" حسد کی آگ "
عرب کے سردار ، صرف اللہ کی وحدانیت کے اعلان کیوجہ سے نالاں نہیں تھے ۔ عقائد کا تضاد پہلے سے موجود تھا ، مکہ کے ارد گرد ، یہودی بھی تھے جو توحید کے قائل بھی تھے اور اپنے عقائد کا اعلانیہ اظہار بھی کرتے تھے ۔ عیسائی بھی تھے جو تثلیث کے قائل تھے مگر اللہ کو مانتے تھے اور بتوں سے انکاری تھے ۔ بت پرست بھی کئی عقائد کے پرستار تھے ۔ عرب سرداروں کو ضد تھی کہ انکے قبائل کا ایک یتیم اور غریب اٹھ کر انکی سرداری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ یہ انہیں قطعی قبول نہیں تھا کہ جن سرداری کی مسندوں پر انکے باپ دادا بیٹھے رہے اور جو انکی وراثت ہیں ۔ کوئی اٹھ کر چھین لے ۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ رفتہ رفتہ لوگ اس نئے عقیدے کیطرف بڑھنے لگے ہیں ۔ انہیں خبر تھی کہ جو ہستی یہ پیغام پھیلا رہی ہے وہ کردار کے اعتبار سے انتہائی اعلیٰ مقام پر ہے ۔ اگر یہ تسلسل جاری رہتا ہے تو ان سرداروں کی وراثت انکے ہاتھ سے نکل جائے گی ۔ اس اقتدار کی ہوس میں سب ایک ساتھ تھے ، سب متحد تھے ۔ انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی شخص یہ یقین کر لیتا ہے کہ وہ اپنے حریف کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا تو اسکے اندر ایک آگ سلگ اٹھتی ہے ۔ یہ آگ " حسد " ہے ۔ جو انتقام کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ اس " حسد " سے مغلوب کسی بھی شخص کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا حکم آیا ہے ۔
کچھ ایسی ہی آگ اسوقت سیاست کے وارثوں کے دلوں میں جاگ اٹھی ہے ۔ انہیں یقین ہوتا جا رہا کہ ایک " کاو بوائے " جو کل ایک " کھلاڑی " تھا ۔ جس کا نہ باپ ، نہ دادا اور نہ کوئی عزیز کبھی سیاست کی کسی کرسی پر بیٹھا ۔ ان پیشہ ور سیاستدانوں کی کرسیاں چھین رہا ہے ۔ لوگ اس کی بات سن بھی رہے ہیں اور یقین بھی کرنے لگے ہیں ۔ جو نہ پگڑی پہنتا ہے اور نہ ہی مذہبی ذہن رکھتا ہے ۔ جس کا ماضی بھی کھلی کتاب کیطرح سب کے سامنے ہیں ۔ پھر ایسے شخص پر لوگ کیسے مہربان ہوگئے ۔
جب تک کسی پر " رب " مہربان نہ ہو ، تب تک اس پر " جگ " مہربان نہیں ہوتا ۔
سب سوچ رہے ہیں کہ اگر اسے زانی کہتے ہیں ، شرابی کہتے ہیں ، یہودی کہتے ہیں ۔ لوگ سنتے ہی نہیں ۔ یہ وہ قلق ہے کہ الٹا ہم پرہیز گاروں کو ، شرعی شکل و شباہت والوں کو ، صوم صلواة کے پابند لوگوں کو ، عوام نے رد کر دیا ۔ یہ ناکامی حسد کی بنیاد بن گئی ہے ۔ اور حسد کی آگ میں انتہا کوئی نہیں ہوتی ۔ یہی وہ انتقام ہے جس نے بہت زیرک اور تجربہ کار سیاستدانوں کے حواس چھین لئے ہیں ۔ وہ کونے کونے میں چیختے چلاتے پھرتے ہیں ۔ نہ عوام متحرک ہورہی ہے اور نہ طاقتیں مرعوب نظر آتی ہیں ۔ عجیب سی رسوائی ہی رسوائی دامن گیر ہوتی جا رہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١١ ستمبر ٢٠١٨
Friday, 10 August 2018
حسد کی آگ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment