Thursday, 28 December 2017

سیاست اور وراثت

" سیاست اور وراثت "
کچھ عادتیں فطرت کا حصہ ہوتی ہیں , کچھ معاشرہ دے دیتا ہے , کچھ وراثت میں ملتی ہیں . فطرت سے ملی ہوئی عادتیں انسان کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں . معاشرے سے ملنے والی روایات بن جاتی ہیں اور وراثت سے ملنے والی خون میں گردش کرتی ہیں . یہاں ایک بات واضع کرنا ضروری ہے , کچھ لوگ اس خیال پہ پختگی سے قائم ہیں کہ انبیاء سیاست کرتے رہے ہیں . یہ تخیل سراسر دماغ کا خلل ہے . انبیاء صرف اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں , اللہ کے احکامات کو من و عن پھیلاتے ہیں .اور  اللہ کی ذات کو سیاست کی قطعی ضرورت نہیں . وہ قادر مطلق ہے , جو چاہتا ہے کرتا ہے . اسلئے سیاست کا تعلق اقتدار کی ہوس سے ہے . اور یہ ہوس انسانی فطرت کی بد ترین کمزوری ہے . یہ ہوس کبھی فرعون بنتی ہے , کبھی نمرود , کبھی یزید .
سیاست , اسی کمزوری کے داو پیچ ہیں . ہمارے ہاں یہ کمزوری موروثی ہو گئی  ہے . جو ایک سیاستدان اپنی نسل کو دیتا ہے اور اپنی نسل ہی میں رکھنا چاہتا ہے . میرے وطن کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی سے اب تک یہ وراثت چند خاندانوں کی میراث بنی  ہوئی ہے . تاریخ گواہ ہے کہ انگریز نے یہ زہر چند خاندانوں کے لہو میں شامل کر دیا تھا  . اپنے خدمت گاروں کو جاگیریں دیں اور حکمرانی کا چسکا لگا دیا . یہی چسکا نسل در نسل رگوں میں شامل ہے . کارکن , کسان , مزدور , استاد اور ہنر مند افراد کی اکثریت اس نشے کی عادی نہیں ہوتی . جن کو رزق حلال کا چسکا رہتا ہے وہ سیاست کی بساط پہ بیٹھنے سے احتراز کرتے ہیں . جن کو دولت اور اقتدار کی ہوس کی بیماری لگ جاتی ہے , وہ اخلاقیات پرواہ کئے بغیر اس میدان میں کود پڑتے ہیں اور پھر انکی نسلیں اس مرض کا شکار ہو جاتی ہیں .
آج میرے وطن کے تمام سیاسی خاندان بطور وراثت سیاست کر رہے ہیں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment