Friday, 10 February 2017
دادی جان
|
" دادی جان "
ہر جانے انجانے سے بے لوث اپنائیت کا رشتہ ، ہر عمر کے مرد اور عورتوں کی دادی جان ، میرے فخر کا سرمایہ میری ماں تھیں ۔ کسی کا سودا نہ بکے ،ضرورت ہو یا نہ ہو دادی جان ہمہ وقت خریدار تھیں ، کوئی مریض ہے تو دادی جان کے حقیقی پوتے پوتیاں علاج کو حاضر ہیں ۔ اپنے پوتے پوتیوں پر ہر وقت نظر کا ثمر ہے کہ آج میرے سارے بچے اللہ کے کرم سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ پورے محلے کا ہر ضرورت مند دادی جان کو عزیز تھا ۔ اسکے لئے کسی شناسائی کی کبھی ضرورت نہیں پڑی ۔ بس جس نے بھی دادی جان کہہ دیا اس سے شناسائی ہو گئی ۔ رستے چلتے دادی جان کو سلام سلام کی آوزیں ایک معمول تھا ۔ ہر اجنبی دیکھ کر ہنستا تھا ۔ دن بھر میں ایک بار بازار کا چکر لازمی تھا ، ریہڑی والے ، خوانچہ بان ، سڑک کنارے بیٹھا ہر کوئی ، امید لئے آواز دیتا اور دادی جان کبھی مایوس نہ کرتی ۔ اپنے لئے نہیں تو ، بشیرو اور بشیرو کے بچوں کیلئے ہی خرید لیتیں ۔ کیا ہوا ہو گا ، جب سب کی دادی قبر کی طرف چلی ہونگی ۔ کتنی آنکھیں نم آلود ہوئی ہونگی ۔ اپنے پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں کو کتنا جبر کرنا پڑے گا ، جب کمرے سے ڈانٹ کی آواز نہیں آئے گی ۔ جب گھر میں گھستے ہی کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا کہ آج وقت پہ کیوں نہیں آئے ۔ شکریہ ازاد ھاشمی |
Wednesday, 8 February 2017
جاہل قوم کے مقدس لیڈر
" جاہل قوم
کے مقدس لیڈر "
ہماری قوم کی بھی عجیب روایات ہیں ، جس کو جب چاہیں مسیحائی کی خلعت عطا کردیں اور جس کو جب چاہیں ٹھاہ بنا دیں ۔ ایک سو چھبیس سیاسی جماعتیں ، انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہیں اور ان میں سے نصف ایسی ہیں جن کے خالق قانون کی نظر میں مجرم ، خائن ، دشمن کے ایجنٹ اور قابلیت کے اعتبار سے جاہل مطلق ہیں ۔ ان سب نے ایک ایک منشور جمع کرا رکھا ہے ، جو تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ ایک دوسرے کا چربہ ہے ۔ وہ جماعتیں جو ملکی قانون کی شرائط پوری نہیں کر رہیں انکی گنتی ممکن نہیں ، کیونکہ ایک ایک شہر میں انگنت ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب منشور ملتے جلتے ہیں تو پھر الگ الگ محاذ کی ضرورت کیا ہے ۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے سے کیا مقصد حاصل ہو سکتا ہے ۔ جب سوچ ایک ہے تو اکٹھے بیٹھنے میں کیا حرج ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ منشور سے کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں ، نہ لیڈرز کو نہ کارکنوں کو ۔ مفادات کی جنگ ہے ، لیڈرز کی بھی اور سیاسی پیشہ ور کارکنوں کی بھی ۔ یہی جمہوریت ہے جس نے ایمان کی جگہ لے لی ہے ۔ پیشہ ور سیاسی کارکنوں نے ان لیڈروں کو مقدس بنا رکھا ہے ، کسی کی مجال نہیں کہ کسی سیاسی چور کو چور کہہ سکے ۔ ایسا سچ بولنے والے کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ سلیکشن کمیشن ، احتسابی ادارے ، ملکی سالمیت کے ذمہ داروں نے کبھی جرات نہیں کی کہ سیاسی پارٹی کو منشور پر عمل نہ کرنے کے باعث مزید مذاق سے روک دیا ہو ۔
ایسے نظام اور طرز حکمرانی کو کیا کہنا درست ہو گا ۔ کیا اسے جاری رہنا چاہئے یا ختم ہونا چاہئے ۔ آئیے ملکر سوچتے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
ہماری قوم کی بھی عجیب روایات ہیں ، جس کو جب چاہیں مسیحائی کی خلعت عطا کردیں اور جس کو جب چاہیں ٹھاہ بنا دیں ۔ ایک سو چھبیس سیاسی جماعتیں ، انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہیں اور ان میں سے نصف ایسی ہیں جن کے خالق قانون کی نظر میں مجرم ، خائن ، دشمن کے ایجنٹ اور قابلیت کے اعتبار سے جاہل مطلق ہیں ۔ ان سب نے ایک ایک منشور جمع کرا رکھا ہے ، جو تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ ایک دوسرے کا چربہ ہے ۔ وہ جماعتیں جو ملکی قانون کی شرائط پوری نہیں کر رہیں انکی گنتی ممکن نہیں ، کیونکہ ایک ایک شہر میں انگنت ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب منشور ملتے جلتے ہیں تو پھر الگ الگ محاذ کی ضرورت کیا ہے ۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے سے کیا مقصد حاصل ہو سکتا ہے ۔ جب سوچ ایک ہے تو اکٹھے بیٹھنے میں کیا حرج ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ منشور سے کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں ، نہ لیڈرز کو نہ کارکنوں کو ۔ مفادات کی جنگ ہے ، لیڈرز کی بھی اور سیاسی پیشہ ور کارکنوں کی بھی ۔ یہی جمہوریت ہے جس نے ایمان کی جگہ لے لی ہے ۔ پیشہ ور سیاسی کارکنوں نے ان لیڈروں کو مقدس بنا رکھا ہے ، کسی کی مجال نہیں کہ کسی سیاسی چور کو چور کہہ سکے ۔ ایسا سچ بولنے والے کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ سلیکشن کمیشن ، احتسابی ادارے ، ملکی سالمیت کے ذمہ داروں نے کبھی جرات نہیں کی کہ سیاسی پارٹی کو منشور پر عمل نہ کرنے کے باعث مزید مذاق سے روک دیا ہو ۔
ایسے نظام اور طرز حکمرانی کو کیا کہنا درست ہو گا ۔ کیا اسے جاری رہنا چاہئے یا ختم ہونا چاہئے ۔ آئیے ملکر سوچتے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
قوم کا تماشہ
تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ , جو حکومتی
معاملات کو دیکھتے رہے اور ہر پہلو سے آگاہ ہیں - جیسے عدالتوں کے ریٹائر جج ,
تدریسی اداروں کے استاد , بیوروکریٹ , فوجی افسران , پولیس افسران اور کہنہ مشق
دانشور -
کیا
سمجھ کر قوم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں - اپنے حصے کی آگہی کیوں نہیں دے رہے - کیا وہ
یہی خواب دیکھ رہے ہیں , کہ جن مراعات سے خود لطف اندوز ہوتے رہے - وہ مراعات انکی
نسلوں کے حصے میں بھی آئینگی - اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا , حکمران جیسے بھی
آتے رہیں - انکی
نسلیں خوشحال ہی رہینگی-
یہ کھلی آنکھوں کا خواب ہے-
چلو اگر دوران ملازمت ان پر پابندیاں تھیں ,
کہ وہ اسی ڈگر پہ چلیں گے , جس پہ حکومتی سسٹم چلایے گا - جاہل اور بد دیانت
اسمبلیوں میں جو بھی قانون بنائیں گے وہی حرف آخر ہو گا - مان لیا یہ انکی
مجبوری تھی -
مگر ریٹائرمنٹ کے بعد قوم کے لئے نہ
سہی , اپنی نسلوں کے لئے تو سوچیں - اپنے ارد گرد یہ آگاہی تو دیں کہ نئی نسل کا
مستقبل کیسے محفوظ ہو گا -
قوم کو بتائیں کہ سیاستداں
کتنے کرپٹ ہیں -
ہم نے بڑے بڑے افسران کے بچے , چھوٹی چھوٹی
ملازمتوں کے لئے دھکے کھاتے دیکھے ہیں - کیونکہ ہر اچھی ملازمت سیاستدانوں کے بچوں
اور رشتہ داروں کا حق ہو چکی ہے -
اس جمہوریت کے فریب نے کرپٹ لوگوں کا مضبوط
گٹھ جوڑ بنا دیا ہے - جو اکثریت میں ہونے کیوجہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آ رہے
ہیں - اس سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے , اسکے لئے ان تمام لوگوں کو آگے آنا ہو
گا , جو دیواروں سے لگے بیٹھے ہیں - اپنے
وطن کی مٹی کا قرض ہے ہم سب پر - ہم سب کو یہ
قرض چکانا ہے - مجھے بھی آپکو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
Subscribe to:
Comments (Atom)