Saturday, 25 August 2018

کیا انتخابات ابھی جاری ہیں؟

" کیا انتخابات ابھی جاری ہیں ؟ "
یہ سوال اسلئے کیا ہے کہ ابھی تک احمقوں کی دنیا میں وہی کھلبلی ہے جو انتخابات سے پہلے تھی ۔ ویسی ہی بے سروپا اور کردار کشی والی پوسٹ لگائی جا رہی ہیں ۔ جن سے ووٹروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوا جاتا ہے ۔ عمران خان سے دشمنی کرنے والے ، عمران خان سے جنگ جاری رکھیں ۔ مسلم لیگ کے دشمن مسلم لیگ قیادت کو نشانہ بناتے رہیں ، جماعت والے بھی حسب عادت اسلام پھیلاتے رہیں ۔ مگر ان سب کی حدود متعین کر لیں ۔ عمران خان کی بہترین دشمنی یہ ہے کہ اسے وطن کے مفادات کے خلاف ایک قدم نہ اٹھانے دیا جائے ۔ جہاں وہ ایسا کرنے لگے اسکے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں ۔ مسلم لیگ نے جرم کیا ہے اسے قانون کے مطابق دیکھا جائے ، سیاسی انتقام نہ لیا جائے ۔ جماعت جہاں اسلامی نظام کے دائرے سے نکلنے لگے اسے روکا جائے ، وغیرہ وغیرہ ۔
خدارا ! جو ملک کے مفاد میں کچھ بہتر ہوتا نظر آئے ، اس کو شکوک و شبہات کیطرف مت دھکیلا جائے ۔ یاد رہے کہ عمران یہودی ہے یا مسلمان ، صرف یہ دیکھیں کہ وہ جو کر رہا ہے اس سے یہودیت کو فروغ مل رہا ہے یا اسلام کو ۔ وہ نشہ باز ہے ، صرف یہ دیکھیں کہ وہ نشہ باز ہونے والے کام کرتا ہے یا ہوش و حواس والے ۔ بھٹو نے کہا تھا " شراب پیتا ہوں ، کسی کا خون نہیں " اسے تو " امر " کر دیا گیا ۔ عمران خان نے تو اعلان نہیں کیا کہ نشہ کرتا ہوں ، اس پر تو ثبوت نہ ہونے تک الزام ہے ۔ کیا ان سب کاوشوں سے وہ وزیراعظم کی کرسی سے الگ کیا جا سکے گا ؟ اس ساری تحریک کے فعال کارکن ، بد گمانی پھیلا کر قوم کو گمراہی کیطرف دھکیل رہے ہیں ۔ جو گذشتہ حکومتوں نے برائی کی ، اب اس پر کیچڑ اچھالنے سے کیا حاصل ہو گا ۔ ایک قوم بن کر جو اچھا فعل ہے اسکی پذیرائی کرنی چاہئیے ، جو برا ہے اس سے اجتناب کرنا چاہئیے ۔ یہ سیاسی پارٹیاں ، یہ سیاسی قائدین کسی کے نہیں ہوتے ۔ اپنے آپ کو ان سے منسوب کر لینا تہذیب کے منافی ہے ۔ معیار اچھائی اور برائی ہوتا ہے ۔ ایک مہذب آدمی کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اچھائی کے ساتھ کھڑا ہو گا یا برائی کے ساتھ ۔ ایک محب وطن کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کونسا کردار وطن کے مفاد میں ہے اور کونسا وطن کے منافی ۔ یوں قومیں بنتی ہیں ۔ یوں اچھے لوگ آگے آتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں ۔
بے شعور پوسٹ پر واہ واہ کرنے سے ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی ۔ ہمیں ہر اس محقق کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے جو فساد کیطرف کھینچ رہا ہے ۔ اللہ نے جو شعور دیا ہے ، اس کو استعمال کرنا چاہئے کہ کیا غلط ہو رہا ہے اور کیا صحیح ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اگست ٢٠١٨

ذالحجہ کا چاند

" ذالحجہ کا چاند "
ذالحجہ کا چاند حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جگر گوشہ کی قربانی مانگنے کا چاند طلوع ہوا ۔ ابراہیم علیہ السلام کی استقامت کا امتحان مقصود تھا ۔ اللہ کی رضا پر اپنے جگر گوشہ کی گردن پر چھری رکھنے کا کٹھن امتحان ۔ اس پر اللہ کے خلیل کا لبیک کہنا ، ہی مطلوب تھا ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان لینا مقصد نہیں تھا ۔
آج اسی  " لبیک " کی یاد پر ، اسی سنت کی ادائیگی کے جذبے سے ہم  اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں ۔ دنیا کے کونے کونے سے لبیک لبیک کہتے ہوئے ، اللہ کے گھر کی طرف محو سفر ہوتے ہیں ۔
اب یہ لبیک سنت کی ادائیگی تک محدود ہو گیا ہے ۔
لبیک اصل میں اللہ کی اطاعت ،  بغیر کسی تمہید و تفصیل کے ، ہر حکم پر لبیک ہے ۔ جو اللہ نے فرمایا لبیک ۔ جو اللہ چاہتا ہے لبیک ۔ صرف لبیک ۔ کوئی سوال ، کوئی عذر کچھ قبول نہیں ۔ صرف لبیک ۔
آئیے ! اب جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارا لبیک اللہ کی رضا سے کتنا قریب ہے ۔ ہم نے کتنے حکم مانے اور کتنے ضروری نہیں سمجھے ۔
لبیک زبان سے کہے ہوئے دو لفظ نہیں ، لبیک دل سے ماننے اور عمل کر دکھانے کا نام ہے ۔ گائے ، اونٹ ، بکری ، بھیڑ کی قربانی کر دینے سے " لبیک " نہیں ہو جاتا ۔ اللہ کی راہ میں ہر متاع عزیز ، جب بھی لازم ہو جائے قربان کر دینا " لبیک " ہے ۔
عمل سے کہا ہوا ہر لبیک قبولیت کی ضمانت ہے ۔ اور ہر ہر لبیک پر انعامات دینا اللہ کا وعدہ ہے ۔  ابراہیم علیہ السلام نے لبیک کہا ، اسمعیل علیہ السلام نے لبیک کہا ، اللہ نے انکی سلب میں کتنے انبیاء رکھ دئیے  ۔ رحمتوں کا شمار نہیں جو ابراہیم علیہ السلام پر ہوئیں ۔
ایک ایسا ہی لبیک آل محمد صل اللہ علیہ وسلم سے حسین علیہ السلام نے کہا ۔ اسی ذالحجہ کے چاند پر ۔ آج رحمتوں کا شمار نہیں ۔ عبادت نہیں ہوتی جب تک آل ابراہیم  ع پر اور آل محمد ص پر درود نہ بھیج لیں ۔
ازاد ھاشمی
24 اگست 2017

جی صاحب

" جی صاحب "
ہم نے سکول اور کالج کا زمانہ ایک ساتھ گزارہ ، شہر میں بھی گپ شپ ہوا کرتی تھی ۔ ہمارے دوستوں میں " جی صاحب " واحد تھے جو کسی نہ کسی سے پنگا لئے رکھتے تھے ۔ شرارتوں میں اسکا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ بھلا سا نام تھا ، یہاں ذکر مناسب نہیں ۔ شادی سے پہلے تک اسکا اصلی نام ہی مروج تھا ۔ پھر ایک نیا نام شہر کے بچے بچے کی زبان پر آگیا ۔ جس سے وہ چڑنے لگا تھا ۔ کسی کو خبر بھی نہیں تھی کہ وہ " جی صاحب " کہنے پہ اتنا تلملا کیوں جاتا ہے ۔ وقت گذرتا رہا اور " جی صاحب " دوستوں سے کٹنے لگا ۔ ایک بڑا افسر بھی بن گیا ، دوستوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ عہدے نے اسکا دماغ چھت پہ چڑھا دیا ہے ۔ اب دوست بھی اسکی پرواہ کرنا چھوڑ گئے ۔ مگر کوئی بھی با خبر نہیں تھا کہ معمہ کیا ہے ۔ ایک وجہ یہ بھی تھی شاید کہ اسکی بیوی بھی ایک بڑی افسر تھی اور تھی بھی بڑے گھر سے ۔ یقین کر لیا گیا تھا کہ بس تکبر نے اسے دوستوں سے دور کر لیا ۔ آخر بچپن اور لڑکپن کی دوستی نے سب کو زچ کر دیا کہ اس  سے اس بے اعتناعی سبب معلوم کریں ۔ سب اسکے گھر پہ ایک ایک کر کے جمع ہوگئے ۔ اس نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ نہ متکبر ہے اور نہ دوستوں سے بیزار ۔ اس کا مرض " جی صاحب " کا لفظ ہے ۔ سب نے وعدہ کر لیا کہ اب کبھی اسے " جی صاحب " نہیں کہیں گے ۔ اسکا اصلی نام ہی پکاریں گے ۔ گپ شپ جاری تھی کہ آواز آئی ۔ شاید افسر بھابھی کی ہی تھی ۔ آواز میں دبدبہ سا تھا ۔  ہمارے دوست کے منہ سے اچانک ، بے خیالی میں نکلا ۔
" جی صاحب "
اب جی صاحب کی اصلیت کھل گئی ۔ کہ محترم بھابھی کو " جی صاحب " کہتے ہیں ۔ خود " جی صاحب " نہیں ہیں ۔ اسلئے اس نام سے چڑتے ہیں ۔ ایک اور مژدہ کھلا کہ اب گھر کے نوکر بھی " صاحب بہادر " کی تقلید کرتے ہیں اور سب بیگم صاحبہ کی بجائے ، بھابھی محترمہ کو " جی صاحب " ہی کہتے ہیں ۔ اور موصوف کو صرف " جی " تک محدود کر دیا گیا ہے ۔  یہ واقعی چڑنے کی بات تو تھی ۔ اب بیچارے
" جی صاحب " کو شہر ہی چھوڑنا پڑے گا ۔ کیونکہ بچپن کے دوست بہت بھلے نہیں ہوتے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اگست ٢٠١٨

کیا ہم حب نبیؐ سے سرشار ہیں ؟

" کیا ہم حب نبیؐ سے سرشار ہیں؟ "
ختم نبوت ، ناموس رسالت اور حب نبیؐ کی باتیں سننے والے اور کہنے والے یقینی طور پر قابل تحسین ہے ۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر یہ سرشاری ہو کہ ہم اپنے ہادی و رہبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کو اپنی جان ، اپنے مال ، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے زیادہ اہمیت دیں ۔ یہ ایمان ہے کہ آپؐ سے دشمنی اور کینہ رکھنے والے سے دشمنی اور کینہ رکھیں ۔اور یہ ایمان کا بہتر درجہ ہے ۔ آپ سے دشمنی اور کینہ رکھنے والے کے ہاتھ اور زبان کو طاقت سے روکیں ، یہ ایمان کا اعلٰی درجہ ہے ۔ اب اپنا اپنا احتساب کرتے ہیں کہ ہم ایمان کے کس درجے پر کھڑے ہیں ۔ ہالینڈ کے ایک سیاستدان نے آپؐ کی تضحیک کیلئے بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے ، جس میں آپ پر خاکے یعنی کارٹون بنائے جائیں گے ۔ یہ ملک ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ انہیں زعم اسلئے ہے کہ انہوں نے اپنی جڑیں ہمارے اندر گاڑھ رکھی ہیں ۔ معاشی خوشحالی انہیں ایسی قبیح حرکات پر اکساتی رہتی ہے ۔  اور نبی پاکؐ کی محبت کا دعوی کرنے والے کروڑوں مسلمان انکی تجارت کو فروغ دیتے ہیں ۔ انکی سینکڑوں مصنوعات ہمارے روز مرہ ضروریات کا حصہ ہیں ۔ اب اگر مسلمان انکی ایک ایک پروڈکٹ کو استعمال کرنا چھوڑ دیں تو انکی معیشت ایک ہفتے میں زمین پر آ جاتی ہے ۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے ۔ ہم نے اس خاکوں کے اعلان کے بعد صرف "بد دعائیں " کی ہیں ۔ مگر انکی مصنوعات کے استعمال کو نہ خود چھوڑا ہے اور نہ دوسرے مسلمانوں کو ترغیب دی ہے ۔ اگر ایک یونی لیور ، ایک شیل پیٹرولیم ، ایک فلپس کو چھوڑ دیا جائے تو کیا ہمارے پاس دوسرے متبادل نہیں تھے کہ ہم  نے بحیثیت قوم مصلحت اندیشی کر رکھی ہے ۔ ان تین بڑی کمپنیوں کا اربوں ڈالر کا روز کا کاروبار جب صفر پر آجاتا تو پوری ہالینڈ قوم بلبلا اٹھتی ۔ مگر مسلمان صرف نعرے لگا کر ایمان کا اظہار کرنے کو ایمان کی معراج سمجھے بیٹھے ہیں ۔ آپس میں کافر کافر کرکے سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اللہ کو راضی کر لیا ۔ اور ایمان کا حق ادا کیا ۔ میرے جیسے کتنے مسلمان ہیں جنہوں نے ایک بار بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ۔ اگر کوئی دوکاندار میرے یا آپکے ماں باپ کی توہین کر دیتا ہے تو ہم اپنی نسلوں کو منع کر دیتے ہیں کہ اس دوکان سے کبھی کچھ نہیں خریدنا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم رسول کریم ؐ کی توہین کرنے والے دوکاندار کا مقاطعہ کرنے پر تذبذب کا شکار ہیں ۔ سرشاری عمل کا تقاضا کرتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اگست ٢٠١٨

Friday, 24 August 2018

کیا ہم حب نبیؐ سے سرشار ہیں ؟

" کیا ہم حب نبیؐ سے سرشار ہیں؟ "
ختم نبوت ، ناموس رسالت اور حب نبیؐ کی باتیں سننے والے اور کہنے والے یقینی طور پر قابل تحسین ہے ۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر یہ سرشاری ہو کہ ہم اپنے ہادی و رہبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کو اپنی جان ، اپنے مال ، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے زیادہ اہمیت دیں ۔ یہ ایمان ہے کہ آپؐ سے دشمنی اور کینہ رکھنے والے سے دشمنی اور کینہ رکھیں ۔اور یہ ایمان کا بہتر درجہ ہے ۔ آپ سے دشمنی اور کینہ رکھنے والے کے ہاتھ اور زبان کو طاقت سے روکیں ، یہ ایمان کا اعلٰی درجہ ہے ۔ اب اپنا اپنا احتساب کرتے ہیں کہ ہم ایمان کے کس درجے پر کھڑے ہیں ۔ ہالینڈ کے ایک سیاستدان نے آپؐ کی تضحیک کیلئے بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے ، جس میں آپ پر خاکے یعنی کارٹون بنائے جائیں گے ۔ یہ ملک ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ انہیں زعم اسلئے ہے کہ انہوں نے اپنی جڑیں ہمارے اندر گاڑھ رکھی ہیں ۔ معاشی خوشحالی انہیں ایسی قبیح حرکات پر اکساتی رہتی ہے ۔  اور نبی پاکؐ کی محبت کا دعوی کرنے والے کروڑوں مسلمان انکی تجارت کو فروغ دیتے ہیں ۔ انکی سینکڑوں مصنوعات ہمارے روز مرہ ضروریات کا حصہ ہیں ۔ اب اگر مسلمان انکی ایک ایک پروڈکٹ کو استعمال کرنا چھوڑ دیں تو انکی معیشت ایک ہفتے میں زمین پر آ جاتی ہے ۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے ۔ ہم نے اس خاکوں کے اعلان کے بعد صرف "بد دعائیں " کی ہیں ۔ مگر انکی مصنوعات کے استعمال کو نہ خود چھوڑا ہے اور نہ دوسرے مسلمانوں کو ترغیب دی ہے ۔ اگر ایک یونی لیور ، ایک شیل پیٹرولیم ، ایک فلپس کو چھوڑ دیا جائے تو کیا ہمارے پاس دوسرے متبادل نہیں تھے کہ ہم  نے بحیثیت قوم مصلحت اندیشی کر رکھی ہے ۔ ان تین بڑی کمپنیوں کا اربوں ڈالر کا روز کا کاروبار جب صفر پر آجاتا تو پوری ہالینڈ قوم بلبلا اٹھتی ۔ مگر مسلمان صرف نعرے لگا کر ایمان کا اظہار کرنے کو ایمان کی معراج سمجھے بیٹھے ہیں ۔ آپس میں کافر کافر کرکے سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اللہ کو راضی کر لیا ۔ اور ایمان کا حق ادا کیا ۔ میرے جیسے کتنے مسلمان ہیں جنہوں نے ایک بار بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ۔ اگر کوئی دوکاندار میرے یا آپکے ماں باپ کی توہین کر دیتا ہے تو ہم اپنی نسلوں کو منع کر دیتے ہیں کہ اس دوکان سے کبھی کچھ نہیں خریدنا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم رسول کریم ؐ کی توہین کرنے والے دوکاندار کا مقاطعہ کرنے پر تذبذب کا شکار ہیں ۔ سرشاری عمل کا تقاضا کرتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اگست ٢٠١٨

سنت ابراہیمی اور ہم

" سنت ابراہیمیؑ اور ہم "
اللہ تبارک تعالیٰ کا اشارہ ہوا کہ اپنی عزیز ترین شے اللہ کی راہ میں قربان کرو ۔ تاریخی تفصیل تو ہر مسلمان کو معلوم ہے ۔ بیٹے سے اپنی خواب کہی ۔ بیٹے کی گھٹی میں اطاعت بھری تھی ۔ باپ اور بیٹے کو صرف رضائے الہٰی کی تمنا تھی ۔ رسی اور چھری لئے ، ایک بیٹے کی قربانی کیلئے محو سفر ہے اور دوسرا قربان ہونے کیلئے ۔ دونوں کے سامنے اطاعت ربی ہے اور رضائے الٰہی ۔ گردن کٹوانے کیلئے لیٹ جانا اور گردن کاٹنے کیلئے چھری کو پکڑ لینا ، باپ اور بیٹے کیلئے کڑا امتحان تھا ۔ اللہ کے خلیلؑ نے چھری دکھائی نہیں بلکہ بیٹے کی گردن پر چلا دی ۔ اللہ نے بیٹے کو چھری کے نیچے سے خود ہٹایا ، بیٹا چھری کے نیچے سے ہٹا نہیں ۔ دنبا ذبح ہوا اور آج یہ سنت ابراہیمی ہے ۔ جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ حج کیلئے اس سنت کا پورا کرنا واجب ہے ۔  ہمیں اس سنت کا ادراک اس حد تک ہے کہ ہم بھولتے نہیں ۔ صاحب نصاب ہوں یا نہ ہوں قربانی کا انتظام ضرور کرتے ہیں ۔ رشوت لینے والا رشوت کے پیسے سے بھی قربانی کرتا ہے ۔ قرضہ لیکر بھی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ وہ پیغام جو اس فریضہ کے پیچھے ہے شاید بہت کم لوگوں کو یاد رہا ۔ اللہ کی رضا ہے کہ اپنی بہترین شے اللہ کی راہ میں قربان کی جائے ۔ ہم تو گوشت بانٹتے وقت بھی تعلقات اور رشتے مضبوط کرتے ہیں ۔ جس سے جتنی قربت ہے اسے اتنا بہتر حصہ دیتے ہیں ۔ اللہ کے وہ بندے جو مستحق ہیں انکو بچا کھچا گوشت بھی دھتکار کر دیا جاتا ہے ۔ اللہ کی رضا ہے کہ کسی عبادت میں ، اسکے کسی حکم کی ادائیگی میں " دکھاوا " نہ ہو ۔ ہم نے قربانی کو ایک اسٹیٹس بنا کے رکھ دیا ۔ ایک شخص پر ایک قربانی واجب ہے ، وہ بھی زندگی میں ایک بار ، باقی نوافل ہیں ۔ ہم کئی کئی جانور قربان کر ڈالتے ہیں ۔ جن کی ادائیگی پر کوئی حرج نہیں ۔ اگر اطاعت اور رضائے ربی کیلئے ہے تو احسن اور اگر دکھاوا ہے تو ضیاع ۔ ہم نے یہ چیز بھلا دی کہ رب کی رضا حاصل کرنا اصل مقصدیت ہے ۔ جیسے بھی ہو ۔ اللہ کیسے راضی ہے ؟ اس طرف نہ ہم سوچتے ہیں اور نہ ہمیں خبر ہے ۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ قربانی کا جانور ہمیں پل صراط جیسا مشکل سفر پار کرائے گا ۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ پل صراط وہی پار کرے گا ، جس سے " مالک یوم الدین " راضی ہو گا ۔ جو اسکی اطاعت کرتا ہوگا ۔ مالک یوم الدین اسی سے راضی ہوگا ، جس سے اسکے بندے راضی ہونگے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤  اگست ٢٠١٨

Thursday, 23 August 2018

قوم کی تقسیم در تقسیم

" قوم کی تقسیم در تقسیم "
جب پاکستان کی تحریک شروع تھی تو بنیاد دو قومی نظریہ تھا ۔ ہندو اور مسلمان ۔ ہم پاکستان کو مسلمانوں کا وطن اور اسلامی طرز حکومت کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے ۔ یہ سوچ اسقدر مضبوط تھی کہ انگریز کو وطن چھوڑنا پڑا ۔ جیسے پاکستان بنا تو دو حصے تھے ، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ۔ جس رسی سے دونوں حصے بندھے ہوئے تھے ، وہ اسلام ہی تھا ۔ اسلام کو مسالک میں تقسیم کرنے میں علماء اور مدارس کا مضبوط کردار تھا ۔ جوڑنے والی رسی ایک ایک ریشہ کر کے ٹوٹتی رہی ۔ اب یکجہتی کا رشتہ پاکستان تھا ۔ پاکستان زبانوں کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگا ۔ بنگالی ، بہاری ، پختون ، پنجابی ، بلوچ ، سندھی اور مہاجر حصے بن گئے ۔ سیاست کے میدان میں پرانے خاندان کود پڑے ، انہوں سیاسی بنیاد مفادات پر رکھ دی ۔ جس کو جس سے مفاد نظر آیا وہ اس سے جڑ گیا ۔ پھر ایک ایک پارٹی کئی کئی حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ یہ تقسیم اسقدر ہو گئی کہ اب پہچان نظریات نہیں ، شخصیات ہیں ۔ منشور کو جانے اور سمجھے بغیر شخصیت کی تقلید شروع ہوگئی ۔ آج حالت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی " بھٹو " کے نام پر قائم ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے مقلدین ہیں ۔ مسلم لیگ کا جو حال ہوا وہ سب سے زیادہ برا ہے ۔ کتنے سیاستدانوں کے نام پر مسلم لیگ کے گروہ قائم ہیں ۔ متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کی ہے ، تحریک انصاف اصل میں عمران خان ہے ۔ گویا قوم بھول گئی کہ سیاسی پارٹیاں نظریات کیوجہ سے ، منشور کی افادیت کی بناء پر ہوتی ہیں ۔ سیاسی کارکنوں کی پہچان بھی عجیب عجیب ہوگئی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ قوم بکھر گئی ، گروہ بن گئے اور اب ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ کوئی دانشور ، کوئی سیاستدان ، کوئی صحافی اور کوئی لیڈر یہ شعور دینے کا سوچتا بھی نہیں کہ ہم پہلے مسلمان بن کر سوچیں اور مسالک کی تقسیم کو ضمنی خیال کریں ۔ پھر پاکستانی بننے کیطرف رخ موڑ لیں ، لسانی اور علاقائی سوچ کو ضمنی درجہ دے دیں ۔ اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ قوم بھی بنی رہے گی اور قومی ترقی میں استحکام بھی آتا رہے گا ۔ سب زبانوں کو ، تمام کلچر کو ، تمام علاقوں کو ، تمام مسالک کو انکی حدود کے اندر صرف اتنی آزادی ہو کہ قومی مفادات مجروح نہ ہوں ۔ سیاسی پارٹیوں کو گالم گلوچ ، کردار کشی اور بد اخلاقی نہ کرنے کی پابندی ہو ۔ سیاسی قائدین قوم کو گمراہ کرنے کی بجائے ، اپنے اپنے مخالفین کے ساتھ مذاکرات سے حل کریں ۔ عوام کو سیاستدانوں میں یکجہتی نظر آئے گی تو قومیت کا تصور ، ہم آہنگی کی سوچ پروان چڑھے گی ۔ یہ ہے اصل ضرورت ۔  مثبت انداز فکر کی انحطاط نے ہمیں تقسیم در تقسیم کر دیا ہے ۔ اگر سیاستدان اس کو نظر انداز کریں تو با شعور شہریوں کو آگے آنا چاہئے ۔ فروعی اختلافات کو دفن کر کے اصولی معاملات کیطرف بڑھنا چاہئے ۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی وابستگیوں کو پس پشت ڈال کر قوم اور وطن کی ضرورت کو دیکھا جائے گا ۔ یہی حب الوطنی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اگست ٢٠١٨

آپ کی رائے کیا ہے ٹیکس یا زکوٰة

" آپ کی رائے کیا ہے ٹیکس یا زکوٰة؟ "
اسوقت ہر پاکستانی شہری ، قطع نظر کہ اسکے پاس زندہ رہنے کے وسائل ہیں یا نہیں ۔ اسکے پاس پہننے کو کپڑے ہیں یا نہیں ۔ وہ اپنے بچوں کی کفالت کے قابل ہے یا نہیں ، ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ سرمایہ دار ، صنعتکار اور تاجر جتنا ٹیکس دیتے ہیں ، اس پر بھی اپنا منافع جمع کرکے قیمت بڑھا دیتے ہیں ۔ یوں نہ سرمایہ کار ٹیکس دیتا ہے ، نہ تاجر ، نہ صنعتکار اور نہ ہی جاگیر دار ۔ یہ سارا بوجھ عام شہری پر ہے ۔ جمع در جمع ہونے والا یہ ٹیکس مجموعی طور پر پچاس فیصد سے زائد ہے ۔ معیشت دان تو اسے ستر فیصد بتاتے ہیں ۔ ٹیکس کے اس نظام  نے  ہماری مصنوعات کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ ہم بین الاقوامی منڈیوں سے باہر نکل گئے ہیں ۔
جن کے پاس سرمایہ ہے وہ اسے یا تو بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں ، یا ڈالر اور سونا خرید کے تجوریوں میں بھر لیتے ہیں ، یا جائیداد بنا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جس سے اندازہ کرنا ممکن ہی نہیں کہ ان پر کیسے اور کتنا ٹیکس وصول کیا جائے ۔ ایک دولتمند جس کا گھر ایک ارب سے زاید کا ہے ، جس  کے پاس منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے اربوں میں ہیں ، دو چار لاکھ روپیہ دے کر آسانی سے چھوٹ جاتا ہے ۔
اسکے متوازی اسلام کے ٹیکس کا نظام زکوٰة ، خمس اور عشر ہے ۔ زکوٰة اثاثہ جات پر اڑھائی فیصد ہے ۔ خمس  وسائل پر پانچواں حصہ ہے ۔(  اس پر تفصیل کیلئے فقہ موجود ہے ) اور عشر ۔ اگر زرعی پیداوار بارانی ہے   تو  دسواں حصہ ہے ۔  اور اگر بارانی نہیں تو بیسواں حصہ ۔
ہم یہاں زکوٰة ہی کو سامنے رکھیں  گے ۔ صرف ایک زکوٰة لاگو کر دینے سے مسائل من و عن پورے ہو جاتے ہیں دیگر ذرائع ضروریات سے اضافی ہو جائیں گے جو معاشی خوشحالی کی ضمانت ہے ۔
تو زکوٰة کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ اسوقت جو دولتمند دوچار لاکھ روپے دیکر چھوٹ جاتا ہے ، اسے اثاثہ جات کے حساب سے دینا پڑے گا جو کروڑوں میں چلا جائے گا ، یعنی سو گنا اضافہ ہو جائے گا ۔ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ جو اسوقت رحجان ہے کہ سرمایہ کو "  زر مردہ " بنا  دیا جاتا ہے ۔ ( زر مردہ ،  وہ سرمایہ جو تجوریوں میں بھر دیا جائے یا جس سے عمارات بنا لی جائیں،  معیشت کا حصہ نہیں بنتا ، کیونکہ وہ گردش سے الگ ہو جاتا ہے ) وہ سرمایہ  گردش  میں آجائے  گا اور " زندہ زر " میں تبدیل ہو جائے گا ۔ کیونکہ جو سرمایہ گردش میں ہے ، وہ زکوٰة سے مستثنی ہے ۔ دولتمند اس استثناء کیلئے جائیدادیں بنانے سے گریز کریں گے اور سرمایہ منجمد نہیں ہوگا ، سرمائے کے منجمد ہو جانے سے قرضے لینے کی مجبوری ہو جاتی ہے ۔ تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ اشیائے صرف پر قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ عام شہری پر بوجھ کم ہو جائے گا اور عام شہری جو اسوقت اصل ٹیکس ادا کرتا ہے ، اس بوجھ سے آزاد ہو جائے گا ۔ بین الاقوامی منڈی میں ارزاں نرخ ہونے کے باعث مارکیٹ اپنے حق میں ہو جائے گی ۔ جس سے یقینی طور پر زر مبادلہ آنے لگے گا ۔ عوام کو سوچنا ہوگا ، فیصلہ کرنا ہو گا اور اس پر اقدامات کیلئے تحریک پیدا کرنا ہو گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اگست ٢٠١٨

Wednesday, 22 August 2018

کوئی لیاقت بلوچ کی بھی سنے

" کوئی لیاقت بلوچ کی بھی سنے "
کچھ لوگوں پر بہت ترس آتا ہے کہ بیچارے ساری زندگی سیاست میں برباد کر کے بھی آخرت میں
" نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم "
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بیشمار کردار ہیں ، جو اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر جمہوری عبادت کرتے رہے ۔ بالآخر بیوفا عوام نے بھی انہیں
" کھڈے لائن " لگا دیا ۔ اب وہ بولتے رہتے ہیں اور کوئی سنتا ہی نہیں ۔ اللہ کیطرف انہوں نے توجہ نہیں کی ، اب اللہ انکی نہیں سن رہا ۔ بہت ٹکریں مارتے ہیں کہ شاید کوئی حکمرانی کی سیٹ مل جائے ۔ اگر نہ ملے تو درباری ہی بن جائیں ۔ اسوقت ایسے کرداروں میں انتہائی قابل توجہ شخصیات محترم جاوید ہاشمی ہیں اور دوسرے نمبر پر محترم لیاقت بلوچ ہیں ۔ پہلے یہ صاحبان بولتے تھے ، لوگ توجہ سے سنتے تھے ۔ اب بولتے ہیں تو لوگ سنتے بھی نہیں اور طرح طرح کے القاب بھی دیتے ہیں ۔ چلیں مخالف پارٹیوں کے لوگ تو بولا ہی کرتے ہیں ، اب انکی اپنی پارٹی کے لوگ بھی نہیں سنتے ۔ اقتدار کی " ھما " شاید اندھی بھی ہے ، بہری بھی اور گونگی بھی ۔ کہ کبھی ممنون حسین کے سر پہ جا بیٹھتی ہے ، کبھی چوہدری فضل الہیٰ اور شاید اب کے بار " علوی " صاحب کے سر بیٹھ جائے یا " چوہدری اعتزاز " کے سر پہ ۔ کمال تو یہ ہے کہ اتنے قد کاٹھ کے سیاستدانوں کو چھوڑ کر اگر " تونسہ " کا ایک گمنام " وزیر اعلیٰ " بن جائے تو ان کے دلوں میں " ہوک " تو اٹھے گی ۔ اب یہ درد ناک ہوک ، لیاقت بلوچ کے دل سے اٹھ رہی ہے ۔ موصوف بہت صبر کرتے ہیں کہ کچھ نہ بولیں ۔ جماعت والے بھی کہہ رہے ہیں کہ صاحب صبر کریں ۔ مگر وہ کسی نہ کسی سیاق و سباق میں سوشل میڈیا پہ اپنے دکھ کا اظہار کر ہی لیتے ہیں ۔ ساری زندگی ایک بھرم تھا کہ موصوف صاحب علم و شعور ہیں ۔ مذہب سے جڑے ہوئے ہیں ، اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے زندگی وقف کئے بیٹھے ہیں ۔ اب کے یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا ۔
کچھ بھی ہے ، عمر کے اس حصے میں لگی چوٹ بہت خطرناک ہوتی ہے ۔ قوم رحم کرے ، انکو اقتدار نہ سہی ، انکی باتوں پہ " واہ واہ " تو کرتی رہے ۔ تاکہ اگلا سفر تو سکون سے گذار لیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اگست ٢٠١٨