Sunday, 6 May 2018

طاوس و رباب آخر

" طاوس و رباب آخر "
علامہ اقبال نے فرمایا
آ تجھ کو بتاوں کہ تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، طاوس رباب آخر

وہی قومیں زندہ رہتی ہیں ، جو اپنی روایات کو زندہ رکھتی ہیں ، جو اپنی تہذیب سے پیار کرتی ہیں ۔ جن کو اپنے اسلاف یاد رہتے ہیں ۔ ہم مسلمان ، اللہ کی وحدانیت کو ماننے والے ، اللہ کی کتاب کے پڑھنے والے ، اللہ کے حبیبؐ کی امت کہلانے والے ۔ ان اسلاف کی نسلیں جن کے ایمان اور شجاعت کے سامنے قیصر و کسری جیسے طاقتور حکمران بھی لرزتے تھے ۔ جن کا کردار اپنا کر آج دنیا کی کئی قومیں ترقی کے زینوں پر چڑھ رہی ہیں ۔
ہم رسوائی کی ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں کہ ہر لمحہ دھنستے جا رہے ہیں ۔ لہو ولعب ، رقص و سرود ، خمار و مستی اور شراب و شباب ، ہماری شان و شوکت کی پہچان بنتی جا رہی ہے ۔ مستور رہنا جن کی شان تھی ، وقار تھا اور تہذیب تھی ۔ وہ گھروں سے نکل کھڑی ہوئیں ، یورپ کی تقلید نے سر سے شرم کی چادر اتروا دی اور اب ہزاروں کے جلسوں میں ناچنا عام سا فعل بن گیا ۔ اختلاط عام سی بات ہو گئی بلکہ فیشن کا حصہ بن گیا ۔ کیسے ممکن کہ جب دریا موجزن ہو جائے تو لہریں ایک دوسرے میں گم نہ ہوں ۔ کیسے ممکن کہ شب و روز ایک ہلچل میں رہنے والے برائی سے بچے رہیں ۔ پہلے اسے آوارہ گردی کہا جاتا تھا ۔ باپ ، بھائی دیوار ہوتے تھے ۔ اب باپ بھائی ساتھ ناچنے لگے ہیں ۔ اس مزاج کو کچھ سیاسی رہنماوں  نے مہمیز کیا ہے ۔ وہ سیاسی جلسے جو کبھی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوتے تھے ، جہاں نعت رسولؐ پڑھی جایا کرتی تھی ۔ جہاں بات بات پہ اللہ سے مدد مانگی جاتی تھی ۔ اب مزاج بدل گیا ۔ ہم اپنی حریت کیوجہ سے زندہ تھے ، سرخرو تھے ۔ ہم سے طاقتور دشمن بھی آنکھیں ملانے سے گریزاں تھا ۔ اب ہمیں کمزور سے کمزور دشمن بھی آنکھیں دکھاتا ہے ۔ محض اسلئے کہ ہم نے شمشیر و سناں کو زنگ آلود کر ڈالا اور طاوس و رباب پر نقش و نگار بنا لئے ۔ ہم نے اپنی گردنوں میں سیاسی غلامی کے " پٹے " ڈال لئے ۔ اب نچانے والے قائدین بن گئے تو پوری قوم ناچنے لگ پڑی ۔ جوبن ناچتے ہیں اور دلال ڈھول بجاتے ہیں ۔ یہ ہوئی ہماری سیاست ۔ تباہی پورا منہ کھولے کھڑی ہے اور ہم بے خبر ہیں ۔ جلسے دوشیزاوں کے ٹھمکوں سے گرمائے جاتے ہیں اور پھر قائدین دو چار قرآن کے لفظ بول کر دعوے کرنے لگتے ہیں ۔
الحفیظ الاماں ۔
آزاد ھاشمی
٥ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment