Monday, 7 May 2018

سورہ فاتحہ اور ہم

" سورہ فاتحہ اور ہم "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔
" اور ہم نے تمہیں سات ایسی آیات دے رکھی ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں ۔ اور قرآن عظیم عطا کیا "
سورہ الحجر ٨٧
جو لوگ نماز پڑھتے ہیں ، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ لازم ہے ۔ ویسے بھی عام طور پر اس سورہ کی تلاوت ہوتی رہتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی شان میں ذکر فرما کر اہمیت کو اور بھی بلند فرما دیا ۔ ہم کیا پڑھتے ہیں جو اللہ کو اسقدر اچھا لگتا ہے ۔ ہم کہتے ہیں ۔
" تمام حقیقی تعریفیں تمام جہانوں کے رب کیلئے ہیں ۔ جو رحمٰن بھی ہے اور رحیم بھی ۔ روز جزا کا کلی مالک و مختار ہے ۔ " اللہ کی اس جامع تعریف کے بعد ہم کچھ مانگتے ہیں ۔ اور جو کچھ بھی مانگتے ہیں وہ اجتماعی التجا ہے ، انفرادی نہیں ۔ ہم کہتے ہیں ۔
" ایاک نعبدو و ایاک نستعین " ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے  مدد  مانگتے ہیں ، تعاون مانگتے ہیں  ۔ یہ اجتماعی دعا ہے ۔ صرف میرے لئے نہیں بلکہ ہر اس بندے کیلئے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے ، اس کیلئے مدد کی درخواست ہے ۔ وہ مدد جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں ، وہ کیا ہے ۔
" اھدنا الصراط المستقیم ۔  صراط الذین انعمت علیھم ۔ غیر المغضوب علیھم والضالین "
ہم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم سب کو ، تمام معاشرے کے افراد کو جو تیری عبادت کرتے ہیں ، تیرا عبد ہونے کا عملی اظہار کرتے ہیں ، ان سب کو سیدھے راستے کی ہدایت دے ، سب کو سیدھا راستہ دکھا دے ۔ کونسا سیدھا راستہ جو تیرے ان بندوں کا راستہ تھا جن پر تیری رحمتیں اور انعام ہوتے رہے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سیدھی  راہ پر اگر معاشرہ چلنا شروع کرے تو اللہ کے دین کا اصل حسن سامنے آتا ہے ۔ اسی لئے یہ دعا فرد واحد کی اپنی ذات تک محدود نہیں ، بلکہ " ہم " کے لفظ سے اجتماعی دعا ہے ۔
اللہ پاک کے انعام یافتہ کی راہ ، ہر برائی ، عناد ، رعونت اور بغض سے پاک ہوتی ہے ۔ انکی راہ ، باہمی احساس ، ہمدردی ، بردباری ، یگانگت , شیطنت سے بیزاری اور امن ہوتی ہے ۔ ہم اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ ہمیں گمراہوں اور جن پر تیرا غضب ہوا ، انکی راہ سے بچا لینا ۔
اصل دعا اجتماع کیلئے ہے ، پورے معاشرے کیلئے ہے ، ہر اس شخص کیلئے ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے ۔کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں مانگی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے ۔ یہی ہم سورہ فاتحہ میں کرتے ہیں ۔ اب چونکہ سمجھ کر نہیں کرتے اسلئیے نہ خشوع آتا ہے اور نہ اثر دکھائی دیتا ہے ۔ اگر ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر سمجھ کر کہیں گے تو دعا کا انداز تبدیل ہو جائے گا اور قبولیت پا لے گا ۔ جب قبولیت پا لے گا تو اللہ کی مدد سب کو ملے گی ۔  معاشرہ ہدایت کہ راہ اختیار کر لے گا ۔
آزاد ھاشمی
٧ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment