" سنت ابراہیمیؑ اور ہم "
اللہ تبارک تعالیٰ کا اشارہ ہوا کہ اپنی عزیز ترین شے اللہ کی راہ میں قربان کرو ۔ تاریخی تفصیل تو ہر مسلمان کو معلوم ہے ۔ بیٹے سے اپنی خواب کہی ۔ بیٹے کی گھٹی میں اطاعت بھری تھی ۔ باپ اور بیٹے کو صرف رضائے الہٰی کی تمنا تھی ۔ رسی اور چھری لئے ، ایک بیٹے کی قربانی کیلئے محو سفر ہے اور دوسرا قربان ہونے کیلئے ۔ دونوں کے سامنے اطاعت ربی ہے اور رضائے الٰہی ۔ گردن کٹوانے کیلئے لیٹ جانا اور گردن کاٹنے کیلئے چھری کو پکڑ لینا ، باپ اور بیٹے کیلئے کڑا امتحان تھا ۔ اللہ کے خلیلؑ نے چھری دکھائی نہیں بلکہ بیٹے کی گردن پر چلا دی ۔ اللہ نے بیٹے کو چھری کے نیچے سے خود ہٹایا ، بیٹا چھری کے نیچے سے ہٹا نہیں ۔ دنبا ذبح ہوا اور آج یہ سنت ابراہیمی ہے ۔ جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ حج کیلئے اس سنت کا پورا کرنا واجب ہے ۔ ہمیں اس سنت کا ادراک اس حد تک ہے کہ ہم بھولتے نہیں ۔ صاحب نصاب ہوں یا نہ ہوں قربانی کا انتظام ضرور کرتے ہیں ۔ رشوت لینے والا رشوت کے پیسے سے بھی قربانی کرتا ہے ۔ قرضہ لیکر بھی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ وہ پیغام جو اس فریضہ کے پیچھے ہے شاید بہت کم لوگوں کو یاد رہا ۔ اللہ کی رضا ہے کہ اپنی بہترین شے اللہ کی راہ میں قربان کی جائے ۔ ہم تو گوشت بانٹتے وقت بھی تعلقات اور رشتے مضبوط کرتے ہیں ۔ جس سے جتنی قربت ہے اسے اتنا بہتر حصہ دیتے ہیں ۔ اللہ کے وہ بندے جو مستحق ہیں انکو بچا کھچا گوشت بھی دھتکار کر دیا جاتا ہے ۔ اللہ کی رضا ہے کہ کسی عبادت میں ، اسکے کسی حکم کی ادائیگی میں " دکھاوا " نہ ہو ۔ ہم نے قربانی کو ایک اسٹیٹس بنا کے رکھ دیا ۔ ایک شخص پر ایک قربانی واجب ہے ، وہ بھی زندگی میں ایک بار ، باقی نوافل ہیں ۔ ہم کئی کئی جانور قربان کر ڈالتے ہیں ۔ جن کی ادائیگی پر کوئی حرج نہیں ۔ اگر اطاعت اور رضائے ربی کیلئے ہے تو احسن اور اگر دکھاوا ہے تو ضیاع ۔ ہم نے یہ چیز بھلا دی کہ رب کی رضا حاصل کرنا اصل مقصدیت ہے ۔ جیسے بھی ہو ۔ اللہ کیسے راضی ہے ؟ اس طرف نہ ہم سوچتے ہیں اور نہ ہمیں خبر ہے ۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ قربانی کا جانور ہمیں پل صراط جیسا مشکل سفر پار کرائے گا ۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ پل صراط وہی پار کرے گا ، جس سے " مالک یوم الدین " راضی ہو گا ۔ جو اسکی اطاعت کرتا ہوگا ۔ مالک یوم الدین اسی سے راضی ہوگا ، جس سے اسکے بندے راضی ہونگے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اگست ٢٠١٨
Friday, 24 August 2018
سنت ابراہیمی اور ہم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment