Wednesday, 15 August 2018

معافی بے عزتی کا ازالہ نہیں

" معافی بے عزتی کا ازالہ نہیں "
کراچی وہ شہر جہاں لوگ کئی دہائیوں سے آگ سے کھیلتے رہے ۔ جہاں کی ہر سڑک پر مجبور شہریوں کا خون بہایا گیا ۔ جہاں کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی جرم کے بغیر بوری میں بند کیا جاتا رہا ۔ جہاں آج بھی خوف کا مہیب سایہ منڈلاتا رہتا ہے ۔ جہاں شام کو گھر لوٹنے تک مائیں بچوں کی حفاظت کیلئے وظیفے کرتی رہتی تھیں ۔ جہاں غنڈوں کا راج تھا ۔ ان غنڈوں میں سب سیاسی جماعتوں کے اسلحہ بردار بھی تھے ، پیشہ ور مجرم بھی ۔ لوگ مایوس تھے کہ اب کراچی میں کبھی امن نہیں آئے گا ۔ آج کے کراچی کی در و دیوار اس ہیبت کا ثبوت ہیں ۔ شاید کوئی چہرہ ہو گا جس پر خوشی کی چمک نظر آئے گی ۔ اس دور میں جو گل پولیس نے کھلائے ،کہ جس کو چاہا دہشت گرد کہا اور اٹھا لیا ۔ پیسے مل گئے چھوڑ دیا ، نہیں ملے تو مار دیا ۔ نہ کوئی قانون ، نہ کوئی دستور ، نہ کوئی تہذیب اور نہ کوئی اخلاق ۔ یہ تھا کراچی ۔ جو اس دور میں پیدا ہوئے ، اب جوان ہوگئے اور اب قیادت کیلئے میدان میں اتر آئے ۔ انہی میں سے ایک یہ ایم پی اے بھی ہے ۔ جس نے انصاف کی تحریک کا پرچم اٹھایا اور سر عام ایک شریف شہری کی عزت نیلام کر دی ۔ یہ اس تربیت کا اظہار تھا ، جو اسکے والدین نے کی ، جو اسے معاشرے نے سکھایا ، جو اسے تعلیمی اداروں سے تعلیم ملی کہ ڈاکٹر جیسے مہذب پیشے سے منسلک ہو کر بھی غنڈہ ہی رہا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کی تحریک ، اس مجبور انسان کی عزت کا کیا مول لگاتی ہے ۔ ایک معافی تو ہر گز کافی نہیں ۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں شہریوں کو یقین دلانا ہے کہ " نیا دور " شروع ہو گیا ہے ۔ یہ کر کے دکھانا ہے کہ تھپڑ مارنے کی قیمت کیا ہوا کرے گی ۔ کراچی کو بالخصوص امن کے پیغام کی ضرورت ہے ۔ اور اسکا بہترین وقت آگیا ہے ۔ اس بہادر ایم پی اے کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے کہ ایک مثال بن جائے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو تحریک انصاف کے قائدین لکھ لیں ، اسکا انتقام " اللہ پاک " ضرور لے گا اور آپ سے لے گا ۔
آزاد ھاشمی
١٥ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment