Wednesday, 15 August 2018

تھپڑ اور معافی

" تھپڑ اور معافی "
خبر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک اقتدار کے نشے میں مدہوش عوامی لیڈر نے دوسرے پاکستانی کی سر عام تذلیل کی ۔ اس سے زیادہ برائی یہ ہے کہ معافی کے روپ میں اس بیچارے کو مزید ذلیل ملی ۔ بے بسی کا عالم کہ معاف کرنے والے کے چہرے سے  خفت نظر آ رہی تھی ، اور معافی مانگنے والے طرز فاتحانہ تھا ۔ معافی مانگ لینا ایک اچھا اقدام ہے اور معاف کر دینا بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ فعل ہے ۔ یہ دونوں ذاتی فیصلے ہیں ۔ مگر یہاں پر جو جرم ہوا ہے وہ صرف ذاتی نہیں ، معاشرتی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی مغلوب الغضب اور حواس باختہ شخص کسی عوامی عہدے کے قابل نہیں ہوتا ۔ جس کے حواس پر نخوت اور بدمعاشی سوار ہو ، اسے حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی نمائندگی کرے ۔ تلافی ذاتی حد تک ٹھیک ہے مگر معاشرے کی حد تک تلافی نہیں ، سزا لازم ہے ۔ سر عام کسی کو رسوا کرنا ، محض معافی تک محدود معاملہ نہیں تھا ۔ اسے ایک مثال بنا دینا چاہئیے تھا ۔ اسلام جرائم کی جڑ کاٹنے کا دین ہے ، معاشرتی جرم کی سزا معاشرے میں عبرت بنائی جاتی ہے ۔ ایک زنا بالجبر کے مرتکب کو متاثرہ خاتون کے معاف کر دینے سے معافی نہیں مل جاتی ۔ اسے سزا ملتی ہے اور حکومت وقت پر لازم ہوتا ہے کہ اسے معاشرے کے سامنے سزا دے ۔ کیونکہ اسکا فعل ذاتی نہیں ، امعاشرتی  ہوتا ہے ۔اس متکبر شخص کی سزا یہی تھی کہ اس سے اس کا عہدہ چھین لیا جاتا ۔ اسے ہمیشہ کیلئے ایسے کسی بھی سیاسی عہدے کیلئے نا اہل کیا جاتا ۔ تاکہ دوبارہ کوئی متکبر سیاسی عہدیدار ایسی جرات نہ کرے  ۔ سب جانتے ہیں کہ معاف کرنے والے شخص نے کسی خوف یا مصلحت کے تحت معاف کیا ہوگا ۔ اسکے اندر کی تکلیف کا قطعی ازالہ نہیں ہوا ہو گا ۔ اسکے جوان بچوں میں کوئی ایک اگر اسطرح کے جوش میں ہوتا تو یقینی طور پر باپ کی توہین کا بدلہ لینے کا سوچتا ۔ یہ تو اچھی بات تھی کہ بچے بھی باپ کیطرح صابر تھے ۔ اگر وہ انتقام پر اتر آتے تو فساد کی راہ کھل گئی تھی ۔ کیا پارٹی کا ڈسپلن اسی طرح اسے رفع دفع کر دے گا ، جسطرح سے دوسری پارٹیوں کی روایت چلی آ رہی ہے کہ اپنے کارکنوں کو اور عہدیداروں کو تحفظ دیا جاتا ہے ۔ یا اس پر کوئی نئی روایت مرتب کرے گی ؟؟؟
آزاد ھاشمی
١٥ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment