Thursday, 28 December 2017

قوم کے نام

" قوم کے نام "
اللہ نے میرے اور آپکے وطن کی مٹی کو اتنی زرخیزی عطا فرمائی کہ دنیا کا ہر پھل , ہر فصل اور انسانی ضرورت کی ہر چیز اگا سکتے ہیں . معدنیات کے ذخائر غرضیکہ ہر وہ شے فراوانی سے ہے , جو شائد بہت کم ملکوں کو نصیب ہے . ذہین و فطین , جفاکش اور محنتی , جرات اور بہادری کی مثال لوگ بھی اللہ کے کرم سے کثیر تعداد میں ہیں .
آخر کیا وجہ ہے کہ ان تمام خوبیوں کے باوجود ہم قابل رحم ہو گئے , بھکاری بن گئے کہ در در پر قرضہ مانگتے پھر رہے ہیں . ٹینکوں کے نیچے لیٹ جانے والی بہادر قوم کا بزدل دشمن نے بازو کاٹ لیا اور دیگر بازو اور ٹانگیں کاٹنے کا ارادہ کیا ہوا ہے .
ہم اس عتاب کا کیوں شکار ہیں , یہ وہ لمحہ فکریہ ہے جس کی ہمیں خبر نہیں ہو رہی . نہ کسی دانشور کی نظر اس طرف جارہی ہے , نہ ملکی سلامتی کے اداروں کو فکر ہے . ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم عقل اور شعور سے پیدل ہوگئے ہیں . ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ سیاست کے کونسا کھلاڑی جیتے اور کونسا ہارے . بالکل ایک میچ کیطرح تماشا سا سجا ہے . جیسے ہی میچ ختم ہو گا , اگلے پانچ سال اسی الجھن میں گذر جائیں گے کہ ہم نے صحیح انتخاب کیا یا غلط . مذہب کے نام پر اسی جتن میں لگے ہیں کہ کافر کون اور مسلمان کون .
گویا قومی سوچ مردہ ہو گئی ہے . سیاست کے بہروپئے , نئے نئے روپ بدل کر آتے رہتے ہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہتے ہیں . دیکھتے دیکھتے وہی پیشہ ور سیاستدان , وہی وڈیرے , خان , چوہدری اور گدی نشین اسمبلیوں میں آ بیٹھتے ہیں , جن سے چھٹکارہ ضروری تھا .
آخر کب تک . ہم کو جاگنے میں کتنی مدت اور درکار ہو گی . کیا ہم اپنے جیسے استحصال زدہ بچوں کو جنم دیتے رہیں گے , جو ان پیشہ ور بدمعاشوں کے نعرے لگاتے زندگیاں گزاریں گے . جرنیل , جرنیل جنتے رہیں گے اور ہم سپاہی پیداکریں گے . ہمارے بچوں کو کلرک بننے کیلئے ان پڑھ وزیروں کی سفارش ڈھونڈھنی پڑے گی . ایک کسان , ایک مزدور  , ایک استاد اور ایک خوانچہ فروش کا کیا رشتہ سیاسی پارٹیوں سے . کیا فائدہ سڑکوں پر گولیاں کھانے کا .
قومی سوچ , تدبر اور عمل کی اشد ضرورت ہے . اپنی توانائیاں اپنی اولاد کیلئے , اپنی نسلوں کیلئے استعمال کرنے سے نتائج مثبت ہونگے .
ہمیں بحیثیت قوم سوچ تبدیل کرنا ہو گی . قوم بننا ہوگا .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment