Sunday, 26 February 2017

یہ فسادی لوگ

" یہ فسادی لوگ "
میری ناقص عقل میں یہ بات آج تک ،  سمجھ نہیں آئی کہ دہشت گرد کون ہیں ، کہاں سے آتے ہیں ، کونسے ایسے مدارس ہیں جو انہیں تیار کرتے ہیں ۔ کبھی اردو بولنے والوں کے گلے میں دہشتگرد ہونے کا ہار پہنا دیا جاتا اور پوری کراچی عذاب کا شکار ہو جاتی ہے ۔ کبھی سندھیوں کو دڑیل بنا دیا جاتا ہے اور راتوں کو کانوائے چلائے جاتے ہیں ، کبھی بلوچوں کو وطن دشمنی کی خلعت عطا کر کے انہیں پہاڑوں پر چڑھا دیا جاتا ہے ، کبھی پختون خود کش حملہ آور ہو جاتے ہیں ، آج کل یہی کھیل پنجاب میں بھی شروع ہو گیا ۔ یہ تمام عمل مرحلہ وار جاری رہتا ہے ، اور پھر ایک لمبی خاموشی چھا جاتی ہے ۔ عقلمند ایجینسیاں اسے اپنی کارکردگی بتاتی ہیں ، حکومتیں اسے اپنا کارنامہ قرار دیتی ہیں ۔
مگر یہ جن ، پھر سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ یہ خصوصی طور پر اسوقت ہوتا ہے ، جب اقتدار پر بیٹھے لوگ کسی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
ہم تمام لوگ ، چھوٹے چھوٹے طبقوں میں رہتے ہیں ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے کافی حد تک اگاہ رہتے ہیں ۔ کتنے لوگ ہیں ، جن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اسکا ہمسایہ ، عزیز رشتہ دار ، محلے دار ، دوست یا شناسائی کے لوگوں میں کوئی ایک دہشت کا سبب بن رہا ہے ۔ ایسا شاذہی ہوتا ہے ۔ ایک علاقے میں دو چار بگڑے ہوئے لوگ ہوتے ہیں ، جن سے سب اگاہ ہوتے ہیں ۔ ایک دوسری بات قابل فہم نہیں ، کہ خودکش کی قومیت کا اندازہ کیسے ہو جاتا ہے ، ملنے والے کوائف سے اسکے مخصوص ماحول کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا ۔
سینے پہ بم باندھ لینا ، بھلے جنت کی خاطر کیوں نہ ہو ، آسان کام نہیں ۔ جان دینا اور وہ بھی کسی مقصد کے بغیر ، ہوش و حواس میں کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔
ہمارے تمام معاشرے میں بگڑے ہوئے لوگوں کا تناسب آج بھی نہایت کم ہے ۔ آپ سب اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر دیکھ لیں ۔
یہ ایک تحریک ہے ، جس کی پشت پر صاحب اثر لوگ ہیں ، جو کبھی علماء کو نشانے پر رکھ لیتے ہیں ، کبھی حقوق کی آواز اٹھانے والوں کو اور کبھی ان دیکھی طاقتوں کا واویلا مچا کر اپنے مقاصد حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ یہ ہیں دہشت گرد ۔ انکا محاسبہ نہ کبھی پہلے ہوا اور نہ آج ہو رہا ہے ۔  ان کو جو بھی نام دے لیں ، پھر بھی یہ معاشرے کے شرفاء ہی رہتے ہیں ۔ اور رسی کسی نہ کسی غریب کی گردن پر کس دی جاتی ہے ۔ یہ ہے فساد اور اسے روا رکھنے والے سب فسادی ہیں ۔ یہ ہے میری اور آپکی تقدیر ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment