Friday, 10 February 2017

اے میری ماں


" اے میری ماں "
چوالیس سال پہلے جب میرے والد محترم اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے ۔ میرے کندھے بہت کمزور تھے اور بوجھ بہت زیادہ تھا ۔ نہ دل گبھرایا نہ ہمت نے ساتھ چھوڑا ۔ چند آنسو بہے اور قرار آگیا ۔ کیوں ۔ پتہ نہیں چلا ۔ امتحان آتے رہے ، اور گذرتے رہے ۔ لوگ سمجھتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بہت دلیر ہوں ۔ یہ سچ بھی تھا اور وقت کی ضرورت بھی ۔ در اصل میرے پاس دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھ تھے ۔ سکون دینے والی ایک آغوش تھی ۔ سر رکھ کر رونے کو ایک کندھا تھا ۔ میری جرات کا سارا بھرم اسی پہ قائم تھا ۔ آج یہ سہارا مجھ سے دور چلا گیا ۔ نہ آنکھیں سوکھ رہی ہیں نہ دل کو چین آرہا ہے ۔ چیخ چیخ کر رونے کو دل چاہ رہا ہے ۔ منوں مٹی تلے پڑی ماں سے لپٹ کر اپنی ضدیں دھرانے کو من کر رہا ہے ۔ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ اے ماں ، یہ تو بتا جا ، اب کس کندھے پہ یہ سر رکھوں ۔ کس سے چپکے چپکے ان دعاؤں کے لئے کہوں ، جو دنیا کی دلدلوں سے نکالے ۔  آخر کیا حرج تھا چند سال اور رک جاتیں ۔  تیرے بغیر نہیں جی سکوں گا ۔ نہیں جی سکوں گا ۔  نہیں جی سکوں گا ۔  تم جانتی ہو ، جو کہتا ہوں کرتا ہوں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی



دادی جان


" دادی جان "
ہر جانے انجانے سے بے لوث اپنائیت کا رشتہ ، ہر عمر کے مرد اور عورتوں کی دادی جان ، میرے فخر کا سرمایہ میری ماں تھیں ۔ کسی کا سودا نہ بکے ،ضرورت ہو یا نہ ہو دادی جان ہمہ وقت خریدار تھیں ، کوئی مریض ہے تو دادی جان کے حقیقی پوتے پوتیاں علاج کو حاضر ہیں ۔  اپنے پوتے پوتیوں پر ہر وقت نظر کا ثمر ہے کہ آج میرے سارے بچے اللہ کے کرم سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ پورے محلے کا ہر ضرورت مند دادی جان کو عزیز تھا ۔ اسکے لئے کسی شناسائی کی کبھی ضرورت نہیں پڑی ۔ بس جس نے بھی دادی جان کہہ دیا اس سے شناسائی ہو گئی ۔ رستے چلتے دادی جان کو سلام سلام کی آوزیں ایک معمول تھا ۔ ہر اجنبی دیکھ کر ہنستا تھا ۔  دن بھر میں ایک بار بازار کا چکر لازمی تھا ، ریہڑی والے ، خوانچہ بان ، سڑک کنارے بیٹھا ہر کوئی  ، امید لئے آواز دیتا اور دادی جان کبھی مایوس نہ کرتی ۔ اپنے لئے نہیں تو ، بشیرو اور بشیرو کے بچوں کیلئے ہی خرید لیتیں ۔
کیا ہوا ہو گا ، جب سب کی دادی قبر کی طرف چلی ہونگی ۔ کتنی آنکھیں نم آلود ہوئی ہونگی ۔ اپنے پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں کو کتنا جبر کرنا پڑے گا ، جب کمرے سے ڈانٹ کی آواز نہیں آئے گی ۔ جب گھر میں گھستے ہی کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا کہ آج وقت پہ کیوں نہیں آئے  ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی

Wednesday, 8 February 2017

جاہل قوم کے مقدس لیڈر



" جاہل قوم کے مقدس  لیڈر  "
ہماری قوم کی بھی عجیب روایات ہیں ، جس کو جب چاہیں مسیحائی کی خلعت عطا کردیں اور جس کو جب چاہیں ٹھاہ بنا دیں  ۔ ایک سو چھبیس سیاسی جماعتیں ، انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہیں اور ان میں سے نصف ایسی ہیں جن کے خالق قانون کی نظر میں مجرم ، خائن ، دشمن کے ایجنٹ اور قابلیت کے اعتبار سے جاہل مطلق ہیں ۔ ان سب نے ایک ایک منشور جمع کرا رکھا ہے ، جو تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ  ایک دوسرے کا چربہ ہے ۔ وہ جماعتیں جو ملکی قانون کی شرائط پوری نہیں کر رہیں انکی گنتی ممکن نہیں ، کیونکہ ایک ایک شہر میں انگنت  ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب منشور ملتے جلتے ہیں تو پھر الگ الگ محاذ کی ضرورت کیا ہے ۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے سے کیا مقصد حاصل ہو سکتا ہے ۔ جب سوچ ایک ہے تو اکٹھے بیٹھنے میں کیا حرج ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے  کہ منشور سے کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں ، نہ لیڈرز کو نہ کارکنوں کو ۔ مفادات کی جنگ ہے ، لیڈرز کی بھی اور سیاسی پیشہ ور کارکنوں کی بھی ۔ یہی  جمہوریت ہے جس نے ایمان کی جگہ لے لی ہے ۔ پیشہ ور سیاسی کارکنوں نے ان لیڈروں کو مقدس بنا رکھا ہے ، کسی  کی مجال نہیں کہ کسی سیاسی چور کو چور کہہ سکے ۔ ایسا سچ بولنے والے کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ سلیکشن کمیشن ، احتسابی ادارے ، ملکی سالمیت کے ذمہ داروں نے کبھی جرات نہیں کی کہ سیاسی پارٹی کو منشور پر عمل نہ کرنے کے باعث مزید مذاق سے روک دیا ہو ۔
ایسے نظام اور طرز حکمرانی کو کیا کہنا درست ہو گا ۔ کیا اسے جاری رہنا چاہئے یا ختم ہونا چاہئے ۔ آئیے ملکر سوچتے ہیں ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی 

قوم کا تماشہ



 قوم کا تماشہ
تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ , جو حکومتی معاملات کو دیکھتے رہے اور ہر پہلو سے آگاہ ہیں - جیسے عدالتوں کے ریٹائر جج , تدریسی اداروں کے استاد , بیوروکریٹ , فوجی افسران , پولیس افسران اور کہنہ مشق دانشور -
 کیا سمجھ کر قوم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں - اپنے حصے کی آگہی کیوں نہیں دے رہے - کیا وہ یہی خواب دیکھ رہے ہیں , کہ جن مراعات سے خود لطف اندوز ہوتے رہے - وہ مراعات انکی نسلوں کے حصے میں بھی آئینگی - اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا , حکمران جیسے بھی آتے رہیں - انکی
 نسلیں خوشحال  ہی  رہینگی- یہ  کھلی  آنکھوں کا  خواب  ہے-
چلو اگر دوران ملازمت ان پر پابندیاں تھیں , کہ وہ اسی ڈگر پہ چلیں گے , جس پہ حکومتی سسٹم چلایے گا - جاہل اور  بد دیانت اسمبلیوں میں جو بھی قانون بنائیں گے  وہی حرف آخر ہو گا - مان لیا یہ انکی مجبوری تھی -
 مگر ریٹائرمنٹ کے بعد قوم کے لئے نہ سہی , اپنی نسلوں کے لئے تو سوچیں - اپنے ارد گرد یہ آگاہی تو دیں کہ نئی نسل کا مستقبل کیسے محفوظ ہو  گا -
قوم  کو بتائیں  کہ سیاستداں
کتنے کرپٹ  ہیں -
ہم نے بڑے بڑے افسران کے بچے , چھوٹی چھوٹی ملازمتوں کے لئے دھکے کھاتے دیکھے ہیں - کیونکہ ہر اچھی ملازمت سیاستدانوں کے بچوں اور رشتہ داروں کا حق ہو چکی ہے -
اس جمہوریت کے فریب نے کرپٹ لوگوں کا مضبوط گٹھ جوڑ بنا دیا ہے - جو اکثریت میں ہونے کیوجہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آ رہے ہیں - اس سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے , اسکے  لئے ان تمام لوگوں کو آگے آنا ہو گا , جو دیواروں سے لگے بیٹھے ہیں - اپنے
وطن کی مٹی کا قرض ہے ہم سب پر - ہم سب کو یہ قرض چکانا ہے - مجھے بھی آپکو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی