تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ , جو حکومتی
معاملات کو دیکھتے رہے اور ہر پہلو سے آگاہ ہیں - جیسے عدالتوں کے ریٹائر جج ,
تدریسی اداروں کے استاد , بیوروکریٹ , فوجی افسران , پولیس افسران اور کہنہ مشق
دانشور -
کیا
سمجھ کر قوم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں - اپنے حصے کی آگہی کیوں نہیں دے رہے - کیا وہ
یہی خواب دیکھ رہے ہیں , کہ جن مراعات سے خود لطف اندوز ہوتے رہے - وہ مراعات انکی
نسلوں کے حصے میں بھی آئینگی - اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا , حکمران جیسے بھی
آتے رہیں - انکی
نسلیں خوشحال ہی رہینگی-
یہ کھلی آنکھوں کا خواب ہے-
چلو اگر دوران ملازمت ان پر پابندیاں تھیں ,
کہ وہ اسی ڈگر پہ چلیں گے , جس پہ حکومتی سسٹم چلایے گا - جاہل اور بد دیانت
اسمبلیوں میں جو بھی قانون بنائیں گے وہی حرف آخر ہو گا - مان لیا یہ انکی
مجبوری تھی -
مگر ریٹائرمنٹ کے بعد قوم کے لئے نہ
سہی , اپنی نسلوں کے لئے تو سوچیں - اپنے ارد گرد یہ آگاہی تو دیں کہ نئی نسل کا
مستقبل کیسے محفوظ ہو گا -
قوم کو بتائیں کہ سیاستداں
کتنے کرپٹ ہیں -
ہم نے بڑے بڑے افسران کے بچے , چھوٹی چھوٹی
ملازمتوں کے لئے دھکے کھاتے دیکھے ہیں - کیونکہ ہر اچھی ملازمت سیاستدانوں کے بچوں
اور رشتہ داروں کا حق ہو چکی ہے -
اس جمہوریت کے فریب نے کرپٹ لوگوں کا مضبوط
گٹھ جوڑ بنا دیا ہے - جو اکثریت میں ہونے کیوجہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آ رہے
ہیں - اس سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے , اسکے لئے ان تمام لوگوں کو آگے آنا ہو
گا , جو دیواروں سے لگے بیٹھے ہیں - اپنے
وطن کی مٹی کا قرض ہے ہم سب پر - ہم سب کو یہ
قرض چکانا ہے - مجھے بھی آپکو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment