" آپ کی رائے کیا ہے ٹیکس یا زکوٰة؟ "
اسوقت ہر پاکستانی شہری ، قطع نظر کہ اسکے پاس زندہ رہنے کے وسائل ہیں یا نہیں ۔ اسکے پاس پہننے کو کپڑے ہیں یا نہیں ۔ وہ اپنے بچوں کی کفالت کے قابل ہے یا نہیں ، ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ سرمایہ دار ، صنعتکار اور تاجر جتنا ٹیکس دیتے ہیں ، اس پر بھی اپنا منافع جمع کرکے قیمت بڑھا دیتے ہیں ۔ یوں نہ سرمایہ کار ٹیکس دیتا ہے ، نہ تاجر ، نہ صنعتکار اور نہ ہی جاگیر دار ۔ یہ سارا بوجھ عام شہری پر ہے ۔ جمع در جمع ہونے والا یہ ٹیکس مجموعی طور پر پچاس فیصد سے زائد ہے ۔ معیشت دان تو اسے ستر فیصد بتاتے ہیں ۔ ٹیکس کے اس نظام نے ہماری مصنوعات کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ ہم بین الاقوامی منڈیوں سے باہر نکل گئے ہیں ۔
جن کے پاس سرمایہ ہے وہ اسے یا تو بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں ، یا ڈالر اور سونا خرید کے تجوریوں میں بھر لیتے ہیں ، یا جائیداد بنا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جس سے اندازہ کرنا ممکن ہی نہیں کہ ان پر کیسے اور کتنا ٹیکس وصول کیا جائے ۔ ایک دولتمند جس کا گھر ایک ارب سے زاید کا ہے ، جس کے پاس منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے اربوں میں ہیں ، دو چار لاکھ روپیہ دے کر آسانی سے چھوٹ جاتا ہے ۔
اسکے متوازی اسلام کے ٹیکس کا نظام زکوٰة ، خمس اور عشر ہے ۔ زکوٰة اثاثہ جات پر اڑھائی فیصد ہے ۔ خمس وسائل پر پانچواں حصہ ہے ۔( اس پر تفصیل کیلئے فقہ موجود ہے ) اور عشر ۔ اگر زرعی پیداوار بارانی ہے تو دسواں حصہ ہے ۔ اور اگر بارانی نہیں تو بیسواں حصہ ۔
ہم یہاں زکوٰة ہی کو سامنے رکھیں گے ۔ صرف ایک زکوٰة لاگو کر دینے سے مسائل من و عن پورے ہو جاتے ہیں دیگر ذرائع ضروریات سے اضافی ہو جائیں گے جو معاشی خوشحالی کی ضمانت ہے ۔
تو زکوٰة کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ اسوقت جو دولتمند دوچار لاکھ روپے دیکر چھوٹ جاتا ہے ، اسے اثاثہ جات کے حساب سے دینا پڑے گا جو کروڑوں میں چلا جائے گا ، یعنی سو گنا اضافہ ہو جائے گا ۔ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ جو اسوقت رحجان ہے کہ سرمایہ کو " زر مردہ " بنا دیا جاتا ہے ۔ ( زر مردہ ، وہ سرمایہ جو تجوریوں میں بھر دیا جائے یا جس سے عمارات بنا لی جائیں، معیشت کا حصہ نہیں بنتا ، کیونکہ وہ گردش سے الگ ہو جاتا ہے ) وہ سرمایہ گردش میں آجائے گا اور " زندہ زر " میں تبدیل ہو جائے گا ۔ کیونکہ جو سرمایہ گردش میں ہے ، وہ زکوٰة سے مستثنی ہے ۔ دولتمند اس استثناء کیلئے جائیدادیں بنانے سے گریز کریں گے اور سرمایہ منجمد نہیں ہوگا ، سرمائے کے منجمد ہو جانے سے قرضے لینے کی مجبوری ہو جاتی ہے ۔ تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ اشیائے صرف پر قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ عام شہری پر بوجھ کم ہو جائے گا اور عام شہری جو اسوقت اصل ٹیکس ادا کرتا ہے ، اس بوجھ سے آزاد ہو جائے گا ۔ بین الاقوامی منڈی میں ارزاں نرخ ہونے کے باعث مارکیٹ اپنے حق میں ہو جائے گی ۔ جس سے یقینی طور پر زر مبادلہ آنے لگے گا ۔ عوام کو سوچنا ہوگا ، فیصلہ کرنا ہو گا اور اس پر اقدامات کیلئے تحریک پیدا کرنا ہو گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اگست ٢٠١٨
Thursday, 23 August 2018
آپ کی رائے کیا ہے ٹیکس یا زکوٰة
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment