Friday, 11 May 2018

فوج قوم کا مورال تھی

" فوج قوم کا مورال تھی "
اکہتر کی ناکامی کے بعد بھی , یہی سمجھا جاتا رہا کہ یہ ناکامی سیاسی لوگوں کی وجہ سے ہوئی . فوج کی شان میں چند سال پہلے تک , کوئی ایک شخص بھی نہ کچھ بولتا تھا , نہ دوسرے کو بولنے دیتا تھا . فوج کے پیشہ ورانہ کردار سے ہر کوئی خوش تھا . ہر کوئی اس یقین سے کہ فوج کا وطن سے اخلاص ناقابل مثال ہے , ہر شخص  ایک عجیب سی عقیدت رکھتا تھا , جس کی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی .
مگر آج کیفیت کیا ہے . ہم نے آنکھیں موند رکھی ہیں . فوج کو مقدس بنانے والے لوگ , سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ فوج ایک سیاسی وجود بن گیا ہے . اب شاید ضرورت پڑنے پر پہلے جیسی پذیرائی بھی نہیں مل سکے گی . لوگ فوج کو بھی پولیس کیطرح طاقتور کو تحفظ دینے والا ادارہ سمجھنے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکے ہیں . اور یہ سوچ پکی ہو گئی تو شاید پھر تبدیل نہ ہو سکے .
فوج کے رویے سے قوم کا مورال کم ہوا ہے . اور باور ہونا چاہئے کہ کوئی فوج , قوم کے مورال کے بغیر کوئی محاذ فتح نہیں کر سکتی . اسکا مشاہدہ ہم نے اکہتر میں کیا . مکتی باہنی کو بنگالیوں نے تحفظ دیا اور فوج کا ساتھ نہیں دیا . ہمارے بہترین جنرل کچھ نہیں کر سکے .
قوم کا مورال بلند ہو تو ملک دشمنوں کو پناہ گاہیں نہیں ملتیں . اور اگر نہ ہو تو ہر گھر دشمن کا مورچہ بن جاتا ہے .
فوج کو رائے عامہ پر توجہ رکھنا ہو گی . دیکھنا ہو گا کہ رائے عامہ کی تبدیلی منفی تو نہیں .
یہ سوشل میڈیا کی باتیں , بک بک سمجھنے سے حقائق تبدیل نہیں ہونگے . ساری سرحدیں غیر محفوظ ہیں , پہاڑوں پر ابھی لوگ مورچے لگائے بیٹھے ہیں , شہروں میں لوگ خودکش جیکٹیں پہنے بیٹھے ہیں . قوم کو اعتماد میں لینا اور ثابت کرنا کہ وہ محفوظ ہیں . بہت ضروری ہے . مقتدر  لٹیروں کو تحفظ کا راستہ دینے  سے سب کچھ بدل جائے گا . اور اب کی بار سارا نزلہ فوجی قیادت پر اترے گا . رائے عامہ اس سوچ پر پکی ہو جائے گی کہ فوج بھی بکنے لگی ہے . یہ ملک کی بد قسمتی ہو گی . اور فوج کا زوال . دشمن اسی تاک میں ہے . یہی کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا . 
ازاد ھاشمی
11 مئی 2017

Wednesday, 9 May 2018

مذہب اور سائنس

" مذہب اور ساِئنس "
ایک محترم دوست لکھتے ہیں
" اب بھی اس کرہ ارض پر ایسے سماج موجود ہیں جہاں مزہبی گرفت اور زہنی غلامی کا یہ عالم ہے کہ کائنات کو خدا اور شیطان کے درمیان تقسیم کر رکھا ہے لیکن اس طرح کے سماج اب زیادہ دیر انھیں خطوط پر قائم نہیں رہ سکیں گے کیونکہ اب دنیا کی ہر چیز اور کیفیت پر علمی تحقیق نقطہ نظر سے بحث کی جانے لگی ہے۔ایک ایک زرہ سے لے کر پہاڑوں کی سربفلک چوٹیوں تک کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو علم وتحقیق سے باہر ہو "
پھر لکھتے ہیں
"عام طور پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سائینس کا علم وتحقیق صرف مادی چیزوں پر ہے اور مزہب ایک روحانی چیز ہے اس لئے وہ اس کی دسترس سے محفوظ ہے ایک خام خیالی کے علاوہ اور کیا ہے ۔ " 
آپ کی بحٹ کا پہلا حصہ , کائنات کے مذہبی تصور پر ہے . کائنات کی یہ تقسیم کسی سماج کے گروہ , مکتبہ فکر کی نہیں . شیطان اور رحمان کے ماننے والوں کی تقسیم , کردار , روئیوں اور نیکی برائی کی بنیاد پر ہے اور یہ اٹل ہے . معاشرہ کتنا بھی تحقیقی ہو جائے , برائی اور اچھائی کے خطوط برقرار رہیں گے . اسے ذہنی غلامی کا نام دینا , نا مناسب ہے .
دوسرا حصہ بھی دلائل میں وزن نہیں رکھتا . سائینس نے ترقی کی وہ راہیں کھول دیں کہ  انسان کی تخلیق کے کیمیاوی اجزاء کی ترتیب ڈھونڈھ نکالی . ہر پھل کے اجزاء کا تناسب نکال لیا .
مگر ساری سائینس کے تمام فارمولے آزما لو , اور ان کی بنیاد پر انگور , سیب یا کوئی دوسرا پھل بنا سکو تو بنا کر دنیا کو دکھا دو .
سائنس بتدریج اس مقام کی طرف جا رہی ہے , جس کا اشارہ اللہ کی کتاب میں , اسوقت دیا گیا تھا . جب اس ترقی کا خواب بھی انسان نے نہیں دیکھا تھا . اللہ نے بڑے دعوے سے قران میں فرمایا ہے کہ تم تو ایک مکھی بنانے کی قدرت نہیں رکھتے ہو . اگر بنا سکو تو بنا کر دکھاو . کیا سائنس کا سارا ارتقاء , اس دعوے کو جھٹلا سکا .
یہ سب انسان نے کیسے کیا . دماغ سے . اور یہ دماغ کس نے بنایا . کیا انسان دماغ بنا سکا . پھر کیوں نہ اسی خالق کی بات کو مان لیا جائے.
ازاد ھاشمی
9 مئی 2017

Tuesday, 8 May 2018

سیٹ ایڈجیسٹمنٹ

" سیٹ ایڈجیسٹمینٹ "
مبارک ہو قوم کو ۔ اسلام کی داعی کچھ جماعتوں نے اگلے انتخاب کا نہایت دانشمندانہ فیصلہ کیا  ہے کہ وہ مل  کر الیکشن نہیں لڑیں گی , مل کر سیٹیں بانٹیں گی ۔
پہلا قابل تعریف کام تو یہ ہے کہ جمہوریت کو زندہ رکھا جائے گا ۔ اگر جمہوریت کو کچھ ہو گیا تو اہل کتاب بھائی  , یہودی اور عیسائی ناراض ہو جائیں گے کہ ہم نے اپنی راہ اسلام کے نظام کی طرف کیوں موڑ لی ۔ 
یہ سیٹیں بانٹنا ، نورا کشتی کی ہی ایک شکل ہے ۔ یہ کام ہر ناکام سیاسی گروہ ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ۔ اور جو زیادہ شاطر ہوتے ہیں وہ حکومت سازی پر باریاں باندھ لیتے ہیں ۔ جیسے پاکستان ، امریکہ ، برطانیہ ، بھارت غرضیکہ ہر جمہوری ملک میں دو دو پارٹیوں نے باری باری اقتدار کے مزے لینے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے ۔ 
سوال سیدھا سا ہے کہ اگر منشور الگ الگ ہیں تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیسے ، اگر منشور ایک ہے تو پھر الگ الگ پارٹی کا کیا جواز ہے ۔
یہ سارا مذاق قوم کے ساتھ ہے ۔ اور قوم کو کبھی سمجھ ہی نہیں آیا کہ عوام کی خدمت کے لئے کرسی کیوں ضروری ہے ۔ خدمت کے لئے تو جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ، جیسے عبدالستار ایدھی ، جیسے ڈاکٹر ادیب رضوی اور ایسے بے شمار نام ۔
خدا را عوام کے خلوص سے مت کھیلو ۔ اللہ کے احکامات پر اپنی راہ کا انتخاب کرو ۔ عمل سے دکھاو کہ آپ عملی طور پر کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہو اور وہ ارادہ حکم ربی کا نفاذ ہے ۔ اللہ کی تائید کا یقین کر کے دیکھو ۔ یہ خجل خواری بھی نہیں رہے گی ۔ 
اللہ نے یہ بے دین ، گمراہ ، بد دیانت اور بد کردار حکمران ، ہم پر کیوں مسلط کر دئے ۔ اس میں آپ دینداروں کا کتنا حصہ ہے ۔ کبھی سوچو تو سہی ۔ عوام سے زیادہ قصور وار آپ ہو ۔ مذہب کے نام پر سیاست چمکانے والے ۔
ازاد ھاشمی
8 مئی 2017

Monday, 7 May 2018

کفار کی آسائشیں مت دیکھو

" کفار کی آسائشیں مت دیکھو "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
" اور  تم ان چیزوں کیطرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان کافروں کو مزے اڑانے کیلئے دے رکھی ہیں ، اور ان پر اپنا دل  مت کڑھاو ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں انکے لئے اپنی شفقت کے بازو پھیلا دو ۔ " سورہ الحجر ٨٨
رسولؐ کریم کی وساطت سے یہ حکم ہر مسلمان کیلئے ہے ۔ ہمارے سامنے اسوقت دنیا کی وہی چکا چوند ہماری منزل بن چکی ہے ، جو کفار کو میسر ہے ۔ اصل مسلہ یہ ہے کہ ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات سے پوری طرح اگاہ ہی نہیں ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کفار نے ساری ترقی ، ساری پر کشش زندگی اور پر آسائش رہن سہن اپنی قابلیت ، محنت اور ٹیکنالوجی کے باعث حاصل کیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سب کچھ انہیں اللہ کیطرف دیا گیا ہے ۔ کیوں دیا گیا ہے ، اسکی مصلحت کیا ہے ، یہ قرآن میں بارہا درج ہے ۔ مگر ہماری نظریں ہمیشہ ان کفار پر گڑھی رہتی ہیں ۔ میری اور آپکی زندگی کتنی ہے ، اس زندگی کا جس روز اختتام ہو گا ، ہمارے ساتھ کیا جائے گا ۔ سب کچھ یہاں ہی رہ جائے گا ۔ پھر ہم نے اپنی ساری سوچ کو ان آسائشوں کے حصول پر کیوں مرکوز کر رکھا ہے ۔  اللہ کا حکم ہے انکی اس زندگی پر مت پریشان ہوں ۔ اپنے دل کو اس زندگی کیطرف مائل کر کے مغموم ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ قرآن کے ماننے والوں کیلئے ہدایت یہ ہے کہ جو مسلمان ایمان لے آئے ہیں ، اپنی محبت اور شفقت کے بازو انکے لئے پھیلا دو ۔ انکو اپنے قریب تر کر لو ۔ اطمینان قلب کیلئے بہترین راستہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٧ مئی ٢٠١٨

سورہ فاتحہ اور ہم

" سورہ فاتحہ اور ہم "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔
" اور ہم نے تمہیں سات ایسی آیات دے رکھی ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں ۔ اور قرآن عظیم عطا کیا "
سورہ الحجر ٨٧
جو لوگ نماز پڑھتے ہیں ، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ لازم ہے ۔ ویسے بھی عام طور پر اس سورہ کی تلاوت ہوتی رہتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی شان میں ذکر فرما کر اہمیت کو اور بھی بلند فرما دیا ۔ ہم کیا پڑھتے ہیں جو اللہ کو اسقدر اچھا لگتا ہے ۔ ہم کہتے ہیں ۔
" تمام حقیقی تعریفیں تمام جہانوں کے رب کیلئے ہیں ۔ جو رحمٰن بھی ہے اور رحیم بھی ۔ روز جزا کا کلی مالک و مختار ہے ۔ " اللہ کی اس جامع تعریف کے بعد ہم کچھ مانگتے ہیں ۔ اور جو کچھ بھی مانگتے ہیں وہ اجتماعی التجا ہے ، انفرادی نہیں ۔ ہم کہتے ہیں ۔
" ایاک نعبدو و ایاک نستعین " ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے  مدد  مانگتے ہیں ، تعاون مانگتے ہیں  ۔ یہ اجتماعی دعا ہے ۔ صرف میرے لئے نہیں بلکہ ہر اس بندے کیلئے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے ، اس کیلئے مدد کی درخواست ہے ۔ وہ مدد جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں ، وہ کیا ہے ۔
" اھدنا الصراط المستقیم ۔  صراط الذین انعمت علیھم ۔ غیر المغضوب علیھم والضالین "
ہم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم سب کو ، تمام معاشرے کے افراد کو جو تیری عبادت کرتے ہیں ، تیرا عبد ہونے کا عملی اظہار کرتے ہیں ، ان سب کو سیدھے راستے کی ہدایت دے ، سب کو سیدھا راستہ دکھا دے ۔ کونسا سیدھا راستہ جو تیرے ان بندوں کا راستہ تھا جن پر تیری رحمتیں اور انعام ہوتے رہے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سیدھی  راہ پر اگر معاشرہ چلنا شروع کرے تو اللہ کے دین کا اصل حسن سامنے آتا ہے ۔ اسی لئے یہ دعا فرد واحد کی اپنی ذات تک محدود نہیں ، بلکہ " ہم " کے لفظ سے اجتماعی دعا ہے ۔
اللہ پاک کے انعام یافتہ کی راہ ، ہر برائی ، عناد ، رعونت اور بغض سے پاک ہوتی ہے ۔ انکی راہ ، باہمی احساس ، ہمدردی ، بردباری ، یگانگت , شیطنت سے بیزاری اور امن ہوتی ہے ۔ ہم اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ ہمیں گمراہوں اور جن پر تیرا غضب ہوا ، انکی راہ سے بچا لینا ۔
اصل دعا اجتماع کیلئے ہے ، پورے معاشرے کیلئے ہے ، ہر اس شخص کیلئے ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے ۔کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں مانگی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے ۔ یہی ہم سورہ فاتحہ میں کرتے ہیں ۔ اب چونکہ سمجھ کر نہیں کرتے اسلئیے نہ خشوع آتا ہے اور نہ اثر دکھائی دیتا ہے ۔ اگر ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر سمجھ کر کہیں گے تو دعا کا انداز تبدیل ہو جائے گا اور قبولیت پا لے گا ۔ جب قبولیت پا لے گا تو اللہ کی مدد سب کو ملے گی ۔  معاشرہ ہدایت کہ راہ اختیار کر لے گا ۔
آزاد ھاشمی
٧ مئی ٢٠١٨

Sunday, 6 May 2018

طاوس و رباب آخر

" طاوس و رباب آخر "
علامہ اقبال نے فرمایا
آ تجھ کو بتاوں کہ تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، طاوس رباب آخر

وہی قومیں زندہ رہتی ہیں ، جو اپنی روایات کو زندہ رکھتی ہیں ، جو اپنی تہذیب سے پیار کرتی ہیں ۔ جن کو اپنے اسلاف یاد رہتے ہیں ۔ ہم مسلمان ، اللہ کی وحدانیت کو ماننے والے ، اللہ کی کتاب کے پڑھنے والے ، اللہ کے حبیبؐ کی امت کہلانے والے ۔ ان اسلاف کی نسلیں جن کے ایمان اور شجاعت کے سامنے قیصر و کسری جیسے طاقتور حکمران بھی لرزتے تھے ۔ جن کا کردار اپنا کر آج دنیا کی کئی قومیں ترقی کے زینوں پر چڑھ رہی ہیں ۔
ہم رسوائی کی ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں کہ ہر لمحہ دھنستے جا رہے ہیں ۔ لہو ولعب ، رقص و سرود ، خمار و مستی اور شراب و شباب ، ہماری شان و شوکت کی پہچان بنتی جا رہی ہے ۔ مستور رہنا جن کی شان تھی ، وقار تھا اور تہذیب تھی ۔ وہ گھروں سے نکل کھڑی ہوئیں ، یورپ کی تقلید نے سر سے شرم کی چادر اتروا دی اور اب ہزاروں کے جلسوں میں ناچنا عام سا فعل بن گیا ۔ اختلاط عام سی بات ہو گئی بلکہ فیشن کا حصہ بن گیا ۔ کیسے ممکن کہ جب دریا موجزن ہو جائے تو لہریں ایک دوسرے میں گم نہ ہوں ۔ کیسے ممکن کہ شب و روز ایک ہلچل میں رہنے والے برائی سے بچے رہیں ۔ پہلے اسے آوارہ گردی کہا جاتا تھا ۔ باپ ، بھائی دیوار ہوتے تھے ۔ اب باپ بھائی ساتھ ناچنے لگے ہیں ۔ اس مزاج کو کچھ سیاسی رہنماوں  نے مہمیز کیا ہے ۔ وہ سیاسی جلسے جو کبھی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوتے تھے ، جہاں نعت رسولؐ پڑھی جایا کرتی تھی ۔ جہاں بات بات پہ اللہ سے مدد مانگی جاتی تھی ۔ اب مزاج بدل گیا ۔ ہم اپنی حریت کیوجہ سے زندہ تھے ، سرخرو تھے ۔ ہم سے طاقتور دشمن بھی آنکھیں ملانے سے گریزاں تھا ۔ اب ہمیں کمزور سے کمزور دشمن بھی آنکھیں دکھاتا ہے ۔ محض اسلئے کہ ہم نے شمشیر و سناں کو زنگ آلود کر ڈالا اور طاوس و رباب پر نقش و نگار بنا لئے ۔ ہم نے اپنی گردنوں میں سیاسی غلامی کے " پٹے " ڈال لئے ۔ اب نچانے والے قائدین بن گئے تو پوری قوم ناچنے لگ پڑی ۔ جوبن ناچتے ہیں اور دلال ڈھول بجاتے ہیں ۔ یہ ہوئی ہماری سیاست ۔ تباہی پورا منہ کھولے کھڑی ہے اور ہم بے خبر ہیں ۔ جلسے دوشیزاوں کے ٹھمکوں سے گرمائے جاتے ہیں اور پھر قائدین دو چار قرآن کے لفظ بول کر دعوے کرنے لگتے ہیں ۔
الحفیظ الاماں ۔
آزاد ھاشمی
٥ مئی ٢٠١٨

شیطان کی عبادت

" شیطان کی عبادت "
سورہ یسین ٦٠ میں حکم ربی ہے
" یا بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کر دی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کسی ایک امت کو مخاطب نہیں کیا ، بلکہ پوری بنی نوع انسان کو مخاطب کیا ہے ۔ شیطان صرف مسلمانوں کا دشمن نہیں بلکہ ہر آدم زاد کا دشمن ہے ۔ اسے ضد ہے کہ ہر آدم زاد کو گمراہ کرے گا ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت درکار ہے ، وہ ہے عبادت ۔ اگر ہم پورے مشاہدے سے دیکھیں تو کوئی بھی انسان شیطان کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا ۔ عبادت دراصل عبدیت کا اظہار ہے ، جو ہر انسان اپنے عمل ، قول اور فعل سے کرتا ہے ۔ اگر قول وفعل اور عمل حکم ربی کے تحت ہے تو رب العٰلمین کی عبادت ہے ۔ اگر اللہ واحدہ لا شریک کے احکامات کے مطابق نہیں تو عبادت نہیں ، دکھاوا ہے اور یہ دکھاوا شیطان کی اتباع ہے ۔ بنی نوع انسان میں کتنی قومیں ، کتنے مذاہب اور کتنے انسان ہیں تو اللہ کے احکامات سے سرکشی کرتے ہیں ۔ اللہ کے حکم کی سرکشی ، شیطان کی عبادت ہے ۔ شیطان نے کہا تھا کہ بنی آدم دنیا میں فساد پھیلائے گا ، خونریزی کرے گا ، برائی کو پروان چڑھائے گا ، اللہ کی نا فرمانی کرے گا ۔ جو کوئی بھی یہ کرتا ہے، وہ شیطان کا بندہ ہے اور شیطان کی پوجا کرتا ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کتنے انبیاء اور رسول بھیجے کہ انسان شیطان کے جال میں نہ پھنسے ۔ مگر آج بھی اکثریت شیطان کو پوج رہی ہے ۔ ان راستوں پر چل رہی ہے ، جن سے اللہ نے منع فرمایا اور جن میں شیطان نے رغبت پیدا کی ۔
ہم بحیثیت مسلمان ، اس حکم سے با خبر ہیں کیونکہ ہمیں قران مبین نے بتادیا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسلئے اسکے راستے پر مت چلو ۔ اگر ایسا کروگے تو تم شیطان کی عبادت کرو گے ، رحمٰن کی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٦ مئی ٢٠١٨