Saturday, 18 August 2018

کیا یہ مہذب لوگ ہیں ؟

" کیا یہ مہذب لوگ ہیں ؟ "
جمہوریت ، جمہوریت کا راگ سنتے سنتے بچے جوان سے بوڑھے ہو گئے ۔ کبھی جمہوریت دیکھنے کو نہیں ملی ۔ جب بھی اسمبلی میں آئے لوگوں کا کردار دیکھا تو محلے اور شہر کے " کن ٹٹے " غنڈوں کے مزاج والے ہی اسمبلی میں نظر آئے ۔ کیا ہمارے قانون سازوں کو اس قدر غیر مہذب ہونا چاہئیے ؟ یہ سوال ہر اس شہری سے ہے جو " جمہوریت " کو ایمان کا درجہ دیتا ہے ۔ جو جمہوری نظام کیلئے مرنے کو شہادت کہتا ہے ۔ جو سیاست کو عبادت سمجھتا ہے ۔ یہ سب لوگ جو قانون سازی کرنے آتے ہیں اور پارلیمنٹ کو مقدس ادارہ سمجھتے ہیں ۔ کیا یہ عبادت ہے جو اسمبلی میں نظر آتی ہے ۔ کیا منتخب کرنے والوں نے " غنڈوں " کو منتخب کیا ہے ؟ ہر بار انتخابات پر غیر شفاف ہونے کا اعتراض ، پھر اس پر دھرنے ، احتجاج ، جلسے اور جلوس کا سلسلہ پورے پانچ سال تک چلتے رہنا ۔ جمہوریت کے نظام کی ناکامی نہیں تو کیا ہے ؟ کیا یہ سب جو اسمبلی پہنچتے ہیں ، حکومت میں ہوتے ہیں تو سب جائز ، حکومت نہیں ملتی تو سب فراڈ ۔ کیا یہ عوام کے ساتھ دہوکہ نہیں ۔ کیا دونوں حریف قوم کے ساتھ نہیں کھیل رہے ۔ الیکشن شفاف نہیں ہوئے تو آپ نے اسمبلی میں حلف کیوں اٹھایا ۔ حلف اٹھایا کہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دوں گا ۔ حلف اللہ اور عوام سے وعدہ ہے ۔ کیا یہ ہلڑ بازی قومی مفاد میں ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ اگر یہ انتخابات کالعدم ہو جائیں تو اگلے انتخابات شفاف ہونگے ؟ قانون ساز پچھلے ستر سال سے ایسا قانون ہی نہیں بنا سکے کہ انتخابات میں دھاندلی نہ ہو ۔ اس دھاندلی میں ظاہر ہے کہ انتخابات کا انتظام کرنے والے ملوث ہوتے ہونگے ۔ ایسی قانون سازی کیوں نہیں کی کہ ملوثین کو سزا ملتی اور وہ خوفزدہ ہوتے کہ دھاندلی نہیں ہوگی ۔ کون ذمہ دار ہے ؟  اسمبلی میں آنے والے سیاستدان  یا عوام ؟ اگر سیاستدان ہیں تو عوام کو سزا کیوں ؟ سیاستدانوں کو کیوں نہیں ؟ یہ لوگ تو اسمبلیوں میں بیٹھ کر فنذز بانٹتے ہیں ۔ قانون سازی کب کرتے ہیں ۔ اسمبلی غیر شفاف ہے تو جرات کرو کہ اسمبلی چھوڑ دو ۔ جمہوریت سے شفافیت سامنے نہیں آتی تو جرات کرو کہ جمہوری نظام سے الگ ہو کر اپنا الگ نظام بنا لو ۔ اسلام کے نظام سے تو تم سب کو الرجی ہے ۔ پھر کوئی حل نکالو ۔ اگر اس اہل نہیں ہو تو اہل لوگوں کے رستے کی دیوار مت بنو ۔ اہل لوگوں کو تلاش کرو انکو ان سیٹوں پر بٹھاو ۔ ہر سیاستدان چند غنڈوں کے بل بوتے پر سیاست کرتا ہے ۔ جو شرفاء کے خوف کا باعث بنے رہتے ہیں ۔ جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا کونسا اخلاق ہے ۔ اس انتخاب پہ کونسی پارٹی ہے جو اخلاقیات کی حدود میں رہی ۔ بہن بیٹیوں کے کردار اچھالنا کونسی تہذیب تھی ۔ کتنے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے اپنے قائد کی غلطی تسلیم کی ہے ۔ سب نے جی بھر کے کیچڑ اچھالا ہے ۔ یہ تھی جمہوریت ؟ ایسی جمہوریت کا انجام یہی ہونا تھا جو اسمبلی میں ہوا اور جو پانچ سال ہوتا رہے گا ۔ تم سب اگر قوم اور وطن سے مخلص ہو تو ایک بار مہذبانہ طریقے سے اپنے کردار ثابت کرو ۔ پھر قوم سے رائے کا انتظار کرو ۔ عوام کو گمراہ کر کے اپنے مفادات کی سیاست کو دفن کرو ۔ جب تک تم سیاستدان ایسا نہیں کروگے ۔ انتخابات ایسے ہی ہوا کریں گے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment