" اردو کی غلطیاں "
عمران خان کو شاید پتہ ہی نہیں کہ وہ کس عالم فاضل قوم کا وزیراعظم بن گیا ہے ۔ اردو سیکھے بغیر اس منصب پر فائز ہونے کا حق اسے کس نے دیا ۔شاید یہ بھی خلائی مخلوق کی سازش ہے ۔ ہمارے آج تک جتنے بھی سربراہ آئے ، انکی اردو سن کر تو اہل زبان بھی سبق سیکھا کرتے تھے ۔ اگر ہمارے سربراہ کو اردو نہیں آئے گی تو وہ بیرون ملک آنے والے ہم منصب سے کیسے بات کرے گا ۔ ٹرمپ سے اپنا مافی الضمیر کیسے بیان کرے گا ۔ شعلہ بیانی کا طریقہ نہیں آئے گا تو لوگوں کے دلوں پر حکومت کیسے کرے گا ۔ اقوام متحدہ میں کیسے تقریر کرے گا ۔ یہ عہدہ تو خالص ادیب لوگوں کیلئے ہوتا ہے ، یہ رک رک کے اردو بولنے والا اس عہدے پر کیسے بیٹھ گیا ۔
یہ وہ فکر ہے ، جو محبان قوم کو کھائے جا رہی ہے ۔ کیسا وزیر اعظم بنا دیا جو قوم سے یوں بات کرتا ہے ، جیسے گھر میں بیٹھ کر اہل خانہ سے کی جاتی ہے ۔ تقریر میں نہ رعب ، نہ دبدبہ ۔ کیسے حکمرانی کرے گا ۔ کیسے لوگوں کو یقین دلائے گا کہ وزیراعظم بننے کے بعد عام فرد جیسی بات چیت کرنے والا بھی وزیر اعظم ہو سکتا ۔ شور مچائے جا رہا ہے کہ مدینے کی ریاست کیطرح حکومت چلائے گا ۔ کتنا قدامت پرست شخص ہے ۔ نہ ملک کو یورپ بنانے کا وعدہ ، نہ شہروں کو پیرس اور نیویارک بنانے کی باتیں ۔
قوم پریشان ہوگئی ہے کہ یہ کیسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ جس قوم کی جڑوں میں کرپشن بیٹھی ہوئی ہے کہ وہ سب ٹھیک ہو جائیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کب ہوا ہے ۔ کہ وزیراعظم غریبوں جیسی باتیں کرے ۔ قائد اعظم کتنی اچھی اردو بولتے تھے ۔ اردو دان ان سے اصلاح لیا کرتے تھے ۔ سہرودی کی اردو سنیں تو سمجھ آ جائے گی کہ زبان دانی کیا ہوتی ہے ۔ یہ اردو بولنے کا ہی کمال تھا کہ ہم نے انگریز کو اس ملک سے اردو بول بول کر بھگا دیا ۔ دو قومی نظریہ کی اساس تو اردو بولنے پر قائم ہوئی تھی ۔ بھٹو نے قوم کو سیاسی شعور تو اردو کی لفاظی پر ہی دیا تھا ۔ بینظیر کو اردو بولنے کیوجہ ہی سے پوری دنیا لیڈر مانتی تھی ۔ قوم فکر مند ہے کہ املا اور تلفظ کی غلطیاں کرنے والا وزیر اعظم بن گیا ہے ۔ بس اب تو اللہ خیر کرے ۔ ہماری جہالت دیکھیں کہ اتنے اچھے اچھے اردو بولنے والے قائدین کے ہوتے ہوئے ہم نے کسے وزیر اعظم بنا دیا ۔ سراج الحق جیسا اردو بولنے والا قائد بھی تھا ، زرداری کا لہجہ کتنا مناسب تھا ، بلاول بھی اچھی اردو بولتا ہے ، اسفند یار ولی بھی موجود تھا ۔ اتنے اچھے اچھے اردو گو تھے ، پھر اسکو کیسے منتخب کر لیا ۔ دراصل ہمارا طرز انتخاب ہی غلط ہے ۔ پہلے اردو بولنے کا مقابلہ ہونا چاہئے ، جو اچھا اردو دان ہو ، وہی انتخاب لڑنے کا اہل ہو ۔ جسے وزیراعظم بن کر تقریر میں رعب دکھانے کا فن ہو ۔ جو عوام اور حکمرانی میں فاصلے رکھ سکے ۔ جسکے بولنے سے تحکمانہ لہجہ نظر آئے ، اسی کو یہ کرسی ملنی چاہئیے ۔ جو " خاتم النبین " نہیں کہہ سکتا اس سے دین کی خدمت کی امیدیں حماقت نہیں تو کیا ہے ۔ دیکھو کتنے مذہبی لوگ موجود تھے ، انکا ماضی دیکھو کہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر کیسی دین کی خدمت کی ۔ ہے کسی کو جرات کہ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا بل پاس ہوا ہو ۔ فکر یہ لگ گئی ہے کہ اب پتہ نہیں کیا کیا ہوگا ۔ پہلے کبھی کوئی شرابی اور زانی وزیراعظم نہیں بنا تھا ۔ سارے پارسا اسمبلی میں آتے تھے ۔ اب پتہ نہیں کیا کیا ہوگا ۔ یہ سارے فکر ہیں جو قوم کو لاحق ہو گئے ہیں ۔ یہ بھی فکر ہے کہ کھل کر کہتا ہے کہ میں کرپشن ختم کروں گا ۔ سیاسی بیان تک تو ٹھیک ہے ، اگر اس نے واقعی ایسا کرنے کی ٹھان لی تو؟ کیونکہ اسکا ماضی بتاتا ہے کہ ضدی شخص ہے ۔ جو سوچ لیتا ہے کر گذرتا ہے ۔ بہتر ہے کہ قوم کو اعتماد میں لیکر اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ اسی لئے بتایا جا رہا کہ دیکھو اسکو تو قومی زبان نہیں آتی ۔ ہمارے تمام دفتری امور قومی زبان میں ہیں ۔ قانون قومی زبان میں ، تعلیم قومی زبان میں ۔ اب کیا ہوگا ؟ ہے نا فکر والی بات ۔ قوم جاگ جائے اور کوئی اچھا اردو بولنے والا قائد تلاش کرے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اگست ٢٠١٨
Wednesday, 22 August 2018
اردو کی غلطیاں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment