Tuesday, 26 December 2017

طاہر القادری کے نام

" طاہر القادری کے نام "
محترم جناب شیخ الاسلام طاہر القادری صاحب !  آپکا علمیت سے لبریز انٹرویو سنا . جس میں آپ سے ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹون جو نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم پر بنائے گئے تھے , پوچھا گیا . آپ نے فرمایا کہ یہ ڈنمارک حکومت کا معاملہ ہے اس پر مسلمانوں کو کوئی حق نہیں کہ اعتراض کریں یا احتجاج کریں . آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ جمہوریت پسند ہیں اور یہ پارلیمنٹ کا جمہوری حق ہے کہ وہ جو بھی چاہیں قانون بنائیں .
آپ چونکہ شیخ الاسلام ہیں , جو کہہ دیں گے اسلامی اصولوں کی تشریح ہو گا . آپ کے مقلدین بھی مان لیں گے . اور وہ سب بھی مان لیں گے جو آپ جیسے شیوخ الاسلام کی بے سروپا باتوں سے تنگ آ کر اسلام سے دور ہو چکے ہیں .
جناب ! مذہب کی حدود ہر اس جگہ تک ہو سکتی ہیں جہاں سے آواز سنائی دے سکے . کسی مذہب کو حق نہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری کرے . آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر  پاکستان میں مسلمان ہندووں کے دیوتا اور دیویوں کی توہین شروع کر دیں تو ہندو خاموش بیٹھے رہیں گے . اور اسے پاکستان کا اندرونی  معاملہ سمجھ کر قبول کر لیں گے . کیا وہ بھارت میں موجود مسلمانوں کا جینا حرام نہیں کر دیں گے . رسول پاک کی ذات اقدس پر توہین کا جو بھی حملہ ہوگا , جہاں سے بھی ہوگا , جو بھی کرے گا . وہ اسلام اور مسلمانوں کا مجرم ہے . ڈنمارک ہو یا امریکہ اپنی اپنی حدود میں مذاہب کی  پاسداری کی پابند ہیں . اگر صیہونی حکومتیں اپنی اپنی پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کر لیں کہ انکے ملک میں رہنے والا ہر مسلمان عیسائی ہونے پر پابند ہے , تو آپ کی شرح کیا کہے گی .
حضرت!  عالم ہونے کا قطعی مطلب نہیں کہ آپ کفر کی گود میں بیٹھ کے کفر کی راہ ہموار کریں اور اسلام کی راہیں مسدود کر دیں . یہ مسائل اور اختلافات کا پہاڑ آپ جیسے اور آپ سے بڑے بڑے شیوخ کا استوار کیا ہوا ہے . جسے آج سادہ لوح مسلمان بھگت رہے ہیں . کتابوں پر کتابیں لکھ لکھ کر آپ جیسے شیوخ اپنی علمیت کا بھرم قائم کرتے ہیں . اپنی آمدن بڑھاتے ہیں اور امت مسلمہ کو ڈھیروں مسائل میں الجھا دیتے ہیں .
امت پر رحم کریں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment