" ایک بھولا ہوا فرض "
ہم پورا سال , بہت سارے فرائض کا اہتمام بھی کرتے ہیں , شدت سے انتظار بھی اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر مناتے بھی ہیں . خصوصی طور پر وہ فرائض جو دوسروں کو نظر آئیں , زیادہ شد و مد سے منائے جاتے ہیں . حج اور عمرہ پر روانگی سے بہت پہلے دوستوں اور جاننے والوں کو اگاہی دینے لگتے ہیں . حج کے تمام ارکان کو کیمرے میں محفوظ کر لیتے ہیں اور اگلی نماز سے پہلے سوشل میڈیا پہ ڈال دیتے ہیں .
نماز کے خضوع و خشوع کو ماتھے کے محراب سے جوڑ دیتے ہیں ۔ ایک کلو گھی ، دس کلو آٹا اور چند روپے دیتے وقت فوٹو سیشن کا اہتمام کر لیتے ہیں ۔ کسی بیوہ کے سر پر سلائی کی مشین رکھ کر سمجھتے ہیں کہ اس بیچاری پر رزق کے دروازے کھول دئے ہیں ۔ ہم سب فرائض سے اگاہ ہیں ۔ ہمارے علماء بھی نماز کا ثواب ، قربانی کے جانور کا پل صراط سے گزارنے کا ذریعہ ، روزہ کا ثواب تو بتاتے ہیں ۔ شاید کوئی مسلمان ہو گا ، جو اللہ کے انعامات سے اگاہ نہ ہو ۔ اللہ کیطرف سے ہر حکم ، حکمت کا مظہر ہے ۔ اسے اپنانے سے فلاح کی یقینی راہیں کھلتی ہیں ۔ ہمارا ایمان اور یقین کامل ہے ۔
مگر ایک فرض ، جو معیشت کی اساس تھا ۔ جس پر ملت اسلامیہ کی معیشت کو لازمی عروج ملتا ۔ وہ نہ تو علماء نے ازبر کرایا ، نہ محققیں نے ، نہ دانشوروں کی توجہ ادھر گئی ۔ وہ فرض ہے زکوٰة ۔ اڑھائی فیصد زکوٰة ، جس سے نہ قیمتیں متاثر ہوتی ہیں ، نہ غریب کی گردن پر بوجھ اور تجارتی مقابلے میں کامیابی کی ضمانت ، کیونکہ کم ترین قیمت پر اشیاء صرف بازار میں لائی جا سکتی ہیں ۔ آج چھ سو ارب کے اثاثوں کا مالک ، کارو باری کساد بازاری کا بہانہ بنا کر چند ہزار روپے ادا کرتا ہے ۔ اگر زکوٰة دیتا تو ایک خطیر رقم معیشت کا سہارا بنتی ۔
ٹیکس در ٹیکس کا بوجھ غریب ادا کرتا ہے ، جبکہ سرمایہ دار اس سے مزید استفادہ کرتا ہے ۔
ایک عام مسلمان کو تو ان باریکیوں کا علم نہیں ہوتا ، تعجب یہ ہے کہ ہمارے معیشت دان ، مذہبی سکالر ، شیوخ الاسلام اور سیاسی پنڈت اس طرف سے غافل کیوں ہیں ۔ کیا یہ ایک ایسا فرض نہیں ، جسکا ذکر ، نماز کی تاکید کے ساتھ جڑا ہوا ملتا ۔ پھر نماز کے ثواب سے اس کے ثواب کو الگ کیوں کر دیا گیا ۔ یہ اتنا اہم فرض بھول کیسے گیا ۔
ازاد ھاشمی
Saturday, 30 December 2017
ایک بھولا ہوا فرض
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment