Thursday, 23 August 2018

قوم کی تقسیم در تقسیم

" قوم کی تقسیم در تقسیم "
جب پاکستان کی تحریک شروع تھی تو بنیاد دو قومی نظریہ تھا ۔ ہندو اور مسلمان ۔ ہم پاکستان کو مسلمانوں کا وطن اور اسلامی طرز حکومت کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے ۔ یہ سوچ اسقدر مضبوط تھی کہ انگریز کو وطن چھوڑنا پڑا ۔ جیسے پاکستان بنا تو دو حصے تھے ، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ۔ جس رسی سے دونوں حصے بندھے ہوئے تھے ، وہ اسلام ہی تھا ۔ اسلام کو مسالک میں تقسیم کرنے میں علماء اور مدارس کا مضبوط کردار تھا ۔ جوڑنے والی رسی ایک ایک ریشہ کر کے ٹوٹتی رہی ۔ اب یکجہتی کا رشتہ پاکستان تھا ۔ پاکستان زبانوں کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگا ۔ بنگالی ، بہاری ، پختون ، پنجابی ، بلوچ ، سندھی اور مہاجر حصے بن گئے ۔ سیاست کے میدان میں پرانے خاندان کود پڑے ، انہوں سیاسی بنیاد مفادات پر رکھ دی ۔ جس کو جس سے مفاد نظر آیا وہ اس سے جڑ گیا ۔ پھر ایک ایک پارٹی کئی کئی حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ یہ تقسیم اسقدر ہو گئی کہ اب پہچان نظریات نہیں ، شخصیات ہیں ۔ منشور کو جانے اور سمجھے بغیر شخصیت کی تقلید شروع ہوگئی ۔ آج حالت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی " بھٹو " کے نام پر قائم ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے مقلدین ہیں ۔ مسلم لیگ کا جو حال ہوا وہ سب سے زیادہ برا ہے ۔ کتنے سیاستدانوں کے نام پر مسلم لیگ کے گروہ قائم ہیں ۔ متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کی ہے ، تحریک انصاف اصل میں عمران خان ہے ۔ گویا قوم بھول گئی کہ سیاسی پارٹیاں نظریات کیوجہ سے ، منشور کی افادیت کی بناء پر ہوتی ہیں ۔ سیاسی کارکنوں کی پہچان بھی عجیب عجیب ہوگئی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ قوم بکھر گئی ، گروہ بن گئے اور اب ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ کوئی دانشور ، کوئی سیاستدان ، کوئی صحافی اور کوئی لیڈر یہ شعور دینے کا سوچتا بھی نہیں کہ ہم پہلے مسلمان بن کر سوچیں اور مسالک کی تقسیم کو ضمنی خیال کریں ۔ پھر پاکستانی بننے کیطرف رخ موڑ لیں ، لسانی اور علاقائی سوچ کو ضمنی درجہ دے دیں ۔ اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ قوم بھی بنی رہے گی اور قومی ترقی میں استحکام بھی آتا رہے گا ۔ سب زبانوں کو ، تمام کلچر کو ، تمام علاقوں کو ، تمام مسالک کو انکی حدود کے اندر صرف اتنی آزادی ہو کہ قومی مفادات مجروح نہ ہوں ۔ سیاسی پارٹیوں کو گالم گلوچ ، کردار کشی اور بد اخلاقی نہ کرنے کی پابندی ہو ۔ سیاسی قائدین قوم کو گمراہ کرنے کی بجائے ، اپنے اپنے مخالفین کے ساتھ مذاکرات سے حل کریں ۔ عوام کو سیاستدانوں میں یکجہتی نظر آئے گی تو قومیت کا تصور ، ہم آہنگی کی سوچ پروان چڑھے گی ۔ یہ ہے اصل ضرورت ۔  مثبت انداز فکر کی انحطاط نے ہمیں تقسیم در تقسیم کر دیا ہے ۔ اگر سیاستدان اس کو نظر انداز کریں تو با شعور شہریوں کو آگے آنا چاہئے ۔ فروعی اختلافات کو دفن کر کے اصولی معاملات کیطرف بڑھنا چاہئے ۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی وابستگیوں کو پس پشت ڈال کر قوم اور وطن کی ضرورت کو دیکھا جائے گا ۔ یہی حب الوطنی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment