بتانا ہو گا کہ تمہارا دیا ہوا ٹیکس تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کی ضمانت ہے . یہ میری بھی ذمہ داری ہے اور آپ کی بھی .
ووٹ دینے سے پہلے اپنے حق کی بات کرو گے تو حق کیطرف پیش رفت ہو گی . گلیاں پختہ کروانے کے تقاضے کرتے رہو گے تو کبھی حق نہیں ملے گا .
ازاد ھاشمی
قوم کے نام
" قوم کے نام "
اللہ نے میرے اور آپکے وطن کی مٹی کو اتنی زرخیزی عطا فرمائی کہ دنیا کا ہر پھل , ہر فصل اور انسانی ضرورت کی ہر چیز اگا سکتے ہیں . معدنیات کے ذخائر غرضیکہ ہر وہ شے فراوانی سے ہے , جو شائد بہت کم ملکوں کو نصیب ہے . ذہین و فطین , جفاکش اور محنتی , جرات اور بہادری کی مثال لوگ بھی اللہ کے کرم سے کثیر تعداد میں ہیں .
آخر کیا وجہ ہے کہ ان تمام خوبیوں کے باوجود ہم قابل رحم ہو گئے , بھکاری بن گئے کہ در در پر قرضہ مانگتے پھر رہے ہیں . ٹینکوں کے نیچے لیٹ جانے والی بہادر قوم کا بزدل دشمن نے بازو کاٹ لیا اور دیگر بازو اور ٹانگیں کاٹنے کا ارادہ کیا ہوا ہے .
ہم اس عتاب کا کیوں شکار ہیں , یہ وہ لمحہ فکریہ ہے جس کی ہمیں خبر نہیں ہو رہی . نہ کسی دانشور کی نظر اس طرف جارہی ہے , نہ ملکی سلامتی کے اداروں کو فکر ہے . ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم عقل اور شعور سے پیدل ہوگئے ہیں . ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ سیاست کے کونسا کھلاڑی جیتے اور کونسا ہارے . بالکل ایک میچ کیطرح تماشا سا سجا ہے . جیسے ہی میچ ختم ہو گا , اگلے پانچ سال اسی الجھن میں گذر جائیں گے کہ ہم نے صحیح انتخاب کیا یا غلط . مذہب کے نام پر اسی جتن میں لگے ہیں کہ کافر کون اور مسلمان کون .
گویا قومی سوچ مردہ ہو گئی ہے . سیاست کے بہروپئے , نئے نئے روپ بدل کر آتے رہتے ہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہتے ہیں . دیکھتے دیکھتے وہی پیشہ ور سیاستدان , وہی وڈیرے , خان , چوہدری اور گدی نشین اسمبلیوں میں آ بیٹھتے ہیں , جن سے چھٹکارہ ضروری تھا .
آخر کب تک . ہم کو جاگنے میں کتنی مدت اور درکار ہو گی . کیا ہم اپنے جیسے استحصال زدہ بچوں کو جنم دیتے رہیں گے , جو ان پیشہ ور بدمعاشوں کے نعرے لگاتے زندگیاں گزاریں گے . جرنیل , جرنیل جنتے رہیں گے اور ہم سپاہی پیداکریں گے . ہمارے بچوں کو کلرک بننے کیلئے ان پڑھ وزیروں کی سفارش ڈھونڈھنی پڑے گی . ایک کسان , ایک مزدور , ایک استاد اور ایک خوانچہ فروش کا کیا رشتہ سیاسی پارٹیوں سے . کیا فائدہ سڑکوں پر گولیاں کھانے کا .
قومی سوچ , تدبر اور عمل کی اشد ضرورت ہے . اپنی توانائیاں اپنی اولاد کیلئے , اپنی نسلوں کیلئے استعمال کرنے سے نتائج مثبت ہونگے .
ہمیں بحیثیت قوم سوچ تبدیل کرنا ہو گی . قوم بننا ہوگا .
ازاد ھاشمی
Tuesday, 26 December 2017
نئے لوگ
" نئے لوگ "
اقتدار کے مزے لوٹنے والے سیاسی خاندان , جاگیر دار اور جرنیل ہی رہے ہیں . پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے دھڑے ہمیشہ اقتدار سے چپکے رہے . چند گدی نشین بھی اقتدار کا مزہ لوٹتے رہے . سندھ میں ایم کیو ایم نے سیاست کا رخ بدلا اور عام سطح کے لوگ اقتدار میں آ گئے . الطاف حسین کا ابتدائی طریقہ قابل تحسین ہے مگر جب جبر اور دھونس شروع کیا تو رخ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا . یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی . جو کسی بھی طور تحریک کے حق میں مثبت نہیں تھی . قوم نے جن لوگوں کو بار بار پرکھ لیا , اب انکے چکمے میں آنا کسی طور ملک اور قوم کے حق میں بہتر نہیں ہوگا . عوام کو ہر اس سیاستدان کو میدان سے باہر کرنا ہو گا , جو اپنے اپنے دور اقتدار میں عملی طور پر ناکام رہے . اسمبلیوں میں ان لوگوں کی ضرورت ہے جو مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے اٹھ کر بول سکتے ہوں . ھاتھ اٹھانے والے گونگے سیاستدانوں کی نہ قوم کو ضرورت ہے نہ وطن کیلئے کوئی فائدہ . مذہبی قائدین جو تعصب اور فرقہ بندی کو ہوا دینے والے ہوں ان کا اسمبلیوں میں جانا بھی ملکی مفاد میں نہیں . یہ ہے وہ سوچ جس سے تبدیلی کا پہلا قدم اٹھایا جائیگا . اور یہ کام عوام کیا کرتے ہیں لیڈر نہیں . اسوقت میدان میں چند ایک نئے لوگ ہیں , جن پر قوم کو غور کرنا ہو گا . ان میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں . اگر ان دونوں کا اسمبلی میں اچھا تناسب بن جائے تو شائد کوئی بہتری آئے . مجھے ذاتی طور پر یقین ہے کہ یہ دونوں بھی کچھ خاص نہیں کر پائیں گے . نہ نئے پاکستان کا خواب پروان چڑھے گا اور نہ اسلامی نظام کی راہ ہموار ہو گی . ہاں اتنا ضرور ہو گا کہ جس شدت سے ہم بربادی کی طرف بڑھ رہے ہیں , وہ ضرور رک جائے گی .
واضع کرنا مناسب ہو گا , میرا ذاتی طور پر ان دونوں سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ انکی پالیسیوں سے کوئی امید . مگر یہ ضرور ہے کہ شائد بہتری آ جائے .
ازاد ھاشمی
طوائف
" طوائف "
مسجد کے سپیکر سے , جمعتہ المبارک کی تقریر کا موضوع , محلے میں آنے والی کسی عورت پر تھا . مولانا صاحب حوا کی بیٹی کو طوائف , بد ذات رنڈی کہہ کہہ کر لوگوں کو اگاہی دے رہے تھے . وہ اللہ کا گھر جہاں سے کسی کے عیب چھپانے کا سبق ملنا چاہئیے , وہاں سے کسی کی عزت کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں .
جمعہ کی نماز کے بعد یہ ایک ایسا موضوع تھا , جو ہر کسی نے چھیڑ رکھا تھا . محلے کے معتبر سوچنے لگے تھے کہ اس برائی کو محلے سے نکال دینا چاہئے . کچھ غیرت کے نام پر , کچھ شرافت کے لئے اور کچھ اپنی بہو بیٹیوں کی حفاظت کے طور پر . آخر اس کا دروازہ کھٹکھٹا ہی دیا گیا .
" بی بی ! آپ ایک ہفتے کے اندر یہ گھر چھوڑ دیں "
سن رسیدہ با ریش شخص نے حکم سنایا . تو وہ پردے کے پیچھے سے باہر نکل آئی .
" کیوں چھوڑ دوں یہ گھر . اسلئے کہ مولوی نے مجھے طوائف کہہ دیا . کسی نے پوچھا کہ اس نے مجھے کس ثبوت پہ طوائف کہا . کب دیکھا اس نے کہ میں نے رنڈی خانہ کھول رکھا ہے . وہ کیسے جانتا ہے مجھے . پوچھا آپ لوگوں نے کہ مسجد کسی کے عیب کھولنے کی جگہ ہے کیا . لاوڈ سپیکر پہ کسی ثبوت کے بغیر اشتہار لگانے کا حق اسے کس نے دیا . آپ لوگوں نے یا اللہ کے دین نے . جاو ! مولوی سے پوچھو کہ وہ مجھے کب سے جانتا ہے . اسے کب سے پتہ ہے کہ میں جسم فروش طوائف ہوں . میرا دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے تحقیق تو کر لی ہوتی . کیا اسلام کا حکم نہیں کہ کسی بات پر قدم اٹھانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو "
وہ رونے لگی .
" تو کیا یہ سچ نہیں کہ آپ طوائف ہیں "
ایک پنچ نے پوچھا .
" ہوں .. بہت بڑی طوائف ہوں .. جسم بیچتی ہوں .. ایمان بیچتی ہوں . دوکان لگا کے بیٹھی ہوں , گاہک آتے ہیں تو سودا بیچتی ہوں "
وہ دیوار سے سر پٹخنے لگی .
" میں بھی ایک بیٹی ہوں , ایک بہن ہوں , ایک ماں ہوں . سر چھپانے کیلئے کئی محلوں میں گئی , ہر نظر سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں . کئی مہربان گھر بیٹھے پر آسائش زندگی کا خواب دکھاتے ہیں . صرف میرے جسم کیلئے . میں انکار کرتی ہوں تو طوائف بن جاتی ہوں . تم سب کل جہانگیر پارک آ جانا . وہاں پہ ایک طوائف ریہڑھی پہ فروٹ بیچتی نظر آئے گی . صبح سے شام تک محنت کرتی ہوں وہاں . دو وقت روٹی اور عزت کی زندگی اور اپنے دو معصوم بچوں کی تعلیم کیلئے . پتہ نہیں لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ مجھے طوائف سمجھ لیتے ہیں اور آپ جیسے عزت دار ایک بیٹی , ایک بہن اور ایک ماں کو بے گھر کر دیتے ہیں . "
" سنیں ! کوئی عورت طوائف نہیں ہوتی . تم آدم زاد اسے طوائف بناتے ہو . اپنی ہوس کی خاطر . اپنی تسکین کیلئے . یہ مولوی میرے بچوں کو فروٹ , مٹھائی اور کھلونے کیوں خرید کر دیتا رہا . جب میں نے انکار کر دیا تو میں طوائف بن گئی . جاو ! اسے پوچھو . جاو! اسکا دروازہ کھٹکھٹاو . "
" وہ فروٹ کی ریہڑہی میرے شوہر کی تھی . جسے ہڑتال نہ کرنے پر مار دیا گیا . جاو ! اسکے قاتلوں کو ڈھونڈو . "
وہ روتی رہی . روتی رہی .
" چھوڑ جاوں گی یہ گھر بھی "
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے بولی .
ازاد ھاشمی
عدالتوں کے پچھواڑے
" عدالتوں کے پچھواڑے "
مقتول کی ماں نے دیت قبول کر لی , اور اپنے بچے کے خون کی قیمت وصول کر لی . جج نے بھی مان لیا , معاشرے کو بھی اسلام کا طرز عدل از بر کرا دیا . قصاص دینے کی طاقت رکھنے والا , جسے چاہے , جب چاہے قتل کرے .
اصل حقائق کیا ہیں . عزت کے خوف سے , جبر اور دھونس سے , طاقت اور دبدبے سے , جج بھی بک گیا اور مقتول کے والدین نے بھی اپنے دل پر پتھر رکھ لیا .
ایسے معاشرے جہاں یہ ظلم پروان چڑھنے پر خاموشی سادھ لی جائے , جلد یا بدیر اللہ کے عتاب کا شکار ہو جایا کرتے ہیں . قاتل کا فتح کا نشان بنانا , قانون کے منہ پر , اسلامی اقدار کا ورد کرنے والوں کے منہ پر , انصاف انصاف کوکنے والوں کے چہرے پر اور میڈیا کی شکل پر , زناٹے دار تھپڑ ہے .
طاقتور نے اعلان کیا کہ میں ظالم ہوں , کر لو جو کر سکتے ہو .
حیف ہے تمام قومی خدمتگاروں پر , غریب کی مدد کا پرچار کرنے والوں پر , سب سے بڑے قاضی پر , قوم کے محافظوں پہ .
غریب اپنی عزت کو محفوظ کرنے پہ ناکام ہو گیا . رسم بن گئی کہ جب کوئی تمہاری عزت سے کھیلنا چاہے , یا تو اسے کھیلنے کی اجازت دے دو , یا مرنے کی تیاری کر لو , یا خاموشی سے اپنی چار دیواری میں اپنی بچیوں کو قید کر دو .
اگر یہ دو درندے پھانسی کے پھندے پہ لٹک جاتے تو کونسی قیامت نہ آ جاتی . ایک پیغام مل جاتا ہر ظالم کو کہ وہ کسی بھی طاقت کے باوجود معاشرتی اصولوں کا پابند ہے . یہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت عمل میں آ جاتا تو عدالت امر ہو جاتی . غریب کو بھی ڈھارس ملتی کہ کوئی ہے جو اسکے حقوق کی حفاظت کرتا ہے .
یاد رکھو جب استحصال کو حق مان لیا جائے تو معاشرے کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے اور ایسی قوموں کے دن گنے جاتے ہیں .
عدالتوں کے پچھواڑے میں فیصلے مت کرو . تمہارے بھی فیصلے کرنے والا سب دیکھ رہا ہے . اسکے عتاب سے ڈرو .
ازاد ھاشمی
طاہر القادری کے نام
" طاہر القادری کے نام "
محترم جناب شیخ الاسلام طاہر القادری صاحب ! آپکا علمیت سے لبریز انٹرویو سنا . جس میں آپ سے ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹون جو نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم پر بنائے گئے تھے , پوچھا گیا . آپ نے فرمایا کہ یہ ڈنمارک حکومت کا معاملہ ہے اس پر مسلمانوں کو کوئی حق نہیں کہ اعتراض کریں یا احتجاج کریں . آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ جمہوریت پسند ہیں اور یہ پارلیمنٹ کا جمہوری حق ہے کہ وہ جو بھی چاہیں قانون بنائیں .
آپ چونکہ شیخ الاسلام ہیں , جو کہہ دیں گے اسلامی اصولوں کی تشریح ہو گا . آپ کے مقلدین بھی مان لیں گے . اور وہ سب بھی مان لیں گے جو آپ جیسے شیوخ الاسلام کی بے سروپا باتوں سے تنگ آ کر اسلام سے دور ہو چکے ہیں .
جناب ! مذہب کی حدود ہر اس جگہ تک ہو سکتی ہیں جہاں سے آواز سنائی دے سکے . کسی مذہب کو حق نہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری کرے . آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر پاکستان میں مسلمان ہندووں کے دیوتا اور دیویوں کی توہین شروع کر دیں تو ہندو خاموش بیٹھے رہیں گے . اور اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ سمجھ کر قبول کر لیں گے . کیا وہ بھارت میں موجود مسلمانوں کا جینا حرام نہیں کر دیں گے . رسول پاک کی ذات اقدس پر توہین کا جو بھی حملہ ہوگا , جہاں سے بھی ہوگا , جو بھی کرے گا . وہ اسلام اور مسلمانوں کا مجرم ہے . ڈنمارک ہو یا امریکہ اپنی اپنی حدود میں مذاہب کی پاسداری کی پابند ہیں . اگر صیہونی حکومتیں اپنی اپنی پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کر لیں کہ انکے ملک میں رہنے والا ہر مسلمان عیسائی ہونے پر پابند ہے , تو آپ کی شرح کیا کہے گی .
حضرت! عالم ہونے کا قطعی مطلب نہیں کہ آپ کفر کی گود میں بیٹھ کے کفر کی راہ ہموار کریں اور اسلام کی راہیں مسدود کر دیں . یہ مسائل اور اختلافات کا پہاڑ آپ جیسے اور آپ سے بڑے بڑے شیوخ کا استوار کیا ہوا ہے . جسے آج سادہ لوح مسلمان بھگت رہے ہیں . کتابوں پر کتابیں لکھ لکھ کر آپ جیسے شیوخ اپنی علمیت کا بھرم قائم کرتے ہیں . اپنی آمدن بڑھاتے ہیں اور امت مسلمہ کو ڈھیروں مسائل میں الجھا دیتے ہیں .
امت پر رحم کریں .
ازاد ھاشمی
سادگی
" سادگی "
سادگی سمجھنے اور سیکھنے کیلئے کائنات کے سرور کی حیات طیبہ سے اچھی کوئی دوسری مثال نہیں . آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی غربت میں گذاری اور غربت کو پسند فرمایا . جو ملا راہ خدا میں بانٹ دیا . یہی سادگی آپ کے نقش قدم پر چل کر اصحاب کبار نے پسند کی . سادگی دیکھنا ہو تو آل رسول صل اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگیوں میں دیکھی جا سکتی ہے .
گھر میں خورد و نوش کے برتن بھی صرف اتنے کہ ضرورت پوری ہوسکے . کھجور کے پتوں کی چٹائیاں , جو کی روٹی , ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکی . گویا زندگی کی ضروریات اتنی محدود کہ کسی مفلوک الحال کو شکوہ تک نہ ہو سکا . امیر المومنین ہو کر بھی صرف اتنی اجرت کہ نان جویں اور تن ڈھانپنے کی ضرورت پوری ہو جائے .
آج کا سادہ لوح مبلغ , ایسی سواری کہ امراء بھی رشک کریں . گداز بستر , شدت کی گرمی میں یخ بستہ گھر , خورد و نوش میں بڑے بڑے دستر خوان .
اسمبلیوں میں بیٹھ کر قومی خدمت کے نام پر کروڑوں کی مراعات . پھر بھی سادگی کا درس .
یکجہتی کی تعلیم کو سیاست کے نام پر نفاق میں بدل ڈالا , پھر بھی سنت کے درس .
کیا یہ بھولپن ہے یا منافقت . کیا یہ سادگی ہے .
جب اللہ کی ہر نعمت کو مستحقین میں بانٹ دیا جائے تو دولت کا ارتکاز ممکن ہی نہیں . شاہانہ زندگی آ ہی نہیں سکتی . معاشرہ غریب رہ ہی نہیں سکتا . بھیک مانگنے والے نظر ہی نہیں آئیں گے .
سیاست پہ خرچ کرنے والے چندے , الیکشن کی فضولیات پر اربوں روپے کا ضیاع , اگر غربت کے خاتمے کے جہاد پر لگا دیا جائے تو ہم معیشت کی بہتریں سطع پر آ جائیں گے .
کیا یہ سچ نہیں کہ ہم سادگی کو سمجھ ہی نہیں سکے .
ہمیں جہاد سمجھ ہی نہیں آیا .
ہم نے خدمت کے جذبے کو گڈ مڈ کر ڈالا ہے .
یہ ہے سادگی جو ہم نے اختیار کر لی .یہ سادگی نہیں حماقت ہے .
ہم مثال دیتے ہیں کہ فلاں ملک کا وزیر اعظم سائیکل پہ دفتر آتا ہے , پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرتا ہے , امریکہ کے صدر کا اپنا گھر نہیں وغیرہ وغیرہ ...
اس سے کہیں بہتر مثالیں تو ہمارے اجداد کی ہیں . ہمارے خلفاء کی ہیں . سوال یہ ہے وہ سب ہم کو کیوں یاد نہیں آتیں .
شاید ہماری سادگی وجہ ہے کہ ہم بھلائی کی راہ چھوٰڑ کر یہود کی ڈگر پر چل رہے ہیں . رسوا ہیں , خوار ہیں اور اسی راہ پر چلنے پر بضد بھی .
ازاد ھاشمی