Thursday, 13 April 2017

ناصح بھی بادہ کیش ہے

" ناصح بھی بادہ کیش ہے "
ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جسے اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں ۔ جس کی مسیحائی کو آخری ضرورت خیال کرتے ہیں ۔ اسکے ھاتھ کا وہ خنجر نہیں دیکھتے جو اسنے کمر کے پیچھے چھپا رکھا ہوتا ہے ۔ ہر دور میں ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ حکمران وطن کو لوٹ رہے ہیں ۔ پھر شور مچانے والے خود آ جاتے ہیں ۔ تو دوسرے وہی راگ الاپنے لگتے ہیں ۔ یہ سمجھنا کہ سچ کیا ہے نا ممکن ہو گیا ہے ۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے ہمیں جو شعور بخش رکھا ہے ہم نے اسے استعمال کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ، ورنہ یہ سمجھنا نہایت آسان ہے کہ سب کے سب سیاستدان تاجر ہیں ۔ انتخابات پہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ضرب کے عمل سے منافع کماتے ہیں ۔
صرف ایک سوال ان ہمدردان ملک و ملت سے کہ کیا وہ مراعات جو وہ اسمبلی ممبر ہونے کے ناطے حاصل کرتے ہیں ۔ انکا جائیز استحقاق ہے ۔ کیا اسے کرپشن کا نام دینا غلط ہے ۔ کیا یہ ملکی وسائل کا بے جا استعمال نہیں ۔ اس جرم میں کون کون شامل نہیں ۔
کوئی بتانے کی زحمت کرے گا کہ یہ سارے نیلی ، پیلی ، گلابی میٹرو ، ٹرین ، پل ، سڑکیں اتنی اہم ہیں تو ہسپتال ، کارخانے ، تعلیمی ادارے ، تحقیقی انسٹیٹیوٹ  ، زراعت پر عدم توجہ کا کوئی تو سبب ہو گا ۔ شائد اسکی وجہ وہ کمیشن ہے جو اصل وجہ دلچسپی ہے ۔
ہم جن ناصحین کی تقلید میں چل نکلتے ہیں ، پتہ یہی چلتا ہے کہ وہ خود بھی بادہ کیش ہیں ۔ وقت ملا تو وہ بھی ملکی وسائل کے جام پہ جام  لنڈھائیں گے ۔
اس ساری بے راہروی کو روکنے کا ایک ہی حل ۔ اسلام کا نظام ۔
یہ وہ چھلنی ہے جس سے سارا گند الگ ہو جائے گا ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment