" عدالتوں کے پچھواڑے "
مقتول کی ماں نے دیت قبول کر لی , اور اپنے بچے کے خون کی قیمت وصول کر لی . جج نے بھی مان لیا , معاشرے کو بھی اسلام کا طرز عدل از بر کرا دیا . قصاص دینے کی طاقت رکھنے والا , جسے چاہے , جب چاہے قتل کرے .
اصل حقائق کیا ہیں . عزت کے خوف سے , جبر اور دھونس سے , طاقت اور دبدبے سے , جج بھی بک گیا اور مقتول کے والدین نے بھی اپنے دل پر پتھر رکھ لیا .
ایسے معاشرے جہاں یہ ظلم پروان چڑھنے پر خاموشی سادھ لی جائے , جلد یا بدیر اللہ کے عتاب کا شکار ہو جایا کرتے ہیں . قاتل کا فتح کا نشان بنانا , قانون کے منہ پر , اسلامی اقدار کا ورد کرنے والوں کے منہ پر , انصاف انصاف کوکنے والوں کے چہرے پر اور میڈیا کی شکل پر , زناٹے دار تھپڑ ہے .
طاقتور نے اعلان کیا کہ میں ظالم ہوں , کر لو جو کر سکتے ہو .
حیف ہے تمام قومی خدمتگاروں پر , غریب کی مدد کا پرچار کرنے والوں پر , سب سے بڑے قاضی پر , قوم کے محافظوں پہ .
غریب اپنی عزت کو محفوظ کرنے پہ ناکام ہو گیا . رسم بن گئی کہ جب کوئی تمہاری عزت سے کھیلنا چاہے , یا تو اسے کھیلنے کی اجازت دے دو , یا مرنے کی تیاری کر لو , یا خاموشی سے اپنی چار دیواری میں اپنی بچیوں کو قید کر دو .
اگر یہ دو درندے پھانسی کے پھندے پہ لٹک جاتے تو کونسی قیامت نہ آ جاتی . ایک پیغام مل جاتا ہر ظالم کو کہ وہ کسی بھی طاقت کے باوجود معاشرتی اصولوں کا پابند ہے . یہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت عمل میں آ جاتا تو عدالت امر ہو جاتی . غریب کو بھی ڈھارس ملتی کہ کوئی ہے جو اسکے حقوق کی حفاظت کرتا ہے .
یاد رکھو جب استحصال کو حق مان لیا جائے تو معاشرے کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے اور ایسی قوموں کے دن گنے جاتے ہیں .
عدالتوں کے پچھواڑے میں فیصلے مت کرو . تمہارے بھی فیصلے کرنے والا سب دیکھ رہا ہے . اسکے عتاب سے ڈرو .
ازاد ھاشمی
Tuesday, 26 December 2017
عدالتوں کے پچھواڑے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment