Saturday, 25 August 2018

کیا ہم حب نبیؐ سے سرشار ہیں ؟

" کیا ہم حب نبیؐ سے سرشار ہیں؟ "
ختم نبوت ، ناموس رسالت اور حب نبیؐ کی باتیں سننے والے اور کہنے والے یقینی طور پر قابل تحسین ہے ۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر یہ سرشاری ہو کہ ہم اپنے ہادی و رہبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کو اپنی جان ، اپنے مال ، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے زیادہ اہمیت دیں ۔ یہ ایمان ہے کہ آپؐ سے دشمنی اور کینہ رکھنے والے سے دشمنی اور کینہ رکھیں ۔اور یہ ایمان کا بہتر درجہ ہے ۔ آپ سے دشمنی اور کینہ رکھنے والے کے ہاتھ اور زبان کو طاقت سے روکیں ، یہ ایمان کا اعلٰی درجہ ہے ۔ اب اپنا اپنا احتساب کرتے ہیں کہ ہم ایمان کے کس درجے پر کھڑے ہیں ۔ ہالینڈ کے ایک سیاستدان نے آپؐ کی تضحیک کیلئے بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے ، جس میں آپ پر خاکے یعنی کارٹون بنائے جائیں گے ۔ یہ ملک ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ انہیں زعم اسلئے ہے کہ انہوں نے اپنی جڑیں ہمارے اندر گاڑھ رکھی ہیں ۔ معاشی خوشحالی انہیں ایسی قبیح حرکات پر اکساتی رہتی ہے ۔  اور نبی پاکؐ کی محبت کا دعوی کرنے والے کروڑوں مسلمان انکی تجارت کو فروغ دیتے ہیں ۔ انکی سینکڑوں مصنوعات ہمارے روز مرہ ضروریات کا حصہ ہیں ۔ اب اگر مسلمان انکی ایک ایک پروڈکٹ کو استعمال کرنا چھوڑ دیں تو انکی معیشت ایک ہفتے میں زمین پر آ جاتی ہے ۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے ۔ ہم نے اس خاکوں کے اعلان کے بعد صرف "بد دعائیں " کی ہیں ۔ مگر انکی مصنوعات کے استعمال کو نہ خود چھوڑا ہے اور نہ دوسرے مسلمانوں کو ترغیب دی ہے ۔ اگر ایک یونی لیور ، ایک شیل پیٹرولیم ، ایک فلپس کو چھوڑ دیا جائے تو کیا ہمارے پاس دوسرے متبادل نہیں تھے کہ ہم  نے بحیثیت قوم مصلحت اندیشی کر رکھی ہے ۔ ان تین بڑی کمپنیوں کا اربوں ڈالر کا روز کا کاروبار جب صفر پر آجاتا تو پوری ہالینڈ قوم بلبلا اٹھتی ۔ مگر مسلمان صرف نعرے لگا کر ایمان کا اظہار کرنے کو ایمان کی معراج سمجھے بیٹھے ہیں ۔ آپس میں کافر کافر کرکے سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اللہ کو راضی کر لیا ۔ اور ایمان کا حق ادا کیا ۔ میرے جیسے کتنے مسلمان ہیں جنہوں نے ایک بار بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ۔ اگر کوئی دوکاندار میرے یا آپکے ماں باپ کی توہین کر دیتا ہے تو ہم اپنی نسلوں کو منع کر دیتے ہیں کہ اس دوکان سے کبھی کچھ نہیں خریدنا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم رسول کریم ؐ کی توہین کرنے والے دوکاندار کا مقاطعہ کرنے پر تذبذب کا شکار ہیں ۔ سرشاری عمل کا تقاضا کرتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment