Tuesday, 26 December 2017

طوائف

" طوائف "
مسجد کے سپیکر سے , جمعتہ المبارک کی تقریر کا موضوع , محلے میں آنے والی کسی عورت پر تھا . مولانا صاحب حوا کی بیٹی کو طوائف , بد ذات رنڈی کہہ کہہ کر لوگوں کو اگاہی دے رہے تھے . وہ اللہ کا گھر جہاں سے کسی کے عیب چھپانے کا سبق ملنا چاہئیے , وہاں سے کسی کی عزت کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں .
جمعہ کی نماز کے بعد یہ ایک ایسا موضوع تھا , جو ہر کسی نے چھیڑ رکھا تھا . محلے کے معتبر سوچنے لگے تھے کہ اس برائی کو محلے سے نکال دینا چاہئے . کچھ غیرت کے نام پر , کچھ شرافت کے لئے اور کچھ اپنی بہو بیٹیوں کی حفاظت کے طور پر .  آخر اس کا دروازہ کھٹکھٹا ہی دیا گیا .
" بی بی ! آپ ایک ہفتے کے اندر یہ گھر چھوڑ دیں "
سن رسیدہ با ریش شخص نے حکم سنایا . تو وہ پردے کے پیچھے سے باہر نکل آئی .
" کیوں چھوڑ دوں یہ گھر . اسلئے کہ مولوی نے مجھے طوائف کہہ دیا . کسی نے پوچھا کہ اس نے مجھے کس ثبوت پہ طوائف کہا . کب دیکھا اس نے کہ میں نے رنڈی خانہ کھول رکھا ہے . وہ کیسے جانتا ہے مجھے . پوچھا آپ لوگوں نے کہ مسجد کسی کے عیب کھولنے کی جگہ ہے کیا . لاوڈ سپیکر پہ کسی ثبوت کے بغیر اشتہار لگانے کا حق اسے کس نے دیا . آپ لوگوں نے یا اللہ کے دین نے . جاو ! مولوی سے پوچھو کہ وہ مجھے کب سے جانتا ہے . اسے کب سے پتہ ہے کہ میں جسم فروش طوائف ہوں . میرا دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے تحقیق تو کر لی ہوتی . کیا اسلام کا حکم نہیں کہ کسی بات  پر قدم اٹھانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو "
وہ رونے لگی .
" تو کیا یہ سچ نہیں کہ آپ طوائف ہیں "
ایک پنچ نے پوچھا .
" ہوں .. بہت بڑی طوائف ہوں .. جسم بیچتی ہوں .. ایمان بیچتی ہوں . دوکان لگا کے بیٹھی ہوں , گاہک آتے ہیں تو سودا بیچتی ہوں "
وہ دیوار سے سر پٹخنے لگی .
" میں بھی ایک بیٹی ہوں , ایک بہن ہوں , ایک ماں ہوں . سر چھپانے کیلئے کئی محلوں میں گئی , ہر نظر سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں . کئی مہربان گھر بیٹھے پر آسائش زندگی کا خواب دکھاتے ہیں . صرف میرے جسم کیلئے . میں انکار کرتی ہوں تو طوائف بن جاتی ہوں . تم سب کل جہانگیر پارک آ جانا . وہاں پہ ایک طوائف ریہڑھی پہ فروٹ بیچتی نظر آئے گی . صبح سے شام تک محنت کرتی ہوں وہاں . دو وقت روٹی اور عزت کی زندگی اور اپنے دو معصوم بچوں کی تعلیم کیلئے . پتہ نہیں لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ مجھے طوائف سمجھ لیتے ہیں اور آپ جیسے عزت دار ایک بیٹی , ایک بہن اور ایک ماں کو بے گھر کر دیتے ہیں . "
" سنیں ! کوئی عورت طوائف نہیں ہوتی . تم آدم زاد اسے طوائف بناتے ہو . اپنی ہوس کی خاطر . اپنی تسکین کیلئے . یہ مولوی میرے بچوں کو فروٹ , مٹھائی اور کھلونے کیوں خرید کر دیتا رہا . جب میں نے انکار کر دیا تو میں طوائف بن گئی . جاو ! اسے پوچھو . جاو! اسکا دروازہ کھٹکھٹاو . "
" وہ فروٹ کی  ریہڑہی میرے شوہر کی تھی . جسے ہڑتال نہ کرنے پر مار دیا گیا . جاو ! اسکے قاتلوں کو ڈھونڈو . "
وہ روتی رہی . روتی رہی .
" چھوڑ جاوں گی یہ گھر بھی "
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے بولی .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment