" یہ پنیری کس نے لگائی "
یہ ساری بیورو کریسی ، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اداروں کی کلیدی کرسیوں پر بیٹھے نوے فیصد لوگ ، میرٹ کو روندتے ہوئے لائے گئے ۔ یہ کیسے لائے گئے ، انہیں کون لایا اور انہیں کس لئے لایا گیا ۔ عدالتوں میں کتنے چیف آئے جن کو سیاسی پارٹیوں کی آشیر باد حاصل تھی ۔ فوج کے کتنے سربراہ آئے ، جن کو چھلانگ لگوائی گئی ۔ کتنے پولیس افسران ہیں ، جو سیاستدانوں کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں ۔ کوئی ہے جو کہہ سکے کہ یہ ساری پنیری وطن کے مفادات کے مطابق لگائی گئی ،
یا حکمرانوں نے اپنی کرسیوں کو تحفظ کیلئے اپنی اپنی پسند کے پودے لگائے ؟ ایک بیورو کریٹ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتا ،جو اسکے گلے کا پھندہ بن جائے ۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ نیا سورج طلوع ہو رہا ہے تو وہ پرانے ڈوبنے والے کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ یہ ہیں جو حکومتوں کو متزلزل کرتے ہیں اور ایسا گورکھ دھندہ بن دیتے ہیں کہ سیاستدان خود اس میں پھنس جاتے ہیں ۔
اگر سیاسی تسلسل کو دیکھیں تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ ہر حکومت اپنی اپنی ضرورت کے مطابق ان تمام مذکورہ کلیدی کرسیوں کو اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستان کا الیکشن کمیشن کبھی بھی اتنا فعال نہیں تھا کہ دھاندلی کے بغیر انتخابات کروا لیتا ۔ عدالتیں کبھی بھی آزاد نہیں تھیں کہ غریب کو بھی انصاف مل جاتا ۔ پولیس نے کبھی بھی عوام کو تحفظ فراہم نہیں کیا ۔ انٹلیجینس ایجینسیوں نے کبھی بھی چوری کرنے والے طاقتور کا ہاتھ نہیں روکا ۔ کیوں ؟ کون ذمہ دار ؟ اسمبلیاں بنتی رہیں ، بنتی رہیں گی مگر کبھی قانون سازوں کو توفیق نہیں ہوئی کہ بنیادی مسائل کا حل سوچ لیں ۔ یہ سب گورکھ دھندہ انہی سیاسی مداریوں نے بنایا اور جب اسی کا شکار بنتے ہیں تو سڑکوں پر نکل پڑتے ہیں ۔ ہنگامے کرواتے ہیں اور فساد کی فضا قائم کر دیتے ہیں ۔ اگر ان سیاستدانوں کی اصلاح ہو جاتی تو معاملات یقینی طور پر بہتر ہو جاتے ۔
آزاد ھاشمی
١١ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
یہ پنیری کس نے لگائی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment