Sunday, 19 August 2018

سب ٹھیک

" سب ٹھیک "
اسوقت سر فہرست اعتراضات میں
١ ۔ عمران خان کو قیامت اور قیادت میں فرق معلوم نہیں
٢ ۔ وہ خاتم النبین نہیں پڑھ سکا ۔
٣ ۔ اس نے اپنے ورکروں کو وزارتیں نہیں دیں
٤- پنجاب کا وزیراعلیٰ قاتل بھی ہے اور نا اہل بھی
٥ ۔ اسکی بیوی نے عبایا پہن کر قدامت پسندی کا اعلان کیا
٦ ۔ اسکو گارڈ آف آنر کے وقت سینے پر ہاتھ رکھنا چاہئیے تھا
٧ ۔ وہ حلف برداری کی تقریب میں نروس تھا ۔
وغیرہ وغیرہ ۔ کیا یہ سب اعتراضات ثابت کرتے ہیں کہ وہ محب وطن نہیں ہے ۔ کیا اسے وقت ملا کہ کہا جاسکے کہ اس کی کارکردگی ٹھیک نہیں رہی ۔ کیا ان تمام اعتراضات سے کچھ ملکی فائدے نظر آتے ہیں ؟ کیا یوں نہیں لگتا کہ
" کھسیانی بلی کھمبا نوچے "
اس ایک شخص نے سیاست کا پانسہ بدل دیا ۔ چلیں اسٹیبلشمنٹ ، خلائی مخلوق اور خفیہ ہاتھ اسکی کامیابی کی وجہ ہیں ۔ آخر ان تینوں کو  پرانے پیشہ ور سیاستدانوں کی بجائے وہ کیوں اچھا  لگا ۔ وہ بھی ایک انسان ہے ۔ غلطیاں کرنا یا ہو جانا تو انسان کی فطرت ہیں ۔ اب تو یہ دیکھنے کا وقت ہے کہ وہ کوئی ایسی غلطی کرتا ہے کہ نہیں ، جو قوم اور وطن کے مفاد میں نہ ہو ۔ وہ شرابی بھی ہے ، زانی بھی ، یہود سے رشتہ داری بھی رکھتا تھا ، ساری برائیاں ہیں ۔ اسکی اصلاح ہو جائے تو اچھی بات ہے  یا نہیں ؟ دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی پر آکر وہ ان برائیوں کو چھوڑتا ہے یا نہیں ۔ پہلے اسکے سارے فعل اسکی ذات کا حصہ تھے ۔ اب اسکے ذاتی فعل پر گرفت کا قوم کو حق ہے ، کیونکہ اب وہ قوم کا نمائندہ ہے ۔ کیا اب اس نے ان گناہوں کا اعادہ کیا ہے ؟ کیا وہ بضد ہے کہ ان برائیوں کو جاری رکھے گا ؟
ہمیں ایک قوم ، مہذب قوم اور سوجھ بوجھ والی قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہئیے ۔ اپنی پوری طاقت سے اسے مجبور کرنا چاہئے کہ اپنے وعدے پورے کرے ۔ گذشتہ حکومتوں کیطرح ہمیں " الو " نہ بنائے ۔ میڈیا پہ ہونے والی ترقی پر خوش نہیں ہونا چاہئے ، ترقی نظر آنی چاہئے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پورا احتجاج  کرنا چاہئے ۔
پھسپھسے اعتراضات ، مسقبل پر بد گمانی ، بات بات پر تنقید اور کردار کشی کسی طور اخلاقیات نہیں ۔ باور کرانا چاہوں گا کہ مجھے عمران خان سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں ۔ اسلئے اس عرضداشت کو  ہم آہنگی کی فضا کیلئے ایک کوشش سمجھ لیا جائے ۔
آزاد ھاشمی
١٩ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment