Wednesday, 9 May 2018

مذہب اور سائنس

" مذہب اور ساِئنس "
ایک محترم دوست لکھتے ہیں
" اب بھی اس کرہ ارض پر ایسے سماج موجود ہیں جہاں مزہبی گرفت اور زہنی غلامی کا یہ عالم ہے کہ کائنات کو خدا اور شیطان کے درمیان تقسیم کر رکھا ہے لیکن اس طرح کے سماج اب زیادہ دیر انھیں خطوط پر قائم نہیں رہ سکیں گے کیونکہ اب دنیا کی ہر چیز اور کیفیت پر علمی تحقیق نقطہ نظر سے بحث کی جانے لگی ہے۔ایک ایک زرہ سے لے کر پہاڑوں کی سربفلک چوٹیوں تک کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو علم وتحقیق سے باہر ہو "
پھر لکھتے ہیں
"عام طور پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سائینس کا علم وتحقیق صرف مادی چیزوں پر ہے اور مزہب ایک روحانی چیز ہے اس لئے وہ اس کی دسترس سے محفوظ ہے ایک خام خیالی کے علاوہ اور کیا ہے ۔ " 
آپ کی بحٹ کا پہلا حصہ , کائنات کے مذہبی تصور پر ہے . کائنات کی یہ تقسیم کسی سماج کے گروہ , مکتبہ فکر کی نہیں . شیطان اور رحمان کے ماننے والوں کی تقسیم , کردار , روئیوں اور نیکی برائی کی بنیاد پر ہے اور یہ اٹل ہے . معاشرہ کتنا بھی تحقیقی ہو جائے , برائی اور اچھائی کے خطوط برقرار رہیں گے . اسے ذہنی غلامی کا نام دینا , نا مناسب ہے .
دوسرا حصہ بھی دلائل میں وزن نہیں رکھتا . سائینس نے ترقی کی وہ راہیں کھول دیں کہ  انسان کی تخلیق کے کیمیاوی اجزاء کی ترتیب ڈھونڈھ نکالی . ہر پھل کے اجزاء کا تناسب نکال لیا .
مگر ساری سائینس کے تمام فارمولے آزما لو , اور ان کی بنیاد پر انگور , سیب یا کوئی دوسرا پھل بنا سکو تو بنا کر دنیا کو دکھا دو .
سائنس بتدریج اس مقام کی طرف جا رہی ہے , جس کا اشارہ اللہ کی کتاب میں , اسوقت دیا گیا تھا . جب اس ترقی کا خواب بھی انسان نے نہیں دیکھا تھا . اللہ نے بڑے دعوے سے قران میں فرمایا ہے کہ تم تو ایک مکھی بنانے کی قدرت نہیں رکھتے ہو . اگر بنا سکو تو بنا کر دکھاو . کیا سائنس کا سارا ارتقاء , اس دعوے کو جھٹلا سکا .
یہ سب انسان نے کیسے کیا . دماغ سے . اور یہ دماغ کس نے بنایا . کیا انسان دماغ بنا سکا . پھر کیوں نہ اسی خالق کی بات کو مان لیا جائے.
ازاد ھاشمی
9 مئی 2017

No comments:

Post a Comment