Tuesday, 26 December 2017

ایمان اور سائنس

" ایمان اور سائنس "
قران پاک وہ علوم کا خزانہ ہے , جس میں کائنات میں ذرہ ذرہ کا ذکر بھی ہے اور فکر کا حکم بھی . یہی  سائنس ہے , اس سائنس پر تحقیق کے فقدان نے ہم مسلمانوں کو بہت پیچھے کر دیا . ہم نے انسان کی تباہی کو ٹیکنالوجی مان لیا , جبکہ یہ راستہ شیطنت کا راستہ ہے . انسان کی فلاح کیلئے مل کر کی گئی کوشش ہمیشہ فاتح ہوتی ہے . ہم امن کے دین کا پیغام پھیلانے والی قوم , مظلوم کی آواز پہ تڑپ جانے والے لوگ , مظلوم کی داد رسی پہ پہنچنے والی قوم تھے . کامیاب تھے . روم پوری طاقت کے ساتھ وسائل سے محروم لوگوں سے ہراساں کیوں تھا . ایمان کی وجہ سے .
ﻣﻮ ﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻋﻮﻥ کی   ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ کو ایمان کی طاقت سے غرق کر دیا .
ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺳﺮﺥ ﺩﺭﻧﺪﮦ  اور ٹیکنالوجی کا بادشاہ ‏( ﺭﻭﺱ ‏) ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ نہ صرف ناکام ہوا , بلکہ شکست و ریخت نے اسکا حلیہ بدل کر رکھ دیا . چند مجاہد اتنی بڑی طاقت کو ہزیمت سے دوچار کر گئے .
ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺩﯼ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﮑﺴﺖ ﮐﮭﺎ گئے ؟
ہم جس ٹیکنالوجی کو فتح کی ضرورت بنا بیٹھے ہیں , وہ مغرب کی تقلید میں نظر آ رہی ہے . آزاد زندگی تو جنگل کے جانور بھی گزارتے ہیں . انسانی فکر تو مل جل کر رہنے کی ترغیب دیتی ہے . چند حدود و قیود , اخلاقی اور معاشرتی پابندیاں , ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا , انسان کی ضرورت ہے . فساد اور کمزور پر دھونس اور جبر تو شیطان کا راستہ ہے . ‏
ہم  ﻣﻐﺮﺏ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱِ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ  دانشور  ﯾﮧ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﻟﻮ
اور ہم نے مغرب کو قبلہ بنا لیا . ایمان کو پتھر کے زمانے کے ڈھکوسلے سمجھنے لگے . عام زندگی سے قران کو الگ کر کے مغرب کے طور طریقے اختیار کر لئے . قران کو حفظ کر لیا مگر فکر نہیں کیا , ڈھونڈھا نہیں کہ آخر قران کیوں کہتا ہے کہ زمین کی سیر کرو اور اللہ کی رحمتوں کو تلاش کرو . ہم نے قران سے وظیفے ڈھونڈھے اور مشکلات کیلئے یاد کر لئے . ایمان یہ بھی ہے کہ قران کو فکر اور انہماک سے پڑھا جائے . جیسا پڑھنے کا حق ہے تو ہر ٹیکنالوجی ملے گی . ہم مغرب کی چال چلنے کے جتن میں اپنی بھی چال بھول گئے . اب خبر ہی نہیں کہ کدھر  جانا ہے . منزل کیا ہے اور انجام کیا ہو گا .
ازاد ھاشمی





No comments:

Post a Comment