"کیا ہم آزاد ہو گئے ہیں ؟ "
کسی بھی قوم کی آزادی کا تعلق شعور کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اگر قومیں شعور سے عاری ہوں تو انکی آزادی اور غلامی ایک سی بات ہے ۔ ہمارے سروں پر انگریز حاکم تھا ، اسکا قانون تھا ، اسکا نظام تھا ، اسکے فیصلے تھے ۔ ہم گھٹن کا شکار تھے ۔
کچھ مفکرین نے اپنی عقل و فہم سے قوم کے اندر ایک چنگاری سلگا دی کہ ہم ایک الگ قوم ہیں ۔ ہماری تہذیب الگ ہے ، مذہب الگ ہے ، سوچ الگ ہے ، مزاج الگ ہیں ، اسلئے ہمیں ایسے خطے کی ضرورت ہے جہاں ہم اپنے طور طریقوں سے رہ سکیں ۔
قوم جاگ گئی ۔ اور جب قومیں جاگ جاتی ہیں تو انکے راستے میں کھڑے پہاڑ بھی ہیچ ہوتے ہیں ۔ انکا راستہ تقدیر بھی چھوڑ دیتی ہے ۔ یہی ہوا کہ انگریز ہر تدبیر کے باوجود مجبور ہو گیا کہ ہمیں ہماری مرضی کا خطہ دے اور اپنے گھر واپس چلا جائے ۔
ہزاروں جانیں دے کر ہم نے ایک وطن لے لیا ۔ خوش تھے کہ سودا مہنگا نہیں ۔ وطن مل جانا اللہ کا احسان ہے ۔ مگر جیسے ہی حریت جگانے والوں نے آنکھیں بند کیں ، انگریز کے احسانمند ، انگریز کے پروردہ ، انگریز کے نمک کو حلال کرنے والے ، ایک ایک کر کے کرسیوں پر بیٹھتے گئے ۔ آزادی کے خواب سے بیدار ہوتے ہی ، تعبیر کچھ مختلف نہ تھی ۔ وہی نظام ، وہی عدالتیں ، پہلے سے بد تر فیصلے ، ملک کو نوچ نوچ کر کھانے والے ننگے اور بھوکے سیاستدان ، مسالک پر لڑنے والے ملا ، انگریز سے کہیں زیادہ ظالم پولیس والے ، تکبر سے بھرے چوہدری اور خان پہلے سے کہیں بد تر غلامی کے طوق لئے کھڑے نظر آئے ۔ چوہدری کا بیٹا چوہدری ، تحصیلدار کا بیٹا تحصیلدار ، تھانیدار کا بیٹا تھانیدار بنتا چلا گیا ۔ نورے موچی کا بیٹا پڑھ کر بھی موچی ، کلرک نے کلرک اولاد ہی جنی ۔ بس غلامی کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا اور جاری ہے ۔ ہمارا شعور گہری نیند سو گیا ۔ آج بھی ہم انہی خاندانوں کو سیاست کی ہر مسند پر بٹھاتے ہیں ۔ انکے لئے سڑکوں پر نکلتے ہیں ، انکی جیت پر جشن مناتے ہیں ۔ ہوش ہی نہیں کہ انکی جیت تو ہماری شکست ہے ۔ غریب تو اسی چکی میں پس رہا ہے جس میں انگریز کے وقت پس رہا تھا ۔ پھر بھی آزادی غریب ہی مناتا ہے ۔ گلیوں میں آزادی کے جھنڈے غریبوں کے بچے ہی سجاتے ہیں ۔ آزادی تو امیر کو ملی ۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ ملک کو لوٹتا ہے ۔ جبر کرتا ہے ، ظلم کرتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ غریب کے بچے کے دونوں ہاتھ چوہدری کاٹ ڈالتا ہے ۔ اور آزاد پھرتا ہے ۔ وڈیرا جس ہاری کی بیٹی کو چاہے نوچ ڈالتا ہے ۔ کوئی قانون اسے نہیں پوچھتا ۔ آزاد کون ہوا ؟ اب تو سوچنا پڑتا ہے کہ کیا غریب بھی آزاد ہوگئے کہ نہیں ؟
آزاد ھاشمی
١٢ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
کیا ہم آزاد ہوگئے ہیں ؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment