Tuesday, 26 December 2017

غصہ مت کریں

" غصہ مت کریں "
سوشل میڈیا پر اگر کوئی نادانی میں جماعت اسلامی پر تنقید کر بیٹھے , بھلے وہ سو فیصد حقائق پر مبنی ہی کیوں نہ ہو . جماعت کے دیوانے شہد کی مکھیوں کیطرح اس پر لپک پڑتے ہیں . دوسرا کوئی جرات ہی نہیں کرتا کہ زبان کھولے . مولانا مودودی صاحب کی علمیت پر شاید کوئی پاکستانی ہو جو اعتراض کرتا ہو . جماعت کے تمام قائدین کا احترام تو ہر کوئی کرتا ہے . چونکہ سیاسی لوگ پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں . ان پر تنقید کا حق ہر کسی کو ہوتا ہے . پھر اتنی پڑھے لکھے کارکنوں کی جماعت کیوں نہیں سمجھتی کہ تنقید کو سنے اور اگر کوئی بہتر رائے ہو تو اس پر غور کرے .
ان حقائق میں کیا شک ہے کہ جماعت جمہوریت کی سیڑھی پر ہمیشہ پھسل جاتی ہے . دن بدن گرتا ہوا جمہوری گراف جماعت کی ناکامی نہیں تو کیا نام دینا چاہئیے . جماعت جلسے , جلوس , لانگ مارچ اور احتجاج کے بے شمار طریقوں کی موجد بھی ہے . اس سب سے نہ کبھی وطن کو فائدہ ہوا نہ کبھی عوام کی فلاح کا کوئی پہلو سامنے آیا , اور نہ ہی اسلامی نظام کے نفاذ کیطرف پیش رفت ہوئی . موجودہ صورت میں جماعت کے امیر لاکھ فقیر منش ہیں , انکی دیانت کی گواہی عدالت عالیہ بھی دیتی ہے . سادگی کا یہ حسین پیکر پوری سیاست میں منفرد ہے . سر آنکھوں پہ . تسلیم کرتے ہیں . مگر اسکا کیا جواب کہ اسمبلی میں بیٹھ کر کونسا کارنامہ سر انجام دیا . غیر اصولی مراعات لینے کے رواج کو روکنے میں کیا قابل ذکر کردار رہا . جواب ہے کوئی نہیں . قوم کو سادگی سے مطلب نہیں . اصل ضرورت بگڑے ہوئے اسمبلی ممبران کی لوٹ کھسوٹ روکنے سے ہے , اس ضمن میں کوئی خبر ہو تو عوام کے سامنے لائیے  .
جناب جماعت والو ! غصہ مت کیا کرو . عمل کر کے دکھاو , لوگ ووٹ بھی دیں گے اور ساتھ بھی .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment