Thursday, 9 August 2018

چلیں ، مان لیا

" چلیں ، مان لیا "
اس امر پر بہت زور شور سے واویلا ہو رہا ہے کہ موجودہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس دھاندلی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ بھی تھی اور خلائی مخلوق بھی ۔خلائی مخلوق سے مراد " فوج " لی جاتی ہے ۔ چلیں مان لیا کہ دھاندلی بھی ہوئی اور خوب ہوئی ۔ بڑے بڑے برج الٹ گئے ۔ جو ہمیشہ اسمبلی میں رہے اور اسمبلی کی اجارہ داری انکا قانونی حق بھی تھا اور وراثت بھی ۔ چلیں مان لیا کہ بہت زیادتی ہوئی ۔ یہ قائدین جو ناکام ہوئے اور شکست کی حزیمت اٹھائی ، وہ ان حلقوں میں ملنے والے ووٹروں کو اکٹھا کر لیتے اور احتجاج ریکارڈ کروا دیتے ۔ آسانی ہو جاتی اور دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جاتا ۔
چلیں مان لیا کہ ان سے سیٹیں چھین کر اپنی پسند کے لوگوں کو دی گئیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو کیا یہ پہلی بار ہوا ہے یا ہر انتخاب پہ ہوتا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ ایسا کردار کرتی رہی ہے یا نہیں ۔ کوئی بھی قائد حلف اٹھا کر کہہ سکتا ہے کہ پہلے کبھی دھاندلی نہیں ہوئی ؟ جمہوریت کا مزاج ہی یہی ہے کہ اسے تکنیکی طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو اچھی  تکنیک استعمال کرتا ہے جیت جاتا ہے ۔ کئی سال تک کراچی لسانیت کی بناء پر ایک پارٹی کی مملکت بنا رہا ، پھر حیدرآباد ، پھر سکھر اور نوابشاہ بھی اسی پارٹی کے ہونے لگے تو کیا سب جمہوریت تھی یا خوف اسکی وجہ تھی ؟
اگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اس بار ایک نئی پریکٹس کرنی ہے تو کیا برا کیا ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کی تمام کی تمام سیاسی بساط کرپشن زدہ تھی ۔ اسکو ہٹا کر ایک مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کونسی برائی ہے ۔ جمہوریت کونسا الہامی نظام ہے کہ اس سے فرار کرنے سے دوزخ لازم ہو جاتی ہے ۔ کیا برائی ہے کہ کرپٹ لوگوں کو باہر اٹھا پھینکا جائے ۔ چلیں مان لیا کہ عمران خان پر خفیہ ہاتھوں کا سایہ ہے تو اسوقت پوری سیاست میں اس سے بہتر کوئی نظر آ رہا ہے تو اسکا نام لیں ۔ ماضی کی گندگی کو چہروں پے سجائے رکھنے سے قوم کا فائدہ ہے یا نقصان ۔ اسٹیبلشمبٹ کے فرائض کا حصہ ہےکہ وہ وطن کے مفادات کو اولیت دے ۔ شاید مفادات کا تقاضا تھا کہ مذہب کے نام پر جھوٹ بولنے والوں کو ، ملک لوٹنے والوں کو ، لسانیت کا تعصب پھیلانے والوں کو ، قومی اداروں کو بربادی کیطرف دھکیلنے والوں کو ، عوام کے حقوق غصب کرنے والوں کو اور قوم کو ہیجان میں رکھنے والوں کو " ڈسٹ بن " میں ڈال دیا جائے .  
جو ہوا ہے اسے قبول کر لینے میں عافیت ہے اور قوم اس کو قبول کر چکی ہے ۔ اب شور و غوغا لا حاصل ہے ۔
آزاد ھاشمی
٩ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment