|
" اے میری ماں "
چوالیس سال پہلے جب میرے والد محترم اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ اللہ انہیں
جنت نصیب کرے ۔ میرے کندھے بہت کمزور تھے اور بوجھ بہت زیادہ تھا ۔ نہ دل
گبھرایا نہ ہمت نے ساتھ چھوڑا ۔ چند آنسو بہے اور قرار آگیا ۔ کیوں ۔ پتہ نہیں
چلا ۔ امتحان آتے رہے ، اور گذرتے رہے ۔ لوگ سمجھتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بہت
دلیر ہوں ۔ یہ سچ بھی تھا اور وقت کی ضرورت بھی ۔ در اصل میرے پاس دعا کے لئے
اٹھنے والے ہاتھ تھے ۔ سکون دینے والی ایک آغوش تھی ۔ سر رکھ کر رونے کو ایک
کندھا تھا ۔ میری جرات کا سارا بھرم اسی پہ قائم تھا ۔ آج یہ سہارا مجھ سے دور
چلا گیا ۔ نہ آنکھیں سوکھ رہی ہیں نہ دل کو چین آرہا ہے ۔ چیخ چیخ کر رونے کو دل
چاہ رہا ہے ۔ منوں مٹی تلے پڑی ماں سے لپٹ کر اپنی ضدیں دھرانے کو من کر رہا ہے
۔ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ اے ماں ، یہ تو بتا جا ، اب کس کندھے پہ یہ سر رکھوں ۔
کس سے چپکے چپکے ان دعاؤں کے لئے کہوں ، جو دنیا کی دلدلوں سے نکالے ۔ آخر
کیا حرج تھا چند سال اور رک جاتیں ۔ تیرے بغیر نہیں جی سکوں گا ۔ نہیں جی
سکوں گا ۔ نہیں جی سکوں گا ۔ تم جانتی ہو ، جو کہتا ہوں کرتا ہوں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
|
No comments:
Post a Comment