Tuesday, 26 December 2017

جھوٹے

" جھوٹے "
جھوٹ ایک ایسا فعل ہے , جو مذہبی , اخلاقی اور معاشرتی طور پر انتہائی نا پسندیدہ ہے . کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا کہ کوئی اسے جھوٹا ہونے کا طعنہ دے . مگر ہم سب اس فعل کے عادی ہو چکے ہیں . ہماری معاشرتی زندگی کا حصہ بن گیا ہے کہ ہم جھوٹ کو ضرورت کہہ کر بھی اختیار کر لیتے ہیں اور مصلحت بنا کر قبول کر لیتے ہیں .
یہاں اصل موضوع وہ بڑے بڑے جھوٹے ہیں , جو ہماری سربراھی کرنے کی خواہش پر سیاست کے میدان میں پنجہ آزمائی کر رہے ہیں . سب کے پیٹ میں قوم کی خدمت کا درد ہے . مگر سب کے سب اقتدار کی کرسی کی لذت میں دیوانے ہیں . کوئی انصاف کی تحریک چلا رہا ہے , مگر خود ہیلی کاپٹر پر اڑانے بھر رہا ہے اور عوام نام کی احمق مخلوق سڑکوں پر دھکے کھاتی پھرتی ہے . کوئی اسلام کے نظام کا راستہ ہموار کر رہا ہے , مگر خود یہودی نظام کی سیڑھی پر چڑھا بیٹھا ہے . کسی کو خبط ہے کہ مساوات لے آئیگا , ہر کسی کی اپنی چھت ہو گی , پیٹ بھر کے کھانا ملے گا اور کوئی تن ننگا نہیں ہو گا . اقتدار ملا بھی مگر کچھ نہیں ہوا . کسی نے اعلان کیا کہ بھیک کا کشکول توڑ دیں گے , قرضہ نہیں لیں گے . آنے والی نسلوں کو بھی مقروض کر دیا .
یہ بڑے بڑے جھوٹے , ہماری رہنمائی کریں گے تو کیا ہوگا . جھوٹ کی جوت جگے گی , احمق قوم ناچے گی اور ہر بار نئے راگ پر ناچے گی .
خدمت کا جذبہ ہو تو قوم کی خدمت بھیک مانگ کر بھی کی جا سکتی ہے . اسکے لئے نہ کسی کرسی کی ضرورت ہے اور نہ ڈھیر ساری دولت کی . سڑک  پہ  بیٹھ کے بھیک مانگنے والا عبدالستار ایدھی ( اللہ غریق رحمت کرے ) اور گلے میں پٹہ ڈال کر ایک سکہ لینے والا سرسیداحمد خاں واضع مثالیں موجود ہیں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment