Saturday, 15 April 2017

تیرا گھر آباد رہے

" تیرا گھر آباد رہے "
باپ کی آنکھوں کا سمندر بیٹے کو دکھائی نہیں دے رہا تھا . بیٹا مسلسل اپنے نئے گھر کی تفصیل میں گم تھا.
" ابا یہ کمرہ ہمارا ہے , سارا سامان اٹلی سے منگوایا ہے . یہ دو کمرے بچوں کے , یہ مہمانوں کے لئے , یہ سرونٹ کوارٹر اور ...."
اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب آگئے . چیک کیا اور ایک لمبی لسٹ ادویات کی تھما دی . اس نے لسٹ کو تکئے کے نیچے رکھا اور التجا بھری نظروں سے بیٹے کیطرف دیکھا . نئے گھر کی کہانی ختم تھی . زمانے کی ستم ظریفی , اخراجات کا بوجھ , بچوں کی تعلیم اور مہنگائی کا رونا شروع ہو گیا .
" ابا ! آپ کا وقت ٹھیک تھا , تھوڑی سی تنخواہ میں گذر اوقات ہو جاتی تھی . ہم پڑھ بھی رہے تھے اور آپ ہمیشہ خوش نظر آتے تھے . مگر ہم لوگ تو عذاب میں ہیں . ابھی میں گھر سے نکلا تو مشکل سے گاڑی کے پٹرول کے پیسے تھے . "
باپ کا ضبط برقرار تھا , مگر ماں کی برداشت حد سے تجاوز کر گئی .
" تو کیا سمجھتا ہے , ہم تم سے ادویات کے پیسے مانگیں گے . تیرے آگے ہاتھ پھیلائیں گے . تجھے تیرا گھر مبارک . باپ ایک روز مر جائے گا . دفن کرنے آجانا "
وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی .
" ماں ! یہ ہسپتال ہے لوگ دیکھ رہے ہیں "
بیٹے نے بنچ سے اٹھتے ہوئے کہا
" یہ لوگ تو روز دیکھتے ہیں , جب ڈاکٹر پوچھتا ہے کہ آج پھر دوائی نہیں لی . اور روز یہ ساتھ والا مریض دوائی منگوا دیتا ہے . تم کیسی اولاد ہو . باپ مر رہا ہے تم گھر بنا رہے ہو . حال پوچھنے سے پہلے اپنے گھر کا ذکر سنانے لگتے ہو . جاو اللہ تمہارا بھلا کرے . اب مت آنا , جس دن یہ مر جائے گا اطلاع کر دونگی " 
ماں نے منہ دوسری طرف کرتے ہوئے آنسو پونچھے اور بیٹا کمرے سے باہر نکل گیا . باپ کے رکے ہوئے آنسووں کا سیلاب بہہ نکلا .
" اے اللہ تو گواہ ہے ,میں نے تو رزق حلال کھلایا تھا ان کو . اچھی تربیت کی تھی . پھر ایسا کیوں "
باپ کا ضبط ٹوٹا اور سانس اکھڑ گیا .
ازاد ھاشمی

صدقہ

40 طرح کا صدقہ...

1. دوسرے کو نقصان پہونچانے سے بچنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]

21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]

32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]

33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]

34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]

35. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]

36. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]

37. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]

38. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

39. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

40. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]

جزاکم الله خیرا

Thursday, 13 April 2017

قوم عاد

قوم "عاد "
قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو
بڑے طاقتور تھے
40 ہاتھ جتنا قد
800 سے 900 سال کی عمر
نہ بوڑھے ھوتے
نہ بیمار ھوتے
نہ دانت ٹوٹتے
نہ نظر کمزور ھوتی
جوان تندرست و توانا رہتے
بس انھیں صرف موت آتی تھی
اور کچھ نہیں ھوتا تھا
صرف موت آتی تھی
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا
انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی
اللہ کی پکڑ سے ڈرایا
مگر وہ بولے
اے ھود ! ہمارے خداوں نے تیری عقل خراب کر دی ھے
جا جا اپنے نفل پڑھ
ہمیں نہ ڈرا
ہمیں نہ ٹوک
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے
عقل خراب ھوگئی تیری
جا جا اپنا کام کر
آیا بڑا نیک چلن کا حاجی نمازی
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں
انھوں نے شرک ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا
تکبر اور غرور میں بد مست بولے
،
،
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾
اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔
کوئی ھے ہم سے ذیادہ طاقتور تو لاو ناں ؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو ؟
اللہ نے قحط بھیجا
بھوک لگی
سارا غلہ کھاگئے
مال مویشی کھا گئے
حرام پر اگئے
چوھے بلی کتے کھاگئے
سانپ کھاگئے
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے
بھوک نہ مٹی
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اگا
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے
بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دعا کرو کہ بارش برسائے
اللہ نے3 بادل پیش کئے
کالا
سفید
سرخ
اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے
سفید خالی ھوتا ھے
کالے میں پانی ھوتا ھے
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ ! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل مین ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ
جس نے ان کو اٹھا مارا ان کے گھر اڑا دئیے
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی
اللہ نے فرمایا
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے ؟
اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھوگا
جو گناہ قوم عاد نے کیا
کیا وہ ہم نہیں کر رہے
کیا ہم اللہ کی حدوں کا پار نہیں کر گئے
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے
توبہ کرو
اللہ سے ڈرو
قرآن پڑھو
جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں
الستغفرا للہ ربی من کل ذنب

تیری میری دھرتی

" تیری میری دھرتی "
ھم نے اقتدار کی ہوس میں ، اپنی دھرتی میں  اخوت کے پھول اگانے کی  بجائے ، نفرت کے کانٹے بو دیئے ہیں - اب یہی کانٹے ھمارے ہی پاوں کو زخمی کرنے لگے ہیں ۔ ہم نے اپنے بھائیوں کے دکھ اور تکلیف بانٹنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ انکی آھوں ، سسکیوں ، گلے اور شکووں کو سننا بھی گوارہ نہیں کیا ۔ انکے حصے کی روٹی اپنے کتے کو ڈال دی ، مگر اسے نہیں دی ۔  جو بڑے تھے ، انکو توفیق ہی نہیں ہوئی کہ چھوٹوں کے سر پر دست شفقت رکھ کر انکی ضرورت ہی پوچھ لیتے ۔ طاقت کے نشے نے اپنے ہی بھائیوں کو دور کر دیا ۔  کچھ بٹوارہ کر کے چلے گئے ، کچھ دشمن کے ساتھ مل کر جانے کی انتہائی کوشش میں جت گئے  ۔ ھماری دہرتی ، ھمارا گھر بے سکون ھو گیا ۔
سمجھ نہیں آ رھا کہ خرابی ، گھر کے سربراہوں کی وجہ سے ہے ، یا بگڑے ہوئے بے شعور بچوں کیوجہ سے ۔ گھر کا اصل دشمن کون ہے اور اسکا راستہ کسے روکنا ہے ۔  کچھ بھی تھا ، یہ کونسی دانشمندی یے کہ گھر کی لڑائی کو دنیا کا تماشا بنا ڈالا ۔ اور اپنی دھرتی ، اپنی ماں ، جسکی کھوکھ سے ھم نے جنم لیا ، جسکی آغوش میں پروان چڑھے ، اسی کے خلاف بغاوت کی آواز اٹھا دی ۔ اسی وجود کی بربادی کا ساماں کرنے لگے ۔  چند تلخ حقائق ھیں ، جن کا حل نا ممکن نہیں ، جو نہ سمجھنے کی ضد میں ھیں ، انہیں سمجھنا پڑے گا ، اور جو حقوق کی مانگ کر رھے ھیں ، انہیں دھرتی کی وفا کا یقین رکھتے ھوئے تقاضا کرنا ھوگا۔اس لئے کہ یہ دھرتی تیری بھی ھے میری بھی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

سکندر بھی تھا دارا بھی

" سکندر بھی تھا دارا بھی "
تاریخ کے اوراق میں ایک سکندر تھا ، جس کے گھوڑے کی ٹاپ آدھی زمین پہ سنی گئی  ۔ ایک دارا تھا جس کی جوانمردی اور طاقت بے مثل تھی ۔ شداد بھی تھا جس نے زمین پر جنت بنا ڈالی ۔ فرعون بھی تھا ، جسے اقتدار کے نشے نے خدا کہلانے پہ اکسایا ۔ نمرود بھی تھا ،  جو تکبر میں بے لگام تھا ۔ قارون بھی تھا ، جو دولت کے انبار لیے بیٹھا تھا۔
کہاں گئے یہ سب ۔ نہ پتہ ہے نہ نشان ۔ دنیا کمانے والے کیا لے گئے دنیا سے ۔
دولت کی حرافہ نے کبھی کسی سے وفا نہیں کی ۔ ادھر سانس رکا ادھر دنیا کی چکا چوند کسی دوسرے کی آغوش میں جا بیٹھی۔
کوئی مٹی اوڑھ کے سو گیا ، کسی کو آگ نے چاٹ لیا  اور کوئی پانی میں ڈوب گیا ، کسی کے دماغ میں مچھر گھس گیا ۔
ساری طاقت ، سارا تکبر ، ساری دولت اور ساری عقل ، نہ  تو بچا سکی نہ دائمی عزت دے سکی ۔
آج ھمارے اقتدار میں آنے والے بھی کسی نہ کسی طرح ، تکبر ، رعونت ، حرص ، ظلم و استبداد اور دولت کی طمع میں ، ان تمام معتوب لوگوں کی راہ ہی پہ چل رہے ہیں ۔ زر کی حوص یوں انکی خصلت کا حصہ بن گئی ہے ۔ جیسے موت کبھی نہیں آنے والی ۔
اقتدار اور زر کی حوس شیطانی راستوں میں سے ایک راستہ ہے ۔ جسے اپنا لینے کے بعد ہر برائی طرز زندگی بن کر رہ جاتی ہے ۔  ضمیر سو جاتا ہے اور شیطنت غالب ہو جاتی ۔
صرف وہ جو اقتدار کو اللہ کے احکامات کے تابع کر لیتے ہیں ۔ اللہ کی دی ہوئی استطاعت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہیں ، وہی باقی رہتے ہیں ۔  وہی اس دنیا سے جانے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ۔
اے کاش ، امت مسلمہ میں ایسے با کردار رہنما سامنے آجائیں ۔  جن کےلیے اللہ کی رضا ، ذاتی اغراض پر مقدم ہو۔
شکریه
آزاد ھاشمی

ناصح بھی بادہ کیش ہے

" ناصح بھی بادہ کیش ہے "
ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جسے اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں ۔ جس کی مسیحائی کو آخری ضرورت خیال کرتے ہیں ۔ اسکے ھاتھ کا وہ خنجر نہیں دیکھتے جو اسنے کمر کے پیچھے چھپا رکھا ہوتا ہے ۔ ہر دور میں ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ حکمران وطن کو لوٹ رہے ہیں ۔ پھر شور مچانے والے خود آ جاتے ہیں ۔ تو دوسرے وہی راگ الاپنے لگتے ہیں ۔ یہ سمجھنا کہ سچ کیا ہے نا ممکن ہو گیا ہے ۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے ہمیں جو شعور بخش رکھا ہے ہم نے اسے استعمال کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ، ورنہ یہ سمجھنا نہایت آسان ہے کہ سب کے سب سیاستدان تاجر ہیں ۔ انتخابات پہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ضرب کے عمل سے منافع کماتے ہیں ۔
صرف ایک سوال ان ہمدردان ملک و ملت سے کہ کیا وہ مراعات جو وہ اسمبلی ممبر ہونے کے ناطے حاصل کرتے ہیں ۔ انکا جائیز استحقاق ہے ۔ کیا اسے کرپشن کا نام دینا غلط ہے ۔ کیا یہ ملکی وسائل کا بے جا استعمال نہیں ۔ اس جرم میں کون کون شامل نہیں ۔
کوئی بتانے کی زحمت کرے گا کہ یہ سارے نیلی ، پیلی ، گلابی میٹرو ، ٹرین ، پل ، سڑکیں اتنی اہم ہیں تو ہسپتال ، کارخانے ، تعلیمی ادارے ، تحقیقی انسٹیٹیوٹ  ، زراعت پر عدم توجہ کا کوئی تو سبب ہو گا ۔ شائد اسکی وجہ وہ کمیشن ہے جو اصل وجہ دلچسپی ہے ۔
ہم جن ناصحین کی تقلید میں چل نکلتے ہیں ، پتہ یہی چلتا ہے کہ وہ خود بھی بادہ کیش ہیں ۔ وقت ملا تو وہ بھی ملکی وسائل کے جام پہ جام  لنڈھائیں گے ۔
اس ساری بے راہروی کو روکنے کا ایک ہی حل ۔ اسلام کا نظام ۔
یہ وہ چھلنی ہے جس سے سارا گند الگ ہو جائے گا ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں کے نام

" اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں کے نام "
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ، یہ اللہ کا اعلان ہے ۔
قران پاک واضع ، آسان ،  عام فہم اور لا ریب کتاب ، یہ قران کا دعویٰ ہے ۔
اسوہ حسنہ ، زندگی کی مکمل رہنمائی مسلمہ حقیقت ۔
مکمل ضابطہ حیات میں زندگی کا ہر پہلو آجاتا ہے ، خواہ وہ سیاسی ہو ، سماجی ہو ، معاشی ہو ، معاشرتی ہو ۔ اسکی ساری تشریح اللہ کی لاریب کتاب میں ، اور عملی نمونہ اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کے عمل میں ہے ۔ تو پھر ابہام کہاں پہ ہے ، جو ہمیں نظام حکومت میں ، راستہ نہیں مل رہا ۔
کہ  ہم نے جمہوریت کے نظام پر شہادت قبول کر لی ، اسکی خدمت کو عبادت کہہ ڈالا ۔
اللہ نے تو واضع الفاظ میں آگآہ فرما دیا کہ یہ کافر تجھے تیرے دین سے پھیرنے کی تگ و دو کرتے رہیں گے ، جب تک تو انکے بہکاوے میں نہیں آجاتا ۔
کیا یہ جمہوریت ہمیں دین سے پھیر کر کافر کے نظام کی طرف نہیں لے جا رہی ۔
ارے تم دین کی باتیں کرنے والے تو قران کو سمجھتے تھے ۔ پھر تم نے دین کی خدمت کا جہاد چھوڑ کر کفر کے نظام کا جھنڈا کیوں پکڑ لیا ۔ اگر بہک ہی گئے ہو تو قوم کو جمہوریت کا اسلامی لباس پہنانے پر کیوں تلے بیٹھے ہو ۔
سادہ ذہن کے لوگ تمہاری بات سنتے ہیں ، انکو بہکا کر اپنے لئے بھی اللہ کا غضب خرید رہے ہو اور انکو بھی اسی بھٹی کا ایندھن کیوں بنا رہے ہو ۔
خدا را رحم کرو قوم پر ۔ چند سیاسی سیٹوں کے لئے یہ ظلم مت کرو ۔ مت جوڑو جمہوریت کو ، اسلام کے ساتھ ۔
کیا معلوم کونسا سانس آخری ہچکی ہو ۔  وہ تمام مدبر ، جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر ، صحابہ کے دور کو جمہوریت سے جوڑنے ، بے سروپا کے حوالہ جات جمع کر کے ، اپنی علمیت کو سادہ لوح لوگوں کو ورغلانے میں لگ گئے ہیں   ، یاد رکھیں کہ انہیں نہ عنان اقتدار ملے گی ، اور رہی سہی عزت و احترام کا جنازہ الگ سے اٹھ جائے گا ۔ انہیں جو توقیر ملی ہوئی ہے ، وہ  صرف اور صرف اسلام سے وابستگی کے باعث ہے ۔ اللہ کے دین سے مذاق ناقابل معافی جرم ہے ۔ جس کی سزا رسوائی ہے ۔ امت مسلمہ اسکا مشاہدہ کر رہی ہے ۔ آپ سب جو اسلام کی چھتری تلے پناہ گزیں ہو ۔ اسکا حق ادا کرو ۔ بہت شکریہ
ازاد ہاشمی

باب العلم

" باب العلم  علی کرم اللہ وجہہ "
اللہ تعالیٰ سے شیطان مردود ، بضد تھا کہ آدم کی تخلیق زمین پر فساد کا باعث ہو گی ۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کی فوقیت کیلئے  کچھ علم سکھا دیا  ، جو فرشتے نہیں جانتے تھے ۔ گویا علم انسان کی معراج کا ثبوت ہوا کرتا ہے ۔ اسی علم کی بنا پر انبیاء کی فضیلت مقدم ہوتی ہے اور وہ عام انسانوں سے بلند مقام پر فائز ہوتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے تمام علوم کا کمال قران کو بنایا اور یہ قران اپنے حبیب پر نازل فرما دیا ۔ علم اللہ کی امانت ، قران اللہ کی امانت ، کائنات کے امین کے سپرد کر دی ۔ ایسی ہستی ، جس کی امانت داری کے دشمن بھی معترف تھے ۔  امانت داری کی معراج کی گواہی ، وہ شب ہے جب اللہ کے نبی کے پاس ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور وقت بھی نہیں کہ لوگوں کی امانتیں واپس کی جا سکیں ۔ حکم ربی بھی ہے کہ ہجرت کی جائے ، امانت داری کا تقاضا بھی کہ امانتیں واپس لوٹائے بغیر نہ نکلا جائے ۔ ایسے میں ایک ایسے امین کی تلاش ، جو نبی کی امانت داری کا امین ہو ۔ نبی کے بستر مبارک کے تقدس کا اہل ہو ، جسے نبی پاک جان سے زیادہ عزیز ہو ، جس کی فراست نبی پاک کی فراست کے قریب تر ہو ، جس پر نبی کا اعتماد کامل ہو ، جس کے تقرر پر اللہ کی تائید حاصل ہو ۔
وہ باب العلم علی کرم اللہ وجہہ تھے ، جنہیں علم کی وہ میراث بھی نصیب تھی ، کہ اللہ کے حبیب نے اعلان فرمایا
انا مدینتہ العلم و علی بابہا
آج اسی ہستی کا یوم پیدائش ۔ اسی جگہ جہاں پاکیزگی اور طہارت کا تصور اپنی پوری معراج پر ہے ۔ اللہ کے گھر میں ، کائنات کے امین کے امین کی آمد کا دن ۔ مبارک دن ہر اس کے لئے  ، جسے رسول خدا سے محبت ہے اسے اس مولود کعبہ سے بھی محبت کا ہونا لازم ٹھہرا ۔ 
ازاد ہاشمی

اللہ اور رسول کا حکم مانو

" اللہ اور رسول کا حکم مانو "
اللہ تعالیٰ نے اپنی مبین و بلیغ کتاب میں واضع اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ اللہ اور رسول کا حکم مانو ، اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
کیا یہ سمجھنا آسان نہیں ہو گیا کہ ہماری ساری رسوائی ، ساری بد امنی ، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ ، افلاس ، باہمی چپلقش اور ہر میدان میں پسپائی کیوں ہے ۔
جب اللہ کے رحمت والے ہاتھ اٹھ جائیں ، تو شیطان کی گرفت مضبوط ہو جاتی ہے ۔ اور شیطان کا انتقام یہی ہے کہ  ابن آدم رسوائی کا شکار رہے ، گناہوں سے گھرا رہے ، بے سکون اور خوف کے عالم میں رہے ۔ باہمی منافرت پھیلے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں ۔ گمراہوں اور مغضوبوں کی پیروی کی جائے ۔ یہ انتقام ہے شیطان کا ۔ اور ہم شیطان کے انتقام کا شکار اسلئے ہیں کہ ہم نے اللہ کے احکامات ماننا ، اللہ اور رسول کی اطاعت کرنا چھوڑ دیا ۔
اللہ نے حکم دیا کہ میری رسی تھام لو ، ہم نے جمہوریت کی رسی پکڑ لی ۔ اللہ نے حکم دیا تفرقہ بندی نہ کرو ، ہم نے مسالک ، سیاست ، لسانیت  اور علاقائی گروہ بنا لئے ۔
اللہ نے کہا سود حرام ہے ، میرے ساتھ جنگ ہے ، ہم نے اپنی معیشت کی بنیاد سود پر رکھ دی ۔ اللہ نے کہا بے حیائی مت کرو ، ہم نے ثقافت کے نام پر ناچ گانا شروع کر دیا ۔ اللہ نے کہا جوا ، پانسے شیطان کے کھیل ہیں ، ہم نے جوے کے کئی راستے کھول لئے ۔
رحمان کی رحمت کی شرط اطاعت ، حکم کی تعمیل اور اسکے راستے پر چلنا ہے ۔
سنجیدگی سے سوچنا اور عمل کرنا ہو گا ۔ 
ازاد ھاشمی

Tuesday, 11 April 2017

ہم جاہل ہیں

" ہم جاہل ہیں "
جہالت سکول اور کالج نہ جانے کا نام نہیں ۔ بڑی بڑی ڈگریوں سے بھی کبھی کبھی جہالت دور نہیں ھوتی ۔ دانائی اور شعور خدا داد صلاحیت ہے ۔ اور یہ صلاحیت اللہ اسی کو نصیب کرتا ہے ، جسے پسند فرماتا ہے اور  جو اس انعام کے قابل ہوتا ہے ۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے بیشتر ڈگریوں کے سہارے کے بغیر کامیاب ہوئے ۔
شعور کا نہ ہونا ، اسکا منفی استعمال , ذاتیات کو قومیت پر ترجیح دینا ، ایک ضد پر ڈٹ جانا ،    ,انا کو اپنا مطمع نظر بنا لینا    ,حقائق کو چھوڑ کر خوابوں کے پیچھے بھاگنا , فرائض سے غافل ہو کر کامیابی کی امید رکھنا سب  جہالت ہے ۔
اس سب سے بڑی جہالت یہ ہے کہ جو راستہ ھمارے خالق نے منتخب کیا اسے چھوڑ کر اسکے مخالف راستے کو اختیار کر لیا۔ اللہ چاہتا یے کہ ہم اسکے انعام یافتہ لوگوں کی راہ اختیار کریں مگر ہم نے مغضوبین کا راستہ چن لیا ۔ کیا یہ سب جہالت نہیں ۔ کیا ہم سب کی یہی ڈگر نہیں ۔
ہم انکار نہیں کر سکتے کہ ہم جاھل ہیں۔
شکریہ
ازاد ہاشمی

جعلی ڈگریاں ، سچ کیا ہے

" سچ کیا ہے "
پاکستان کے  بہترین کارکردگی کے حامل افسر نے چند ماہ پہلے ایک ایسا تیر مارا کہ پورے معاشرے میں بلے بلے ہو گئی  ۔ دنیا میں ملک کی گرتی ہوئی ساکھ بچ گئی ۔ جعلی ڈگریاں ایک ایسا جرم جو نا قابل قبول تھا۔ جو ملک لوٹنے ، ملک کو مردہ باد کہنے اور مردہ باد کرنے کی کوششوں سے بھی سنگین جرم ہے ۔ ان جرائم سے کیا ملک کی عزت اور توقیر میں اضافہ ہوتا ہے ۔  ایسے معاملات میں یہ آفیسر کہاں چلے جاتے ہیں ۔
ایک عام درجے کا آدمی اپنی قابلیت پر ترقی کر جائے ، تو وہ نا کردہ گناہ پر بھی گرفت میں آ جاتا ہے ۔ اگر وہ مجرم تھا اور ساری تحقیقات درست تھیں تو پھر عدالت مجرم ہے ، جس نے ایسے گناہ گار کو چھوڑ دیا ۔ اگر عدالت کا فیصلہ درست ہے تو اس اعلیٰ کارکردگی والے آفیسر کے خلاف کیا کاروائی ہو گی ۔  کیا وہ یوں ہی جاھل حکمرانوں کے اشاروں پر جبر کا ڈنڈا  تھامے رہے گا ۔ دنیا کی روایت یے کہ ہر جابر کو اسکی رعونت کی سزا ملتی ہے اور بالآخر وہ ذہنی قرب کا شکار ہو کر زندگی بھر کے تکبر کا حساب چکاتا ھے۔  جو بھی کرسی کے فریب کا شکار ھوا اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ یہی سچ ہے کہ کرسی کے تکبر نے ایک ترقی کیطرف بڑھتے ھوئے نوجوان کو رسوائی دینا چاہی ، نہیں دے سکا ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ایک خود سر افسر نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایک قابل اور ذہین نوجوان کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی ۔  نہ صرف یہ کہ کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر ڈالے۔ کیا اسکا حساب نہیں ہو گا ۔ الله حساب لینے پہ قادر ہے۔ جو بھی غلط تھا ، ابھی حساب باقی ہے ۔شکریہ
آزاد ہاشمی

سنت ابراہیمی کا مقصد

" سنت ابراہیم علیہ السلام "
اللہ اپنے پیاروں کی آزمائش بھی عجب رنگ سے کرتا ہے ۔ اور اسکے پیارے بھی عجب رنگ سے اللہ کی رضا کو پورا کرتے ہیں ۔ کچھ ایسی ہی آزمائش تھی جو اللہ نے اپنے خلیل سے کر لی ۔ ھم نے اس عظیم عمل کو جانور کاٹنے تک محدود کر دیا ۔ خواہ رشوت لے کر کاٹیں ، غصب کئے ھوئے مال سے کاٹیں ، مقصد ایک جانور کا گلا کاٹنا ھے ۔ قربانی اور جانور کاٹنا دو الگ الگ عمل ھیں ۔  سنت ابراہیمی اللہ کی اطاعت میں اپنی عزیز ترین متاع کو قربان کرنا ، تقویٰ کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنائے رکھنا ، اللہ کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ نہ کرنا خواہ آگ میں ہی نہ کودنا پڑے ۔
ناجائز ذرائع آمدن سے حاصل کی گئی دولت سے جانور کاٹ دینا قربانی نہیں ، ایک رسم ہے ، دکھاوا  ہے ۔
ہمارے ہاں عجیب سی روایت نے جنم لے لیا کہ مذہبی اداروں کو قربانی کی روح کو سمجھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ،انکی نظر کھالوں سے آمدن کے حصول پر ہے۔ یہی نہیں بلکہ دین کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں بھی پوری دوڑ لگاتی ہیں ۔ لسانی تنظیمیں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں ۔ گوشت بھی سماجی تعلقات ، افسران کی خوشامد کے مطابق تقسیم ہوتا ہے ۔ چند بوٹیاں مانگنے والوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں باقی فریزرز میں محفوظ کر لیا جاتا ہے ، جس سے ضیافتیں چلتی رہتی ہیں ۔ یقیناً یہ اللہ کی رضا نہیں ، بلکہ اللہ کے حکم کا مذاق ہے۔  قربانی کے مقصد سے اگاہی اور تکمیل اصل سنت ابراہیمی ہے۔
اسطرف توجہ کی اشد ضرورت ہے تاکہ عبادت کا فریضہ ضیافت کا عمل نہ بن جائے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی