Tuesday, 11 April 2017

سنت ابراہیمی کا مقصد

" سنت ابراہیم علیہ السلام "
اللہ اپنے پیاروں کی آزمائش بھی عجب رنگ سے کرتا ہے ۔ اور اسکے پیارے بھی عجب رنگ سے اللہ کی رضا کو پورا کرتے ہیں ۔ کچھ ایسی ہی آزمائش تھی جو اللہ نے اپنے خلیل سے کر لی ۔ ھم نے اس عظیم عمل کو جانور کاٹنے تک محدود کر دیا ۔ خواہ رشوت لے کر کاٹیں ، غصب کئے ھوئے مال سے کاٹیں ، مقصد ایک جانور کا گلا کاٹنا ھے ۔ قربانی اور جانور کاٹنا دو الگ الگ عمل ھیں ۔  سنت ابراہیمی اللہ کی اطاعت میں اپنی عزیز ترین متاع کو قربان کرنا ، تقویٰ کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنائے رکھنا ، اللہ کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ نہ کرنا خواہ آگ میں ہی نہ کودنا پڑے ۔
ناجائز ذرائع آمدن سے حاصل کی گئی دولت سے جانور کاٹ دینا قربانی نہیں ، ایک رسم ہے ، دکھاوا  ہے ۔
ہمارے ہاں عجیب سی روایت نے جنم لے لیا کہ مذہبی اداروں کو قربانی کی روح کو سمجھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ،انکی نظر کھالوں سے آمدن کے حصول پر ہے۔ یہی نہیں بلکہ دین کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں بھی پوری دوڑ لگاتی ہیں ۔ لسانی تنظیمیں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں ۔ گوشت بھی سماجی تعلقات ، افسران کی خوشامد کے مطابق تقسیم ہوتا ہے ۔ چند بوٹیاں مانگنے والوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں باقی فریزرز میں محفوظ کر لیا جاتا ہے ، جس سے ضیافتیں چلتی رہتی ہیں ۔ یقیناً یہ اللہ کی رضا نہیں ، بلکہ اللہ کے حکم کا مذاق ہے۔  قربانی کے مقصد سے اگاہی اور تکمیل اصل سنت ابراہیمی ہے۔
اسطرف توجہ کی اشد ضرورت ہے تاکہ عبادت کا فریضہ ضیافت کا عمل نہ بن جائے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment