Tuesday, 21 August 2018

جمہوریت اور مولانا

" جمہوریت اور مولانا  "
مولانا فضل الرحمن سے نظریاتی اختلاف سہی ، مگر آج انہوں نے جو سچ بولا ہے ، ساری زندگی کا نقشہ بیان کر کے رکھ دیا ہے ۔ پوری قوم سمجھتی رہی کہ محترم مولانا صاحب ، اللہ کے دین کی خدمت پر مامور ہیں ۔ انکا اوڑھنا بچھونا ، اللہ کے دین کی اشاعت اور تبلیغ ہے ۔ انہوں نے کتنے مدارس قائم کئے کہ نئی نسلیں اسلام سے آگاہی لیتی رہیں ۔ لوگ حدیث سیکھیں ، تفسیر سیکھیں ، فقہ سیکھیں ۔ یہ وہ کار خیر تھا جس کیلئے موصوف حکومتوں سے بھی استفادہ کرتے رہے ، مخیر حضرات کی جیبیں بھی ٹٹولتے رہے ، عرب ممالک سے بھی چندہ جمع کرتے رہے ۔ انکے سر پہ رکھا ہوا عمامہ ، گٹنوں سے اونچی شلوار ، کندھے پہ رومال اور مروڑ مروڑ کر الفاظ کی ادائیگی سے یہی سمجھا جاتا رہا کہ موصوف محراب اور منبر کی خدمت کو ایمان سمجھتے ہیں ۔ یہی خیال تھا کہ انکی ساری کوششیں اسلام کے نظام کیلئے ہیں ۔ آج انہوں سچ بول دیا کہ انکی یہ ساری قربانیاں جمہوریت کیلئے تھیں ۔ یہ سارا بھرم تو محض دکھاوا تھا ۔ کونسا دین ، کیسا اسلام ، کیسے مدارس ، کیسی اسلامی تعلیم ، یہ سب تو لوگوں کو رام کرنے کیلئے تھا ۔ وہ تو جمہوریت کیلئے سب کچھ کرتے رہے اور کچھ بھی ہو جائے ، اسی جمہوریت کیلئے کٹ مرنے کیلئے بھی تیار ہیں ۔ اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی بھی جمہوریت کے مقابلے میں اسلام کے نظام کو رائج نہیں ہونے دیں گے ۔ یہ انکی زندگی کا حتمی مقصد ہے ۔
  وہی جمہوریت درست جمہوریت ہے جس میں انکو سیٹیں بھی ملیں اور پھر قوم کو کھا جانے کا موقع بھی ۔
مولانا کے کردار کا گرویدہ ہو جانا ، عام سی بات ہے ۔ انکی سادگی قابل داد ہے کہ صاف کہہ دیا کہ جو میں دکھائی دیتا ہوں ، وہ نہیں ہوں ۔ اتنی جرات کہ پریس کانفرنس میں ببانگ دہل کہہ دیا کہ ایسی اسمبلی کو نہیں چلنے دیں گے ، جس میں ہم نہیں ۔ مولانا نے کھل کر کہہ دیا کہ ہماری مذہبی شکل و شباہت پہ مت جاو ، ہم عملی طور پر ٹرمپ اور مودی کی جمہوریت کے پیرو کار ہیں ۔
اور اس کار خیر میں انکے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والوں میں ، حضرت سراج الحق ، لیاقت بلوچ اور چند دیگر مذہبی قائدین بھی شامل تھے ۔
اب قوم کیا سمجھے ؟ ایسے لوگوں کو کیا کہا جائے ، جن کا ظاہر اور باطن متضاد ہو ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment