" قومیں مثبت سوچ سے بنتی ہیں "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ
" بد گمانی سے بچو "
عمران خان وزیر اعظم بننے سے پہلے بہت سارے وعدے قوم سے کر چکا ہے اور بہت سارے وعدے اللہ سے ۔ ان وعدوں میں کتنی صداقت تھی ، کتنا خلوص تھا اور کتنا اقتدار تک پہنچنے کا ڈھونگ ۔ یہ صرف عمران خان جانتا ہے یا رب کریم کی ذات جانتی ہے ۔ مجھے اور آپ کو اس پر بد ظنی ، بد گمانی کا کوئی حق نہیں ۔ سیاسی جنگ جاری تھی ، کوئی جیت گیا اور کوئی ہار گیا ۔ اقتدار رب کی ذات دیتی ہے اور وہی ذات چھین لیتی ہے ۔ اگر اقتدار میں آنے والے اپنے عہد و پیمان پر قائم رہیں تو اللہ عزت عطا کرتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اللہ کی ذات صرف اقتدار ہی نہیں چھینا کرتی بلکہ رسوائی مقدر میں لکھ دیتی ہے ۔ اب عمران خان کا امتحان شروع ہوا ہے ۔ اگر وہ اخلاص کا اظہار کر رہا ہے تو ہمیں تمام سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر مثبت سوچنے کا آغاز کرنا ہو گا ۔ ہمیں قوم بننے کیلئے اپنی اپنی سطح پر اسکے ہر مثبت اقدام کا ساتھ دینا ہو گا ۔ اگر وہ ایسا کرنے میں منافقت اپنانے لگتا ہے تو اسکی مخالفت قومی مفاد میں کرنی چاہئیے ۔ قومیں اگر ہر بات کو منفی سوچتی رہیں اور مثبت سوچ کو رد کرتی رہیں تو کبھی کامیاب نہیں ہوتیں ۔ آج اس نے حلف اٹھایا ہے ۔ حلف اللہ سے وعدہ ہے اور قوم کی گواہی شامل ہے ۔ اب اگر وہ جھوٹ بولے گا تو پہلا جرم اللہ سے کئے گئے وعدہ کو توڑنا ہوگا ۔ دوسرا جرم قوم سے منافقت اور تیسرا جرم اپنے ایمان سے بغاوت ۔ ہمیں دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ اسے ان تینوں جرائم سے محفوظ رکھے ۔ اسے صالحہ سوچ پوری کرنے کی توفیق دے ۔ اگر میں اور آپ بیجا اعتراض کرنے کی عادت نہیں چھوڑتے تو اللہ کے سامنے بد گمانی کا جرم کرتے ہیں ۔ کم از کم سیاسی وابستگیوں کے جنون میں ہمیں اللہ کے حکم کی سرکشی نہیں کرنی چاہئیے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
قومیں مثبت سوچ سے بنتی ہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment