Friday, 10 August 2018

حسد کی آگ

" حسد کی آگ "
عرب کے سردار ، صرف اللہ کی وحدانیت کے اعلان کیوجہ سے نالاں نہیں تھے ۔ عقائد کا تضاد  پہلے سے موجود تھا ، مکہ کے ارد گرد ، یہودی بھی تھے جو توحید کے قائل بھی تھے اور اپنے عقائد کا اعلانیہ اظہار بھی کرتے تھے ۔ عیسائی بھی تھے جو تثلیث کے قائل تھے مگر اللہ کو مانتے تھے اور بتوں سے انکاری تھے ۔ بت پرست بھی کئی عقائد کے پرستار تھے ۔ عرب سرداروں کو ضد تھی کہ انکے قبائل کا ایک یتیم اور غریب اٹھ کر انکی سرداری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ یہ انہیں قطعی قبول نہیں تھا کہ جن سرداری کی مسندوں پر انکے باپ دادا بیٹھے رہے اور جو انکی وراثت ہیں ۔ کوئی اٹھ کر چھین لے ۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ رفتہ رفتہ لوگ اس نئے عقیدے کیطرف بڑھنے لگے ہیں ۔ انہیں خبر تھی کہ جو ہستی یہ پیغام پھیلا رہی ہے وہ کردار کے اعتبار سے انتہائی اعلیٰ مقام پر ہے ۔ اگر یہ تسلسل جاری رہتا ہے تو ان سرداروں کی وراثت انکے ہاتھ سے نکل جائے گی ۔ اس اقتدار کی ہوس میں سب ایک ساتھ تھے  ، سب متحد تھے ۔ انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی شخص یہ یقین کر لیتا ہے کہ وہ اپنے حریف کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا تو اسکے اندر ایک آگ سلگ اٹھتی ہے ۔ یہ آگ " حسد " ہے ۔ جو انتقام کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ اس " حسد " سے مغلوب کسی بھی شخص  کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا حکم آیا ہے ۔
کچھ ایسی ہی آگ اسوقت سیاست کے وارثوں کے دلوں میں جاگ اٹھی ہے ۔ انہیں یقین ہوتا جا رہا کہ ایک " کاو بوائے " جو کل ایک " کھلاڑی " تھا ۔ جس کا نہ باپ ، نہ دادا اور نہ کوئی عزیز کبھی سیاست کی کسی کرسی پر بیٹھا ۔ ان پیشہ ور سیاستدانوں کی کرسیاں چھین رہا ہے ۔ لوگ اس کی بات سن بھی رہے ہیں اور یقین بھی کرنے لگے ہیں ۔ جو نہ پگڑی پہنتا ہے اور نہ ہی مذہبی ذہن رکھتا ہے ۔ جس کا ماضی بھی کھلی کتاب کیطرح سب کے سامنے ہیں ۔ پھر ایسے شخص پر لوگ کیسے مہربان ہوگئے ۔
جب تک کسی پر " رب " مہربان نہ ہو ، تب تک اس پر " جگ " مہربان نہیں ہوتا ۔
سب سوچ رہے ہیں کہ اگر اسے زانی کہتے ہیں ، شرابی کہتے ہیں ، یہودی کہتے ہیں ۔ لوگ سنتے ہی نہیں ۔ یہ وہ قلق ہے کہ الٹا ہم پرہیز گاروں کو ، شرعی شکل و شباہت والوں کو ، صوم صلواة کے پابند لوگوں کو ، عوام نے رد کر دیا ۔ یہ ناکامی حسد کی بنیاد بن گئی ہے ۔ اور حسد کی آگ میں انتہا کوئی نہیں ہوتی ۔ یہی وہ انتقام ہے جس نے بہت زیرک اور تجربہ کار سیاستدانوں کے حواس چھین لئے ہیں ۔ وہ کونے کونے میں چیختے چلاتے پھرتے ہیں ۔ نہ عوام متحرک ہورہی ہے اور نہ طاقتیں مرعوب نظر آتی ہیں ۔ عجیب سی رسوائی ہی رسوائی دامن گیر ہوتی جا رہی ہے ۔ 
آزاد ھاشمی
١١ ستمبر ٢٠١٨

Thursday, 9 August 2018

چلیں ، مان لیا

" چلیں ، مان لیا "
اس امر پر بہت زور شور سے واویلا ہو رہا ہے کہ موجودہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس دھاندلی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ بھی تھی اور خلائی مخلوق بھی ۔خلائی مخلوق سے مراد " فوج " لی جاتی ہے ۔ چلیں مان لیا کہ دھاندلی بھی ہوئی اور خوب ہوئی ۔ بڑے بڑے برج الٹ گئے ۔ جو ہمیشہ اسمبلی میں رہے اور اسمبلی کی اجارہ داری انکا قانونی حق بھی تھا اور وراثت بھی ۔ چلیں مان لیا کہ بہت زیادتی ہوئی ۔ یہ قائدین جو ناکام ہوئے اور شکست کی حزیمت اٹھائی ، وہ ان حلقوں میں ملنے والے ووٹروں کو اکٹھا کر لیتے اور احتجاج ریکارڈ کروا دیتے ۔ آسانی ہو جاتی اور دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جاتا ۔
چلیں مان لیا کہ ان سے سیٹیں چھین کر اپنی پسند کے لوگوں کو دی گئیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو کیا یہ پہلی بار ہوا ہے یا ہر انتخاب پہ ہوتا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ ایسا کردار کرتی رہی ہے یا نہیں ۔ کوئی بھی قائد حلف اٹھا کر کہہ سکتا ہے کہ پہلے کبھی دھاندلی نہیں ہوئی ؟ جمہوریت کا مزاج ہی یہی ہے کہ اسے تکنیکی طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو اچھی  تکنیک استعمال کرتا ہے جیت جاتا ہے ۔ کئی سال تک کراچی لسانیت کی بناء پر ایک پارٹی کی مملکت بنا رہا ، پھر حیدرآباد ، پھر سکھر اور نوابشاہ بھی اسی پارٹی کے ہونے لگے تو کیا سب جمہوریت تھی یا خوف اسکی وجہ تھی ؟
اگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اس بار ایک نئی پریکٹس کرنی ہے تو کیا برا کیا ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کی تمام کی تمام سیاسی بساط کرپشن زدہ تھی ۔ اسکو ہٹا کر ایک مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کونسی برائی ہے ۔ جمہوریت کونسا الہامی نظام ہے کہ اس سے فرار کرنے سے دوزخ لازم ہو جاتی ہے ۔ کیا برائی ہے کہ کرپٹ لوگوں کو باہر اٹھا پھینکا جائے ۔ چلیں مان لیا کہ عمران خان پر خفیہ ہاتھوں کا سایہ ہے تو اسوقت پوری سیاست میں اس سے بہتر کوئی نظر آ رہا ہے تو اسکا نام لیں ۔ ماضی کی گندگی کو چہروں پے سجائے رکھنے سے قوم کا فائدہ ہے یا نقصان ۔ اسٹیبلشمبٹ کے فرائض کا حصہ ہےکہ وہ وطن کے مفادات کو اولیت دے ۔ شاید مفادات کا تقاضا تھا کہ مذہب کے نام پر جھوٹ بولنے والوں کو ، ملک لوٹنے والوں کو ، لسانیت کا تعصب پھیلانے والوں کو ، قومی اداروں کو بربادی کیطرف دھکیلنے والوں کو ، عوام کے حقوق غصب کرنے والوں کو اور قوم کو ہیجان میں رکھنے والوں کو " ڈسٹ بن " میں ڈال دیا جائے .  
جو ہوا ہے اسے قبول کر لینے میں عافیت ہے اور قوم اس کو قبول کر چکی ہے ۔ اب شور و غوغا لا حاصل ہے ۔
آزاد ھاشمی
٩ اگست ٢٠١٨

فوج کو سرٹیفیکیٹ

" فوج کو سرٹیفیکیٹ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جسے رسوائی دینا چاہتا ہے ، اسی کے کندھے پر رسوائی کا ڈھول رکھ دیتا ہے اور وہ اپنے آپ پر خود کیچڑ اچھالتا پھرتا ہے ۔ خود اپنے عیب کھولتا ہے اور تحقیر کا باعث بن جاتا ہے۔  اور جسے عزت دیتا ہے ،  لوگوں کے دلوں میں احترام ڈال دیتا ہے ۔ ہر کوئی احترام سے پیش آنے لگتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمنٰ سے نظریات کا اختلاف اپنی جگہ ، مگر میں ذاتی طور پر انکی سیاسی قابلیت کا معترف ہوں ۔ واحد سیاستدان جو چند سیٹوں پر بھی ہمیشہ حکومت کا حصہ رہے ۔ پورے دھڑلے سے اپنی بات منوائی ۔  سیاست کے گرو " آصف زرداری " کو بھی انکی منشاء کے فوائد دینا پڑے ۔ حکمران کوئی بھی آیا ، مولانا ساتھ تھے ۔ ناقدین تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ مولانا ہر جانے والے  حکمران کی مطلقہ ، موجود حکمران کی منکوحہ اور آنے والے کی منگیتر رہے ۔ یہ کوئی ظرافت نہیں انکی سیاسی قابلیت تھی ۔ اب کیا ہوا ۔ اللہ نے ساری عمر کی ریاضت کو صفر کر ڈالا ۔ اب خود در در پہ جا کر اپنی بپتا سنا رہے ہیں ۔ زندگی بھر کے ساتھی اچکزئی صاحب بھی الگ ہو کر بیٹھ گئے ۔ جو ساتھ کھڑے ہیں ، وہ اکسا رہے ہیں کہ مولانا کا وہ حال کر دیں کہ پوری قوم متنفر ہو جائے ۔ اور یہ بہت کامیابی سے ہو رہا ہے ۔ جو شخص اپنی کرسی نہ بچا سکا ہو ، وہ فوج کو حب الوطنی بھی سکھائے اور فوج کو حدود بھی بتائے تو ایسے شخص کے ذہنی خلجان کا اندازہ کرنا مشکل نہیں رہ جاتا ۔ مجھے تعجب ہوا کہ وہ فوج کو ہدایات دینے لگے ہیں ۔ اتنی عقل تو ہونی چاہئیے تھی کہ کچھ بھی ہو ، ملک کو فوج کی ضرورت ہمیشہ رہے گی ۔ مگر مولانا کے ہونے یا نہ ہونے سے ملک کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ مولانا کے والد محترم بھی کبھی سیاست میں بڑا نام تھے ۔ پھر وہ گئے اور ملک ویسے ہی چلتا رہا ۔
آزاد ھاشمی
٩ اگست ٢٠١٨

بڈھا ہوئے گا تیرا پیو

" بڈھا ہوئے گا تیرا پیو "
زندگی کے بوجھ کو اگر اعصاب پر سوار نہ کیا جائے تو انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔  اسکی ہمت کبھی نہیں ٹوٹتی ۔ بابا نورا ، میرے شہر کا ایسا ہی ایک کردار تھا ۔ وہ سخت گرمی میں کلفی فالودہ بیچا کرتا تھا ۔ بچے اسکے گہرے دوست تھے ۔ جس بچے کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے ، جب وہ بچہ اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ لیتا ، وہ اسے پاس بلاتا اور کلفی فالودہ دے کر بولا کرتا ۔
" اوئے تیرا پیو ، وی میرا مقروض اے ۔ اوہ وی مفت فالودہ کھاندا سی "
بابے نورے کی اپنی ایک ہی بیٹی تھی ، لوگ بتاتے ہیں کہ شہر میں بہت زور کی بارش ہوئی تھی ۔ بابے کا کچا گھر گر گیا تھا ، جسکی چھت تلے اسکی بیٹی اور بیوی دونوں دب گئیں ۔ اب بابا پوری دنیا میں اکیلا تھا ۔ یہی شہر کر بڑے اور بچے اسکا خاندان تھا ۔ اکثر دیکھا گیا کہ ، جب کسی بھی بچی کو دیکھتا تو اسکے آنسو بہہ نکلتے  ۔ جسے وہ اپنی پگڑی کے پلو سے یوں صاف کرتا جیسے پسینہ سکھا رہا ہو ۔ وہ کلفی فالودہ بیچتا نہیں بانٹتا پھرتا تھا ۔ بچہ جو بھی اسکے ہاتھ پہ رکھ دیتا وہ دیکھے بغیر جیب میں ڈال لیتا اور پلیٹ بھر کر بچے کے حوالے کر دیتا ۔ گلی محلے کی ہر خاتون اسکی بیٹی اور ہر عمر رسیدہ اسکی بہن تھی ۔ کسی کو بھی دیکھ لیتا تو آواز دیتا ۔
" او چڑیل ! آج فالودہ نہیں کھائے گی " پلیٹ بھرتا اور دے دیتا ۔
" کھا ۔ تیرے پیو دا قرضہ دینا سی ۔ ادا ہو گیا "
ریہڑھی کے ساتھ بندھی ہوئی گھنٹی کی آواز ہر کان کو بھلی لگتی تھی ۔
" بابا ! سارا دن فالودہ بانٹتے ہو یا بیچتے ہو ؟ کیا فائدہ ہے اس محنت کا "
ایک بار میں نے پوچھا تھا ۔
" اوئے چورا ! بابا کسے کہہ رہے ہو ؟ بابا ہو گا تیرا باپ ۔ فیر پچھیا تے کن مروڑ دیاں گا " بابا ایسے ہی اردو بولتا تھا ۔ ایک آدھ فقرہ اردو باقی پنجابی ۔ شہر میں ہر کوئی فالودہ کھانے کے بعد ضرور کہتا ۔
" بابا جی ۔ ہن بڈھے ہو گئے او " تو بابا جی بولا کرتے
" بڈھا ہوئے گا تیرا پیو ۔ تیرا دادا ۔ تیرا پڑدادا "
اس جواب کی پیچھے ایک اپنائیت ہوا کرتی تھی ۔ ایک مسکراہٹ ہوا کرتی تھی ۔ ایک پیار ہوا کرتا تھا ۔
مجھے یاد ہے جس دن بابا نورا فوت ہوا ، پورا شہر اشکبار تھا ۔ فالودے والے کی ریہڑی کی گھنٹی ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی تھی ۔ یوں لگا جیسے پورے شہر کا واحد بڈھا چلا گیا ۔
آزاد ھاشمی
٨  اگست ٢٠١٨

کونسا اسلام

" کونسا اسلام "
ایک زیرک صاحب علم و دانش ہیں جو سوال کرتے ہیں
"اگر اسلام کی بات کریں تو پہلے یہ بتا دیں کہ کونسا اسلام؟ وہابی؟ دیوبندی سنی؟شیعہ؟بریلوی؟توحیدی؟ قبرپرست؟سہروردی؟ وردی؟بغیروردی؟ میٹھے میٹھے بھائی؟ کڑوے بھائی؟ کھٹے؟ پھیکے؟ عطاری ؟مداری؟ وغیرہ وغیرہ-
  پہلے بتائیں ان میں سے کس کا اسلام اور اسلامی انقلاب پھر اپنی رائے بھی ضرور دونگا "
سوال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ موصوف نے جس حقارت سے مختلف مسالک کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ۔  یہ کسی بھی مسلمان کو قطعی زیب نہیں دیتا ۔ یہ دل آزاری کی بات ہے ، جو اسلام میں اجازت نہیں ۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں ، تو ہمارا تقابل مسالک سے نہیں ، مذاہب سے ہوتا ہے ۔ جب ہم اسلام کے نظام کی بات کرتے ہیں تو ہم عیسائیت ، یہودیت ، بدھ مت ، ہندو ازم ، دہریت اور الحاد وغیرہ سے تقابل کرتے ہیں ۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو وہ نظام ، وہ لائحہ عمل ، وہ دستور ہوتا ہے جو اللہ نے ہمیں قرآن کی شکل میں عطا کیا ۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہمارا رہنماء پوری کائنات کا ہادئی برحق ہوتا ہے ۔ یہ ہے اسلام ۔ جب اسلامی انقلاب کی بات ہوتی ہے تو وہ انقلاب جو یزیدیت کے خلاف لایا گیا ۔ وہی انقلاب آج کی یزیدیت کیلئے ضروری ہے ۔
رہ گئے یہ مسالک ، تو کونسا مسلک ہے جو قرآن کا منکر ہے ، جو اطاعت رسول سے باہر ہے ۔ فروعی مسائل کا ہونا ، اسلام کی ناکامی نہیں ہے ۔ ان سب کو ہوا دینا ، دماغ کا خلجان ہے ۔ کوئی بھی باشعور ان معاملات کو اسلام کی ناکامی پر محمول نہیں کر سکتا ۔
ہمیں اخلاقی حدود میں رہ کر اپنی رائے زنی کرنی چاہئیے ۔ کسی مسلک کے کسی بھی پیروکار کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دوسرے مسلک کو اس تحقیر سے بلائے کہ فساد کی راہ کھل جائے ۔ یہ ہے اسلام اور یہ ہے اسلامی انقلاب ۔
آزاد ھاشمی
٩ اگست ٢٠١٨

Wednesday, 8 August 2018

قوم کا مورال اور عوام کی ذمہ داری

" قوم کا مورال اور عوام کی ذمہ داری "
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قوموں کی تنزلی اور ترقی میں " مورال " کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ دشمن نے جب کسی علاقے کو فتح کرنا ہوتا ہے ، تو جنگی اصول کے مطابق وہاں کے لوگوں میں شکست ڈال دی جاتی ہے ۔ اعصاب توڑے جاتے ہیں اور پھر فتح کرنے میں زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا ۔ مفتوح آسانی سے فاتح کو اپنا حکمران مان لیتے ہیں ۔ اگر مورال بلند ہو تو قومیں نسل در نسل دشمن کے قدم نہیں جمنے دیتیں ، بھلے دشمن کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو ۔ ہمارے سامنے ویتنام ، شمالی کوریا اور افغانستان زندہ مثالیں ہیں ۔ ہر قوم کے دانشور اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کا کردار مثبت نہ ہو تو قوم کے اعصاب بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں ۔ کچھ جہلاء غیر ارادی طور پر ، یا دشمن سے ساز باز کے تحت ، یا اپنی عقل کے زعم میں ، قوم کے اجتماعی مفادات کو شکست و ریخت کا شکار کرتے رہتے ہیں ۔ انہیں ہر اچھی بات پر اپنی ذہانت کا رعب جمانے کیلئے تنقید کرنا ہوتی ہے ۔ ان کے ادراک میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ قوم کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں ۔ اب ہم جس مرحلے میں ہیں ، کچھ لوگ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ اختلافات کو خوب ہوا دینی ہے ۔ آنے والے لوگوں کو ناکام کرنے کی ہر کوشش کرنی ہے ۔ طعن و تشنیع ، تضحیک میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی ۔ اخلاقیات کا جنازہ نکالنا ہے ۔ یہی انکی حب الوطنی ہے ۔
کچھ جیت گئے ، کچھ ہار گئے ۔ نہ جیتنے والے دشمن ہیں اور نہ ہارنے والوں کو دشمنی کی صف میں لا کھڑا کرنا عقلمندی ہے ۔ دونوں کی حب الوطنی کو چیلنج کرنا نہ تو عام شہری کے اختیار میں ہے اور نہ اسکے کہنے سے کوئی تبدیلی آنی ہے ۔ قانونی پیچیدگیاں حل کرنا اداروں کا کام ہے ، عام شہری کا نہیں ۔
اختصار کے ساتھ ، کہنا یہ ہے کہ قوم کے مورال کو زندہ رہنے دیا جائے ۔ اچھائی اور مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھا جائے ۔ طنز اور عیب جوئی پر اپنی اپنی توانائیاں ضائع نہ کی جائیں ۔ دانشور قوم کی رہنمائی فرمائیں ۔ قوم کو اسکے حقوق کے ساتھ ، فرائض بھی از بر کروائیں۔ یہ وطن کے بہترین مفاد میں ۔ نظریات بدلنا ، سیاست کی بساط پر عام سی بات ہے ۔ جو کل دشمن تھے ، ْآج دوست بن سکتے ہیں اور جو آج دوست ہیں کل کسی اور سے بغل گیر ہو رہے ہونگے ۔ عام شہری کو اس پر نہ فریفتہ ہونا درست ہے اور نہ بد ظن ہونے سے بات بنے گی ۔ خدا را ایک قوم بن کر سفر کا آغاز کریں ۔
آزاد ھاشمی
٦ اگست ٢٠١٨

جماعت کا کردار

" جماعت کا کردار "
بہت دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت کے تمام ارکان ، ذمہ داران اور دانشور لوگوں نے عمران خان کی دشمنی میں ، جو بندوق کندھے پہ رکھ لی ہے ۔ اور جس شدت سے سوشل میڈیا پر اشتہار بازی شروع کر دی ہے ۔ وہ جماعت کو منفی کردار کی جماعت کا تاثر دینے لگی ہے ۔ جماعت کی یہ سوچ دیکھ کر بہت آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے ، کہ وہ قطعی طور پر مایوس ہو گئے ہیں ۔ شکست کا اتنا گہرا اثر لینا ، نہ صرف سیاسی نا پختگی ہے ، بلکہ اقتدار کی ہوس کی انتہا ہے ۔ اراکین ، جن سے نفاست طبع اور اخلاقیات سیکھی جاتی تھی ، اب بازاری لب و لہجہ پر اتر آئے ہیں ۔ یہ رویہ لوگوں کو متاثر نہیں بلکہ متنفر کرے گا ۔ آج ایک محقق " خلافت " کے خلاف بول رہے تھے اور پورے دلائل دے رہے تھے کہ خلافت کا سوچنا ہی دانشمندی نہیں ۔ یہ وہ سوچ ہے جو جماعت کو دوسری لبرل پارٹیوں کی صف میں لے آئے گی ۔ خلافت کی بات نہ سہی ، اسلامی نظام کی بات کرنے میں کیا تردد باقی ہے ۔
عرض یہ تھی کہ اس غم کو اتنا دل پہ مت لگائیں ، اگر عمران خان کو لایا گیا ہے تو بھی صبر کریں ۔ ہو سکتا ہے لانے والوں کے پاس اس سے بہتر متبادل ہی نہیں تھا ۔ اگر لانے والے اسے لے آئے ہیں ۔ تو جیسے پہلے " لائے جانے " والوں کو برداشت کیا کرتے تھے ۔ اسے بھی برداشت کر لیں ۔ ہو سکتا ہے لانے والوں کا یہ فیصلہ بہتر ہو ۔ خدا را ، اپنے چہرے کا اچھا نقاب نوچ کر مت اتاریں ۔ جو چہرہ آپ پہننے جا رہے ہیں وہ جماعت کو ہمیشہ کیلئے ناکامی دے جائے گا ۔
ہو سکے تو کمنٹ دینے سے پہلے ، تحریر کا مفہوم ضرور سمجھ لیں
آزاد ھاشمی
٧ اگست ٢٠١٨

Tuesday, 7 August 2018

مبارک ہو جمہوریت پرستو !

" مبارک ہو جمہوریت پرستو ! "
آخر گھر کے بھیدی راز اگلنے لگے . پتہ چلا کہ سیاست کے اکثر پنڈت کسی نہ کسی حسینہ کے عشووں پر قربان ہو چکے ہیں . تعفن کی یہ بد بو پہلے تو اسمبلی کے اندر اندر تھی , اب یہ تعفن سارے ملک میں پھیلا ہوا نظر آنے لگا ہے . بے شکن لباسوں میں ملبوس یہ شرفاء بد کرداری کے شکنوں سے بھرے پڑے ہیں .
کہ ہر با کردار تھو تھو کرنے پر مجبور ہے .
کل تک ہوس زدہ ایک بازار تک محدود تھے اور رات کے اندھیرے میں منہ چھپا کر وہاں جاتے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے . طوائفیں کئی شریف زادوں کے راز چھپائے قبر میں چلی جاتی تھیں مگر کسی امیر زادے کا راز نہیں کھولتی تھیں . مگر اب ان قائدین کے راز میڈیا پر آگئے ہیں . حیرانی اس بات پر نہیں کہ انہیں شرم کیوں نہیں آرہی . حیرانی اس بات پر ہے کہ جو جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتے , انکو ابھی تک ہوش نہیں آئی کہ محترمہ جمہوریت نے کیسے بدکردار بچوں کو جنم دے ڈالا . کہ تعفن پوری سیاست سے اٹھ رہا ہے . ہم نے ابھی سوچنا ہی شروع نہیں کیا کہ ایسے بد کردار قایدین سے کیا امیدیں رکھی جا سکتی ہیں . جو اپنے اللہ سے سرکشی کر رہے ہیں , انہیں میرے اور آپکے حقوق سے کیا سروکار . شاید چند لوگ بے خبر ہونگے کہ یہ قایدین کس کردار کے لوگ ہیں مگر اکثریت تو بخوبی اگاہ ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے شرفاء کی اکثریت بازاری طبیعت کے لوگوں کی ہے . اخلاقیات سے نابلد یہ غنڈہ مزاج لوگ ہمارے لیڈر ہیں . اور ہم ان سے اپنی بھلائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں . مبارک ہو جمہوریت کے پرستاروں کو کہ شیطان کے چیلوں کو اپنی تقدیر کا مالک بنانے میں کامیاب ہو گئے . گویا شیطنت جیت گئی . 
ازاد ھاشمی
8 اگست 2017

Sunday, 5 August 2018

وطن کی ضرورت کیا ہے

" وطن کی ضرورت کیا ہے "
ہم جہاں جہاں ہیں ، جو جو بھی مسلکی ، سیاسی ، لسانی اور علاقائی وابستگیاں ہیں ۔ ان سب کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ، ایک ذمہ داری ان سب پر حاوی ہے اور وہ ہے
" وطن کی ضرورت کیا ہے "
وطن ہماری پہچان بھی ہے ، ہماری عزت اور توقیر بھی اور ہر دشمن سے ہماری ڈھال بھی ۔
صرف قوم بننے سے وقار حاصل ہو سکتا ، گروہوں کی نہ کبھی عزت بنتی ہے اور نہ کبھی مقام ملتا ہے ۔
انتخاب ایک معرکہ تھا ، ہر کسی نے دل کھول کے سیاست کی ، بہتان بازی بھی ہوئی ، کردار کشی بھی ، حقائق بھی قوم کے سامنے آئے ۔ صحافت کے پول بھی کھل گئے اور سیاست کے بھی ۔ بہت سارے پرانے سیاسی بت ملول بھی ہیں اور شکایت بھی کرتے ہیں کہ انکی سیاسی وراثت سازش سے چھینی گئی ۔ سچ اور جھوٹ کے مخمصے میں پڑے بغیر اب دیکھنا یہ ہے کہ میرے وطن کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا ہم اس کھینچا تانی کے متحمل ہیں ؟ کیا اسی رحجان سے کبھی وطن ترقی کر پائے گا ؟ میں اس وقت گھانا میں ہوں ، یہاں گذشتہ حکومت پر الزام تھا کہ اس نے دھاندلی کی ، ثبوت بھی تھے ، مخالف پارٹی کورٹ گئی ، کورٹ نے فیصلہ کیا کہ بہت سارے حقائق ثابت کرتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ، مگر ملک دوبارہ انتخاب کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اسلئے یہی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ۔ نئے انتخاب اپنے وقت پر ہی ہونگے ۔ عدالت کا فیصلہ تسلیم ہوا ، کسی ایک شخص نے اس پر کچھ نہیں کہا اور نہایت بردباری سے وطن کی ضرورت کو اولیت دی ۔ کیا ہم اس بردباری کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ؟ کیا ہمارے ملک کو امن اور آشتی سے چلانے کیلئے پانچ سال برداشت نہیں کیا جا سکتا ؟ کیا ہم اسقدر مفاد پرست ہیں کہ اپنی " بوٹی " کیلئے وطن کی " گائے " ذبح کر دینا جائز خیال کرتے ہیں ۔ اب یہ کام پوری قوم کا ہے ، کہ وطن کی خاطر اس " غلط یا صحیح " فیصلے کو قبول کرے ۔ قوم نتائج دیکھ کر خود احتساب کر لے گی ۔ وطن کیخاطر کھلے دل سے موقع دیا جائے کہ جو دعوے جیتنے والوں نے کئے ، اسے پورا کریں ۔ کون نہیں چاہے گا کہ " مدینہ " کی ریاست قائم ہو جائے ۔ کون نہیں چاہے گا کہ ہمارے پاسپورٹ کو عزت ملے ۔ کون نہیں چاہے گا کہ ہماری گروی نسلیں آزاد ہو جائیں ۔ کیا برا ہے اگر انصاف قائم ہو جائے ۔ ان دعووں کو آزما لینے میں کیا حرج ہے ۔ انکے سامنے کھڑے ہو جانے سے بہتر ہے کہ انکے ساتھ کھڑے ہو جائیں ۔ اگر قوم چاہے تو چند متشدد طبیعت کے فسادی لوگ خود بخود خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
میرا اور آپ کا فرض ہے کہ ہم پہلے وطن کا سوچیں ، پھر اپنی سیاسی وابستگی پر توجہ کریں ۔ اگر یہ پیغام ضروری لگے تو اپنے اپنے حلقہ احباب میں اسے پھیلائیں ۔ یہ میرے اور آپکے وطن کی ضرورت ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ اگست ٢٠١٨

تحمل اور بردباری ضروری ہے

"تحمل اور بردباری ضروری ہے  "
جب سے پاکستان وجود میں آیا ، وہ کون ہے جس کو اقتدار ملا اور اس نے کرپشن نہیں کی ۔ کرپشن صرف پیسے کی چوری ہی نہیں ، اختیارات کا غلط استعمال بھی کرپشن ہی ہے ۔ میرٹ کا گلا گھونٹ کر سفارش اور اقرباء نوازی ہوئی اور خوب ہوئی ۔ جو بھی آیا اس نے کلیدی کرسیاں اپنے اپنے منظور نظر لوگوں میں بانٹ دیں ۔ نااہل لوگ کرسیوں پہ بیٹھ گئے اور قابل لوگوں کو خوشامد سے کام چلانا پڑا ۔ پیسے کی کرپشن سے زیادہ نقصان اس اقرباء پروری نے پہنچایا ۔ یہی کرسیوں پہ بیٹھے بیورو کریٹ چوری کے گر بھی بتاتے رہے اور راستہ بھی ۔ بہتی گنگا میں ان بیورو کریٹس نے بھی خوب اشنان کئے ۔
اب اگر برائی کے اس پہاڑ کو دانائی سے نہ کھودا گیا ، تو شاید کچھ بھی راہ نہیں ملے گی ۔ اسے چوٹی سے کھودنا شروع کیا تو شاید بہت وقت بھی لگے اور مقصد بھی نہ ملے ۔ اسے جڑوں سے شروع کرنا ہوگا ۔
آنے والے حکمران اگر دھمکی اور دھونس سے کام نکالنے کی حماقت کر بیٹھے تو کامیابی کے راستے میں بیشمار رکاوٹیں آئیں گی ۔ بردباری ، تحمل اور با اخلاق طریقے سے مسائل جلد حل ہونگے اور ْآسانی سے حل ہونگے ۔ کپتان صاحب کو روایتی حکمرانی اور اونچی ناک سے مسائل کیطرف بڑھنا ، بہت ساری دشواریاں پیدا کر دے گا ۔ فتح مکہ کے وقت جو سب سے بڑے فتح ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ نسلوں کے دشمن آپؐ کے جانثار بن گئے تھے ۔ وجہ آپ کا حسن خلق تھا ۔ ہو سکتا ہے کہ کپتان کے حسن خلق سے نسلوں کے بگڑے ہوئے خود اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے پر راضی ہو جائیں ۔ جو شائد دباو سے ممکن نہ ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٣ اگست ٢٠١٨

اصل صدقہ

" اصل صدقہ "
سڑک کی ایک طرف خالی سی جگہ پر ، ایک جھکی کمر والا بوڑھا ، گود میں آٹھ دس سال کا بچہ بٹھائے ہوئے تھا ۔ دونوں کا لباس ، چہرے اور بکھرے بال بتا رہے تھے کہ لمبے سفر کی مسافت  کی تھکن سے چور ہیں ۔ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھا بوڑھا ، نہ کسی کیطرف دیکھ رہا تھا اور نہ کچھ مانگ رہا تھا ۔ انکے چہرے پر ضرورت بول رہی تھی مگر زبان گنگ تھیں ۔
" یہاں کیوں بیٹھے ہیں بابا جی ؟ " ایک راہ گیر نے قریب ہو کر پوچھا ۔ بوڑھا خاموش تھا ۔
" کہاں سے آئے ہیں ؟ کہاں جانا ہے " دوسرا سوال بھی جواب سے محروم تھا ۔ البتہ دوسرے سوال سے بوڑھے شخص کی آنکھ برس پڑی ۔
" باو جی ! بہت بھوک لگی ہے ۔ پیاس بھی " گود میں بیٹھا بچہ بول پڑا ۔
" دادا بھی بھوکا ہے ۔ نہ مانگتا ہے نہ مانگنے دیتا ہے " بچہ رو پڑا ۔
" کہتا ہے ہم سید ہیں ۔ سید ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ تو کیا ہم بھوکے مر جائیں بابو جی " بچے نے بلکتے ہوئے کہا ۔ راہ گیر نے بچے کے سر پہ ہاتھ رکھا ۔
" بیٹا ! دادا جان ٹھیک کہتے ہیں ۔ جب بیٹے زندہ ہوں تو باپ مانگتے اچھے بھی نہیں لگتے "
راہ گیر نے بوڑھے کے قدموں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
" اٹھیں بابا جان ۔ میں آپ کا بیٹا ہوں ۔ اپنے گھر چلیں ۔ بیٹے کے گھر ۔ آپ کی بہو بھی ہے اور دوسرے پوتے پوتیاں بھی ۔ یہ بھی آج سے میرا بیٹا ہے "
راہ گیر ہاتھ جوڑ کر بولا ۔
" بیٹے کی بات مان لیں بابا جان "
وہ اللہ کی دی ہوئی استطاعت سے ان کو ساتھ لیجانے میں کامیاب ہو گیا ۔
آزاد ھاشمی
٤ اگست ٢٠١٨