Monday, 13 August 2018

پاکستان کی معیشت کا آسان حل

" پاکستان کی معیشت کا آسان حل "
اگر یہ کہا جائے کہ ہماری معیشت کا آسان ترین حل ، صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے ۔ تو چبا چبا کر انگلش بولنے والے ، لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومنے والے ، یورپ کے نظام سے مرعوب دانشمند تضحیک آمیز لہجے میں ، طنز کرتے ہیں ۔  قرآن پاک اور قرآن میں موجود تعلیمات صرف ان چند سالوں تک محدود نہیں تھیں ، جن میں صحابہؓ کا دور رہا ۔ یہ تعلیمات اسوقت تک ہیں جب تک کائنات ہے ۔ اسکا قانون اور حدود تب بھی لاگو تھیں ، اب بھی لاگو ہیں ۔ اسلام کے تحت جو معاشی نظام کے کلئے قاعدے موجود تھے ، ان میں زکوٰة ، عشر ، خمس خاص قابل ذکر ہیں ۔ یہ وہ مخصوص ذرائع تھے جن پر لاکھوں میل ، بیسیوں موجودہ ممالک کی حدود مسلمانوں کے تسلط میں رہیں اور انکا نظام معیشت انتہائی بہتر انداز سے چلتا رہا ۔ معیشت کے یہ تمام نظام عام سطح کے شہری پر بوجھ بننے کی بجائے اسکا بوجھ کم کرتے ہیں ۔ جو صاحب استطاعت ہوتے ہیں ، وہ اس نظام کے تحت احسن طریقے سے اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں ۔ زکوٰة ایک مخصوص شرح سے دی جاتی ہے اور ہر اس اثاثے پر لاگو ہوتی ہے ، جو  کسی کی ملکیت میں ہے ۔ ظاہر  ہے زکوٰة اسی پہ واجب ہے جو اس شرط پر پورا اترتا ہے ۔ جو استطاعت نہیں رکھتا وہ اس پابندی سے آزاد ہے ۔ جبکہ مروجہ ٹیکس کا نظام ہر شہری کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ ایک ارب پتی صنعتکار ،  سرمایہ دار اور تاجر دو چار لاکھ روپے ٹیکس کی مد میں ادا کرتا ہے اور منافع کی مد میں کروڑوں اینٹھ لیتا ہے ۔ کیونکہ وہ اس ٹیکس کو مصنوعات کی قیمت شامل کر دیتا ہے ۔  دراصل اسکی اپنی جیب سے کچھ بھی ادا نہیں ہوتا ۔  حقیقت میں یہ ٹیکس وہ شہری ادا کر رہا ہوتا ہے ،  جو ان اشیاء ضرورت کو استعمال کرتا ہے ۔جس مجبور شہری کا گذر اوقات بھی کسمپرسی سے ہو رہا ہوتا ہے ۔ اب اگر زکوٰة کا طریقہ رائج ہو جائے تو ارب پتی شخص کو کم از کم ڈھائی کروڑ دینا پڑے گا اور وہ اسے تجارت کے مال پر منافع کی مد میں شامل بھی نہیں کر سکے گا ۔ جس سے مہنگائی نہیں بڑھے گی اور سرمایہ دار کی تجوری کا مال بھی بازار میں گردش کرنے لگے گا ۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو یہ گنتی کیوں نہیں آتی ۔ زمیندار ٹیکس سے آزاد ہے جبکہ اسلام ایک خاص شرح سے زمیندار کو بھی پابند کرتا ہے ۔ جب زمیندار کی پیداوار کا خاص حصہ نکال لیا جاتا ہے تو اشیاء خورد نوش کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں ۔
کیا ہم اسطرف توجہ کریں گے ؟؟
آزاد ھاشمی
١٣ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment