" نئے لوگ "
اقتدار کے مزے لوٹنے والے سیاسی خاندان , جاگیر دار اور جرنیل ہی رہے ہیں . پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے دھڑے ہمیشہ اقتدار سے چپکے رہے . چند گدی نشین بھی اقتدار کا مزہ لوٹتے رہے . سندھ میں ایم کیو ایم نے سیاست کا رخ بدلا اور عام سطح کے لوگ اقتدار میں آ گئے . الطاف حسین کا ابتدائی طریقہ قابل تحسین ہے مگر جب جبر اور دھونس شروع کیا تو رخ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا . یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی . جو کسی بھی طور تحریک کے حق میں مثبت نہیں تھی . قوم نے جن لوگوں کو بار بار پرکھ لیا , اب انکے چکمے میں آنا کسی طور ملک اور قوم کے حق میں بہتر نہیں ہوگا . عوام کو ہر اس سیاستدان کو میدان سے باہر کرنا ہو گا , جو اپنے اپنے دور اقتدار میں عملی طور پر ناکام رہے . اسمبلیوں میں ان لوگوں کی ضرورت ہے جو مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے اٹھ کر بول سکتے ہوں . ھاتھ اٹھانے والے گونگے سیاستدانوں کی نہ قوم کو ضرورت ہے نہ وطن کیلئے کوئی فائدہ . مذہبی قائدین جو تعصب اور فرقہ بندی کو ہوا دینے والے ہوں ان کا اسمبلیوں میں جانا بھی ملکی مفاد میں نہیں . یہ ہے وہ سوچ جس سے تبدیلی کا پہلا قدم اٹھایا جائیگا . اور یہ کام عوام کیا کرتے ہیں لیڈر نہیں . اسوقت میدان میں چند ایک نئے لوگ ہیں , جن پر قوم کو غور کرنا ہو گا . ان میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں . اگر ان دونوں کا اسمبلی میں اچھا تناسب بن جائے تو شائد کوئی بہتری آئے . مجھے ذاتی طور پر یقین ہے کہ یہ دونوں بھی کچھ خاص نہیں کر پائیں گے . نہ نئے پاکستان کا خواب پروان چڑھے گا اور نہ اسلامی نظام کی راہ ہموار ہو گی . ہاں اتنا ضرور ہو گا کہ جس شدت سے ہم بربادی کی طرف بڑھ رہے ہیں , وہ ضرور رک جائے گی .
واضع کرنا مناسب ہو گا , میرا ذاتی طور پر ان دونوں سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ انکی پالیسیوں سے کوئی امید . مگر یہ ضرور ہے کہ شائد بہتری آ جائے .
ازاد ھاشمی
Tuesday, 26 December 2017
نئے لوگ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment