" ویلنٹائن ڈے منافقت یا مذاق "
ویلنٹائن ڈے نہ ہماری تہذیب ، نہ ہمارا دین ، نہ ہماری روایت اور نہ ہی قابل ستائش عمل کہ اسے ایک تہوار کے طور پہ منایا جائے ۔ قومیں جب اپنی روایات کو بھول کر دوسری قوموں کی تقلید میں لگ جائیں تو یقین کر لینا چاہئے کہ شعوری جنازہ نکل چکا ۔ اور زوال کا آغاز ہو گیا ۔
قطع نظر کہ ویلنٹائن ڈے کہ تاریخ کیا ہے ، یہ کس روایت کا پرچار ہے ، اس میں کونسی ایسی خوبی ہے کہ اسکا اہتمام کیا جائے ۔ اس کے پیغام پر نظر دوڑائی جائے تو شائد اس کی تحریک دم توڑ جائے ۔ ذہنی آلودگی کا اظہار اس کھلے عام کہ اختلاط کی آزادی عام ہو جائے ، نہ تو پسندیدہ عمل ہے اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے میں مقبول ہے ۔ کون پسند کرےگا کہ اسکی بیٹی ، ماں ، بہن یا بیوی اپنے موجودہ یار یا ماضی کے یار سے آوارگی کی یاد تازہ کرنے کھلے عام چلی جائے ۔ مذہب کی بات چھوڑ کر بھی سوچا جائے تو شاید ہی کوئی اتنی بیغیرتی کو قبول کرنے پر تیار ہو جائے ۔ رہا اپنے رفیق سفر سے محبت کا اہتمام تو اسکے لئے ایک یوم کی تخصیص کا کیا سبب ہے ۔ یہ یوم تو روز روز کی ضرورت ہے ۔ باہمی محبت ہو تو ایک ہی دن پر محدود نہیں ہوا کرتی ۔ اسکا کوئی وقت مقرر نہیں کیا جاتا ۔
سال میں ایک دن کو اظہار محبت کیلئے مخصوص کرنا تو منافقت کا کھلا کھلا اظہار ہے محبت کا نہیں . میری سمجھ کے مطابق ، یہ امراء کا چونچلہ ہے جسے عام سطح کے مغرب زدہ لوگوں نے اپنا لیا ہے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Sunday, 9 April 2017
ویلینٹائن ڈے منافقت یا مذاق
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment