کسی بھی جرم سزا ملنا انسانیت کی بقا کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے - عدالت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان عوامل کا پوری دیانتداری سے جائزہ لے جن کی بنا پر جرم سر زد ہوا - ایک قتل جیسے جرم کی تفتیش میں کسی بھی جانبداری عدل ا انصاف کا قتل ہے - ایک شخص جس نے اپنے جذبہ ایمانی پہ قتل کیا , یقینی طور پہ مقتول نے اس کے ایمان پر گزند لگائی , جس سے وہ مشتعل ہوا - کسی کے ایمان پر اشتعال انگیز بات کرنا بھی ایک جرم ہے , اور دوسرا ترغیب جرم بھی ہے - گویا مقتول نے جرم بھی کیا اور ترغیب جرم بھی -
اب چونکہ مقتول ایک با اثر سیاستدان , نامور وکیل اور گورنر تھا , قاتل ایک معمولی سپاہی , تو فیصلہ میں جھکاؤ با اثر لوگوں کی طرف ہونا , ہماری عدالتوں کی روایت ہے -
مبصرین ایک طرف تو سزایے موت کو ظلم کہتے ہیں , دوسری طرف اس پھانسی کو حق سمجھتے ہیں - قاتل کو پھانسی ملنا ٹھیک ہے تو پھر ان سب قاتلوں کا کیا ہوا , جنہوں نے سر عام قتل کیے اور رہا ہو گئے -
اسلیے کہ قاتل با اثر تھے اور مقتول غریب تھے - کیا جواب ہے ہمارے ناقدین کے پاس , کیا جواز ہے ہماری عدالتوں کے پاس -
یاد رہے جن قوموں سے عدل اٹھ جاتا ہے , وہ قومیں آفات کا شکار بن جاتی ہیں -
آزاد ہاشمی
Wednesday, 1 March 2017
حب نبی پر سزائے موت
Tuesday, 28 February 2017
کہتے ہیں
" کہتے ہیں "
مجھے تو بین الاقوامی سیاست اور سیاست کے کھلاڑیوں سے کوئی خاص دلچسپی کبھی نہیں رہی ۔ کہتے ہیں کہ اسرائیل کا ایک وزیراعظم ، جو مسلمانوں کی نسل کشی پر ہمہ وقت تیار رہتا تھا ، پاگل خانے سے کئی سال علاج کرواتا رہا تھا ۔ سنا ہے کہ بھارت کا ایک وزیر اعظم صبح کا آغاز اپنا پیشاب پی کر کیا کرتا تھا ، اور موجودہ وزیر اعظم بھی مسلمانوں کی دشمنی میں نیم پاگل ہے ۔ سنا ہے کہ امریکہ کے کئی صدر اخلاقی پستی کی اس حد پر پہنچے ہوئے تھے کہ اپنے ماتحت عورتوں سے جنسی تعلقات رکھتے تھے ۔ سنا ہے کہ موجودہ امریکی صدر بھی پاگلوں کی سی حرکتیں کرتا ہے ، اور ذہنی مریض دکھائی دیتا ہے ۔ سنا ہے کہ امریکہ کی صدارتی مہم کے دوران ، دونوں امیدواروں نے رقص کے جوہر بھی دکھائے ۔
سنا ہے کہ شعوری بلوغت کا تعلق کالج یونیورسٹی سے نہیں ہوتا ، کردار کی پختگی سے ہوتا ہے ۔ جب پاگل ، متعصب ، شعوری نا بالغ ، سربراہان بن جائیں گے تو معاشرتی پستی تو ہو گی ۔ جب مہذب لوگ ، جنسی مریضوں کو اپنا رہنماء مان لیں گے تو تہذیب کے پاس باقی کیا رہ جائے گا ۔
یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا اخلاقی دیوالیہ پن ہو گیا یا چند گروہوں نے مہذب لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے -
یہ ساری آشیر باد ، اسی نظام کی ہے ، جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں ۔ یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے بغاوت کی ، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ۔ ہم مسلمانوں نے بھی نظام اسلام ، نظام مصطفےٰ سے انحراف کیا ہے ۔ آج ہم پر بھی اخلاقی دیوالیہ لوگ مسلط ہیں ۔ کہتے ہیں ، حکمرانوں سے قوموں کے مزاج کا پتہ چلتا ہے ۔ اب کسی قوم کے بارے میں یہ جان لینا کہ وہ کتنی مہذب ہے ، واضع ہو گیا ۔
ہم مسلمان ، ایسے دین کے ماننے والے ہیں ، جس کی اخلاقیات ، تہذیب و تمدن تسلیم شدہ حقیقت ہے ، پھر ہمیں کیا ہو گیا ۔ کہ ہماری پہچان بد دیانت ، ملت فروش ، جنگجو اور فسادی کیسے بن گئی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Sunday, 26 February 2017
یہ فسادی لوگ
" یہ فسادی لوگ "
میری ناقص عقل میں یہ بات آج تک ، سمجھ نہیں آئی کہ دہشت گرد کون ہیں ، کہاں سے آتے ہیں ، کونسے ایسے مدارس ہیں جو انہیں تیار کرتے ہیں ۔ کبھی اردو بولنے والوں کے گلے میں دہشتگرد ہونے کا ہار پہنا دیا جاتا اور پوری کراچی عذاب کا شکار ہو جاتی ہے ۔ کبھی سندھیوں کو دڑیل بنا دیا جاتا ہے اور راتوں کو کانوائے چلائے جاتے ہیں ، کبھی بلوچوں کو وطن دشمنی کی خلعت عطا کر کے انہیں پہاڑوں پر چڑھا دیا جاتا ہے ، کبھی پختون خود کش حملہ آور ہو جاتے ہیں ، آج کل یہی کھیل پنجاب میں بھی شروع ہو گیا ۔ یہ تمام عمل مرحلہ وار جاری رہتا ہے ، اور پھر ایک لمبی خاموشی چھا جاتی ہے ۔ عقلمند ایجینسیاں اسے اپنی کارکردگی بتاتی ہیں ، حکومتیں اسے اپنا کارنامہ قرار دیتی ہیں ۔
مگر یہ جن ، پھر سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ یہ خصوصی طور پر اسوقت ہوتا ہے ، جب اقتدار پر بیٹھے لوگ کسی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
ہم تمام لوگ ، چھوٹے چھوٹے طبقوں میں رہتے ہیں ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے کافی حد تک اگاہ رہتے ہیں ۔ کتنے لوگ ہیں ، جن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اسکا ہمسایہ ، عزیز رشتہ دار ، محلے دار ، دوست یا شناسائی کے لوگوں میں کوئی ایک دہشت کا سبب بن رہا ہے ۔ ایسا شاذہی ہوتا ہے ۔ ایک علاقے میں دو چار بگڑے ہوئے لوگ ہوتے ہیں ، جن سے سب اگاہ ہوتے ہیں ۔ ایک دوسری بات قابل فہم نہیں ، کہ خودکش کی قومیت کا اندازہ کیسے ہو جاتا ہے ، ملنے والے کوائف سے اسکے مخصوص ماحول کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا ۔
سینے پہ بم باندھ لینا ، بھلے جنت کی خاطر کیوں نہ ہو ، آسان کام نہیں ۔ جان دینا اور وہ بھی کسی مقصد کے بغیر ، ہوش و حواس میں کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔
ہمارے تمام معاشرے میں بگڑے ہوئے لوگوں کا تناسب آج بھی نہایت کم ہے ۔ آپ سب اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر دیکھ لیں ۔
یہ ایک تحریک ہے ، جس کی پشت پر صاحب اثر لوگ ہیں ، جو کبھی علماء کو نشانے پر رکھ لیتے ہیں ، کبھی حقوق کی آواز اٹھانے والوں کو اور کبھی ان دیکھی طاقتوں کا واویلا مچا کر اپنے مقاصد حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ یہ ہیں دہشت گرد ۔ انکا محاسبہ نہ کبھی پہلے ہوا اور نہ آج ہو رہا ہے ۔ ان کو جو بھی نام دے لیں ، پھر بھی یہ معاشرے کے شرفاء ہی رہتے ہیں ۔ اور رسی کسی نہ کسی غریب کی گردن پر کس دی جاتی ہے ۔ یہ ہے فساد اور اسے روا رکھنے والے سب فسادی ہیں ۔ یہ ہے میری اور آپکی تقدیر ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی