Sunday, 12 August 2018

پاکستان کی درآمدات اور معیشت

" پاکستان کی درآمدات اور معیشت "
کسی بھی قوم کی معاشی ترقی کا انحصار خود انحصاری پر ہوتا ہے ۔ وہی قومیں آگے بڑھی ہیں جنہوں نے اپنے وسائل پر انحصار کیا ۔ قرضہ لینا عمومی طور پر آسان ہوتا ہے مگر اسکے دور رس نتائج ارادوں کی کمزوری کا باعث بنتے ہیں ۔ ہم جب قرضہ لیتے ہیں اور سود پر لیتے ہیں ۔ پہلے مرحلے پر تو ہم اللہ کے حکم سے سرتابی کرتے ہیں ۔ اللہ کا قہر اور غضب کما لیتے ہیں ۔ دوسرے مرحلے پر ہم اپنی روٹی کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دوسرے کو مجبوری میں دے دیتے ہیں ۔ جس وجہ سے ہماری بھوک باقی رہتی ہے ۔
معیشت کے ماہر یہ ضرور سوال کریں گے کہ پھر کیا کیا جائے ۔ قرضے نہ لئیے جائیں تو ملک کا نظام کیسے چلے گا ؟ یہ غور کبھی کسی نے نہیں کیا کہ ان لئے جانے والے قرضوں کے متبادل کیا وسائل تھے کہ ہم اس پر انحصار کر لیتے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جتنے قرضے ہم لیتے ہیں ، ان سے کہیں زیادہ سرمایہ ہمارے ہم وطنوں نے ملک سے باہر رکھا ہوا ہے ۔ اور جتنا قرضہ لیا جاتا ہے اس سے زیادہ ہم سامان تعیش درآمد کر لیتے ہیں ۔ جسکے بغیر گذارہ ممکن ہوتا ہے ۔ ہم بیشمار اشیائے خورد و نوش درآمد کرتے ہیں جو ہمارے معمول زندگی اور رواج کا حصہ ہی نہیں ہوتیں اور اگر چاہیں تو ان سے اچھی اشیاء اپنے وسائل سے خود تیار کر سکتے ہیں ۔ اس بات پہ کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر ہم سامان آسائش و زیبائش پر سمجھوتہ کر لیں تو ہماری معیشت کو مضبوط سہارا مل جاتا ہے ۔ اب جتنی بھی فریچائز پاکستان میں ہیں اور جن کا سرمایہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے ، کیا انکے بغیر زندہ رہنا ممکن ہے کہ نہیں ؟ اگر پاکستان کے لوگ پیپسی اور کوک کی شکل میں تیزاب پینے کی بجائے گنے کا رس پی لیں ، مقامی فروٹ جوس پی لیں ۔ تو نہ کسان کو گنے کے کھیت جلانے پڑیں اور نہ فروٹ ضائع ہوں گے ۔ کیا ہم اس پر زندہ رہ لیں گے یا نہیں ؟؟ اگر بہت قیمتی گاڑیاں درآمد نہ کی جائیں تو کیا ملک کی ساکھ برقرار رہتی ہے یا نہیں ؟ اگر حکمران سادگی اختیار کر لیں تو کتنے قرضے غیر ضروری ہو جائیں گے ۔ اس پر غور کیوں نہیں کیا جاتا ۔
درآمدات پر توجہ کی خاص ضرورت ہے اور سختی سے ہر سامان تعیش کو روکنا لازم ہے ۔ ہر وہ چیز جس کا متبادل ملک میں ہے اسے درآمد کرنے پر پابندی ہو جانے سے بہت سی معاشی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی ۔ ملکی صنعت کو فروغ ملے گا ۔ قیمتوں پر قابو پا لیا جائے گا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment