" تیری میری دھرتی "
ھم نے اقتدار کی ہوس میں ، اپنی دھرتی میں اخوت کے پھول اگانے کی بجائے ، نفرت کے کانٹے بو دیئے ہیں - اب یہی کانٹے ھمارے ہی پاوں کو زخمی کرنے لگے ہیں ۔ ہم نے اپنے بھائیوں کے دکھ اور تکلیف بانٹنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ انکی آھوں ، سسکیوں ، گلے اور شکووں کو سننا بھی گوارہ نہیں کیا ۔ انکے حصے کی روٹی اپنے کتے کو ڈال دی ، مگر اسے نہیں دی ۔ جو بڑے تھے ، انکو توفیق ہی نہیں ہوئی کہ چھوٹوں کے سر پر دست شفقت رکھ کر انکی ضرورت ہی پوچھ لیتے ۔ طاقت کے نشے نے اپنے ہی بھائیوں کو دور کر دیا ۔ کچھ بٹوارہ کر کے چلے گئے ، کچھ دشمن کے ساتھ مل کر جانے کی انتہائی کوشش میں جت گئے ۔ ھماری دہرتی ، ھمارا گھر بے سکون ھو گیا ۔
سمجھ نہیں آ رھا کہ خرابی ، گھر کے سربراہوں کی وجہ سے ہے ، یا بگڑے ہوئے بے شعور بچوں کیوجہ سے ۔ گھر کا اصل دشمن کون ہے اور اسکا راستہ کسے روکنا ہے ۔ کچھ بھی تھا ، یہ کونسی دانشمندی یے کہ گھر کی لڑائی کو دنیا کا تماشا بنا ڈالا ۔ اور اپنی دھرتی ، اپنی ماں ، جسکی کھوکھ سے ھم نے جنم لیا ، جسکی آغوش میں پروان چڑھے ، اسی کے خلاف بغاوت کی آواز اٹھا دی ۔ اسی وجود کی بربادی کا ساماں کرنے لگے ۔ چند تلخ حقائق ھیں ، جن کا حل نا ممکن نہیں ، جو نہ سمجھنے کی ضد میں ھیں ، انہیں سمجھنا پڑے گا ، اور جو حقوق کی مانگ کر رھے ھیں ، انہیں دھرتی کی وفا کا یقین رکھتے ھوئے تقاضا کرنا ھوگا۔اس لئے کہ یہ دھرتی تیری بھی ھے میری بھی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Thursday, 13 April 2017
تیری میری دھرتی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment