Thursday, 10 August 2017

اباجی کے نوکر

" اباجی کے نوکر "
نظام حکومت کو پٹڑی پر رکھنے کیلئے اداروں کی تشکیل دی جاتی ہے . ان اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں عوام کو دینا پڑتی ہیں , انکے عشوے عوام   پورے کرتے ہیں ,  جس حکومتی خزانوں  سے یہ ادائیگی ہوتی ہے , وہ حکومتی خزانے عوام کی جیبیں کاٹ کر بھرے جاتے ہیں .
مگر یہ تمام ملازمین سیاسی پنڈتوں کی خدمت پر اسطرح جٹے رہتے ہیں , جیسے ان سیاسی مداریوں کے " کمی کمین " ہوں . جیسے اباجی کے نوکر ہوں اور اولاد کو پورا حق ہو کہ جیسے چاہے خدمت لے , جیسے پرانے زمانے کے غلام ہوں کہ آقا کی ایک جنبش نظر پر قربان ہو جانا , حق غلامی ہے .
خرابی مقتدر سیاستدانوں کی ہی نہیں , ان تمام اداروں کے ملازمین کی ہے , جو ملک کی خدمت کو ثانوی رکھتے ہیں اور آقاوں کی غلامی کو اولیت دیتے ہیں . یہ  بڑے بڑے رعب و داب والے افسران , ان مقتدر لوگوں کے آگے ہاتھ باندھے یوں کھڑے نظر آتے ہیں , جیسے چور تھانیدار کے سامنے . معیوب سی بات نہ ہو تو شاید مناسب ترین لفظ ہے " دم دبا کر کھڑے ہوتے ہیں " 
کوئی تو ہو جو یہ سمجھ لے کہ یہ وطن ان سیاستدانوں کے باپ کی جاگیر نہیں , یہ میرا بھی وطن ہے اور تیرا بھی . وطن کی  چاکری فرض  ہے  , سیاستدانوں کی نہیں . یہ میری اور تیری دھرتی ماں ہے . اسکی کھوکھ سے میں بھی زندگی پاتا ہوں تو بھی . ان سیاسی لوگوں کی خوشی اور  مقاصد کے لئے وطن کو بھول جانا , دھرتی ماں سے سرکشی ہے , جرم ہے , گناہ ہے .
یہ بات میں ان تمام ابا جی کے نوکروں سے کر رہا ہوں , جو اپنے فرائض سے زیادہ " صاحب کی غلامی " کو اہمیت دیتے ہیں . یہ کمشنر , پولیس کے افسران , عدلیہ کے عادل اور انتظامیہ کے بڑے بڑے جاہ و حشمت والے لوگ جاگ گئے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے . اے کاش ! انکو اپنے حلف سے وفا کی عادت پڑ جائے , تو سب ٹھیک ہو جائے گا . اے کاش ! ابا جی کے نوکر وطن کے نوکر ہو جائیں . دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ ان اباجی کے نوکروں کو یہ پیغام پہنچا دیں , شاید دو چار , آٹھ دس اور سو دو سو ہوتے ہوتے سب ایک ہو جائیں .
آزاد ہاشمی  

شان علی

حضرت علی کی ایسی شان جو لوگوں سے ہضم نہیں ہوتی
نبی پاک ؐ نے حضرت علیؑ کے بارے میں فرمایا:
اے علی !
تیرا خون میرا خون ہے،
تیرا گوشت میرا گوشت ہے،
تیرا جسم میرا جسم ہے،
تیرے بال میرے بال ہیں ،
تیری اولاد میرے اولاد ہے،
تیرا دادا اور میرا دادا ایک ہے،
تیری اور میری نسل ایک ہے،
تیرا اور میرا نور ایک ہے،
فصائل علی۴ با زبان رسول اللہ (ص):
1) رسول اللہ نے فرمایا جس نے علی کی مدد کی اس نے میری مدد کی.
2) رسول اللہ نے فرمایا علی کا حق اس امت پر ایسا ہے جیسا باپ کا بیٹے پر.
3) رسول اللہ نے فرمایا علی سے محبت نہیں کرے گا سوائے مومن کہ اور شک نہیں کرے گا سوائے منافق کہ.
4) رسول اللہ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں.
5) رسول اللہ نے فرمایا علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے.
6) رسول اللہ نے فرمایا علی کا ذکر کرنا عبادت ہے.
7) رسول اللہ نے فرمایا علی کی محبت گنہاؤں کو ایسے کہا جاتی جیسے آگ لکڑی کو.
8) رسول اللہ نے فرمایا علی کی مثال اس امت میں ایسی ہے جیسے قرآن میں قل هو الله احد.
9) رسول اللہ نے فرمایا میرا قرض علی ادا کرنے والے ہیں.
10) رسول اللہ نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی مولا ہے.
11) رسول اللہ نے فرمایا حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہیں.
12) رسول اللہ نے فرمایا کیا تم میں سے اکثر کی نماز علی ہیں پس اگر علی نماز ہیں تو قبر میں نور ہوگا اور صراط پر نور ہوگا اور جنت میں نور ہوگا.
13) رسول اللہ نے فرمایا علی میرا سر ہیں اور میں دھڑ ہوں .
14) رسول اللہ نے فرمایا میں اور علی اس امت کے باپ ہیں.
15) رسول اللہ نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ.
16) رسول اللہ نے فرمایا علی امام المبين ہیں.
17) رسول اللہ نے فرمایا علی کا راستہ سیدھا راستہ ہے.
18) رسول اللہ نے فرمایا علی کا دشمن میرا دشمن اللہ کا دشمن.
19) رسول اللہ نے فرمایا اگر ایک طرف سارے بنی آدم ہوں اور دوسری طرف صرف علی ہوں تو علی ساتھ دینا.
20) رسول اللہ نے فرمایا میں (محمد) اور علی ایک ہی نور سے ہیں.
21) رسول اللہ نے فرمایا میں "برھان" ہوں اور علی "نور" ہیں.
22) رسول اللہ نے فرمایا علی جنت اور دوزخ کے تقسیم کرنے والے ہیں.
23) رسول اللہ نے فرمایا علی دنیا اور آخرت میں میرا بھائی ہے
24) رسول اللہ نے فرمایا علی کی محبت زانی کے دل میں جمع نہیں ہوسکتی.
25) رسول اللہ نے فرمایا علی سے محبت نہیں کرے گا سوائے مومن کہ اور حسین سے مومن و منافق دونوں محبت کریں گے.
26) رسول اللہ نے فرمایا علی ہدایت کا چراغ ہیں.
27) رسول اللہ نے فرمایا اے علی آپ کو مجھ سے منزلت ایسی ہے جیسے ہارون کو موسی سے.
28) رسول اللہ نے فرمایا اے علی آپ بمنزل کعبہ ہیں.
29) رسول اللہ نے فرمایااے علی آپ دنیا اور آخرت میں سردار ہیں.
30) رسول اللہ نے فرمایا اے علی تیرا محب میرا محب ہے اور تیرا دشمن میرا دشمن ہے.
31) رسول اللہ نے فرمایا علی کا گوشت میرا گوشت ہے اور اسکا خون میرا خون ہے.
32) رسول اللہ نے فرمایا علی کو گالیاں مت دو کہ وہ اللہ کی زات سے مس ہوا ہے.
33) رسول اللہ نے فرمایا جس کا میں ولی اس کا علی ولی ہیں.
34) رسول اللہ نے فرمایاعلی قیامت کے دن میرے حوض کے مالک ہیں.
35) رسول اللہ نے فرمایا علی کی محبت نیکی ہے اس کے ساتھ تم کو کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا.
36) رسول اللہ نے فرمایا علی کی محبت نفاق سے دور رکھتی ہے
37) رسول اللہ نے فرمایا علی عرب کے سردار ہیں
38) رسول اللہ نے فرمایا میں اور علی ایک درخت سے ہیں باقی انسان مختلف درختوں سے ہیں
39) رسول اللہ نے فرمایا میرے بعد علی میری امت کے عالم ہیں
40) رسول اللہ نے فرمایا علی میرے علم کی تجوری ہیں
41) رسول اللہ نے فرمایا علی میرے رازدار ہیں
43) رسول اللہ نے فرمایا علی کا گوشہ گوشہ ایمان سے بھرا ہوا ہے
44) رسول اللہ نے فرمایا جس نے علی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی