Sunday, 19 August 2018

سیاست اور اخلاقیات

" سیاست اور اخلاقیات "
میں اسوقت نان نفقے کی تلاش میں ،  مغربی افریقہ کے ایک پسماندہ ملک " گھانا " میں رہتا ہوں ۔ یہ بھی اسی انگریز کی غلامی سے آزاد ہوئے جس سے ہم نے آزادی حاصل کی ۔ یہ ہم سے دس سال بعد آزاد ہوئے ۔ یہ بھی جمہوریت کو ہماری طرح ایمان سمجھتے ہیں ۔ میں نے اپنے سامنے انکے تین انتخابات دیکھے ۔ پہلے انتخاب میں دونوں پارٹیوں کے ووٹ برابر ہوئے ، چند دن بعد دوبارہ الیکشن ہوئے ، جیتنے والی پارٹی چند ووٹ سے جیتی ۔ ہارنے والے نے نتائج قبول کئے ۔ دوسری دفعہ دھاندلی ہوئی ، شکایات ثابت ہوگئیں ، کیس عدالت میں گیا ، عدالت نے فیصلہ دیا کہ شکایات درست ہیں مگر ملکی مفاد میں ہے کہ اسی حکومت کو چار سال حکومت کرنے دی جائے ۔ کوئی احتجاج نہیں ہوا ۔ کیونکہ ہارنے والے لیڈر نے اپنی پارٹی کو کہہ دیا کہ ہم ملک کے مفاد میں عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گے ۔ تیسرے انتخاب ہوئے تو نئی پارٹی اقتدار میں آگئی ۔ ہارنے والی پارٹی کے قائدین نے اپنی شکست کا اعتراف کیا اور جیتنے والے کو مبارک بھی دی اور اپنے تعاون کی یقین دھانی بھی ۔
میں جب اپنے ملک کا سیاسی مزاج دیکھتا ہوں تو اپنی پستی پر شرم آتی ہے ۔ لچر لہجے میں تنقید ، نتائج کو کسی بھی حال میں تسلیم نہ کرنے کی ضد ، ایک عام شہری کا بازاری لب و لہجہ ۔ لگتا ہی نہیں کہ تہذیب ہمارے پاس سے بھی گذری ہے ۔ وہ عمر رسیدہ لوگ ، جن کو قوم کی تربیت کرنی چاہئے وہ ایسی زبان بولتے ہیں کہ شرم آتی ہے ۔ تہذیب, اچھا لباس پہن لینا ، بڑے بڑے گھروں میں ، بڑی بڑی درسگاہوں سے ڈگریاں لے لینے کا نام نہیں ۔ کردار، اخلاق ، گفتگو اور معاشرے میں مثبت چال چلن کا نام ہے ۔ جسے ہم نے بھلا دیا ۔ کیچڑ اچھالنا ، جانتے ہوئے بھی جھوٹی خبریں پھیلانا اور الٹی سیدھی ہانکتے رہنا ، ہماری سیاست کا معمول ہے ۔ کیا " گھانا " جیسے سیاسی مزاج تک بھی پہنچ پائیں گے یا نہیں ؟؟
آزاد ھاشمی
١٩ گست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment